یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟

تحریر : وقار رانا : یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟

راولپنڈی ٹیسٹ میچ اپنے پہلے دن کے تجزیوں، تبصروں اور ماہرین کی رائے کے مطابق انگلینڈ کی ڈرامائی انداز میں جیت پر ختم ہو گیا۔

شکست کا ذمہ دار کون ۔ ۔ ۔؟

انگلینڈ کی اس جیت کا کریڈٹ جتنا بھی ہو سکتا ہے قومی

سلیکشن کمیٹی کو دیئے جانے میں مجھے کوئی اعتراض

نہیں جنہوں نے راولپنڈی ٹیسٹ میں پلیئنگ الیون میں چار

نئے کھلاڑیوں کوموقع دے کر پہلے ہی دن میچ انگلینڈ کی

جھولی میں ڈال دیا تھا، جبکہ چیئرمین کرکٹ بورڈ رمیض

راجہ کے اس بیان پر بھی مجھے حیرت ہوئی جنہوں نے

میچ کے پہلے دن انگلینڈ کرکٹ ٹیم کو ٹی ٹونٹی پلیئرز پر

مشتمل ٹیم قرار دیا تھا جس نے قومی ٹیم یعنی ٹیسٹ الیون

کو میچ کے آخری روز شکست سے دوچار کرکے اس بات

کو ثابت کر دیا کہ دوسری کرکٹ کی طرح ٹیسٹ کرکٹ بھی

جدید اور فاسٹ ہو چکی ہے جہاں کھلاڑی مار دھاڑ کی کرکٹ پسند کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

T20ورلڈ کپ 2024، نیا فارمیٹ جاری

سیریز شروع ہونے سے قبل سلیکشن کمیٹی نے یہ بھی نہ

سوچا کہ شاہین شاہ آفریدی کی جگہ حارث رﺅف کو شامل

کر کے مزید انجرڈ پلیئرز میں اضافہ کیا جائیگا، ہم مانتے ہیں

کہ حارث رﺅف کی قومی ٹیم کیلئے بے شمار خدمات ہیں لیکن

اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انکی خدمات کی عوض انکا کیرئر داﺅ پر لگا دیں۔

محمد علی کو تیس سال کی عمر میں آپ قومی ٹیم میں ایسی

ٹیم کیخلاف سیریز میں شامل کر رہے ہیں جو عالمی چیمپئن ہے،

ٹی ٹونٹی چیمپئن کیساتھ ٹیسٹ کی بہترین ٹیم میں شامل ہے۔ محمد

علی کو اس سیریز میں کھلا کر انکا کیرئیر داﺅ پر لگانے کی مکمل

کوشش کی گئی ہے۔ زاہد محمود کو یاسر شاہ پر ترجیح دی گئی

لیکن انہوں نے ایسا کون سا تیرمار لیا جس سے یاسر شاہ جیسے ورلڈ کلاس باﺅلر کا خلاء پر ہوا ہو۔

انگلینڈ کی ٹیم باورچی بھی اپنا لے آئی

ساجد خان اور نعمان علی کہاں گئے جنہیں اس سیریز کے لئے

سلیکٹ نہیں کیا گیا۔ پھر اظہر علی کو ہی دیکھ لیں کب تک انہیں

ملک کی خدمت کیلئے ذمہ داری سونپی جائیگی؟۔ کرکٹ فاسٹ

ہو رہی ہے اس بات کا ثبوت راولپنڈی ٹیسٹ میچ میں دیکھ کر

حاصل کیا جاکستا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بلے باز موجو ہیں جن

پر اس حوالے اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ان میں ایک نام فخر زمان

کیساتھ شرجیل خان، حارث سہیل کا نام بھی شامل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہئے۔

دوسری جانب رمیض راجہ ایشیاء کپ کے پاکستان میں منعقد

کرنے کے حوالے سے اپنے سخت ردعمل کے حوالے سے

آج کل کافی سرخیوں میں ہیں اور ہونا بھی چاہئے آپ ایک

ایسے ادارے کے چیئرمین ہیں جس سے وابستہ کوئی بھی فرد

ایک سفیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسے میں کرکٹ کو سیاست

کی نذر کرنا سراسر ناانصافی ہے۔ بھارت نے ہمیشہ اپنا اثر اور

رسوخ استعمال کر کے پاکستان کی کرکٹ کو کافی نقصان پہنچایا

ہے، لیکن عوام ان دو ملکوں کے مابین سیریز کے حوالے سے کافی دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔

میں نہیں، حسنین چاچو ہے، نسیم شاہ کی ویڈیو وائرال

ایک عرصہ سے بھارت اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث کرکٹ کو

سیاست کی نذر کرنے سے باز نہیں آ رہا، اس بار رمیض راجہ

کے شانہ بشانہ پوری قوم کھڑی ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ انہیں

اسٹینڈ لینا چاہئے اور بھارت کی ٹیم ایشیاء کپ کے لئے پاکستان

نہ آنے پر اگلے برس شیڈول ورلڈ کپ کیلئے انکار کرنا ہی بہتری ہے۔

ہم پہلے بھی کئی بار پہل کر چکے ہیں اس مرتبہ ذمہ داری بھارت

کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ اس طرح پوری دنیا کو ایک پیغام

جائیگا کیونکہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے یا کسی بھی حوالے

سے ایک پر امن ملک ہے، دنیا بھر کی ٹاپ ٹیمیں یہاں آ کر کھیل

رہی ہیں، رواں برس کے اختتام پر نیوزی لینڈ بھی آجائیگا۔ اس

دوران دنیا نے دیکھا کہ کس طرح یہاں ہونیوالی سیریز سے ایک

اچھا پیغام دنیا بھر میں گیا، اور کس طرح جانا چاہئے یہ بھارت یا

اور کوئی کرکٹ بورڈ بتا دے ورنہ کرکٹ پاکستان میں ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟ ، یہ کیا ہوا ۔ ۔ ۔؟

===> دنیا بھر سے کھیل و کھلاڑیوں کی خبریں (== پڑھیں ==)

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: