یومِ پیکر وفا، شانِ اہل بیت ؑ، قمر بنی ہاشم حضرت غازی عباس علمدارؑ

لاہور ( ہدیہ عقیدت: ظہیر عباس ) یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ

آپ ؑکی ولادت با سعادت 4 شعبان المعظم 26 ہجری کو مدینہ منورہ
میں ہوئی۔ آپ نے اسوقت تک آنکھ نہیں کھولی جب تک امام حسین
علیہ السلام نے انہیں اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ بچپن ہی سے انہیں
امام حسین علیہ السلام کیساتھ مودت تھی۔ روایت ہے حضرت عباس
علیہ السلام کی پیدائش کا مقصد ہی امام حسین ّ کی مدد و نصرت تھا۔
اہلِ بیت علیہم السلام کو شرو ع سے واقعہ کربلا اور اس میں حضرت
عباس ّ کے کردار کا علم تھا۔

ناصر و محافظ اہلبیت اطہار سے متعلق وصیت فاطمہ زہراّ

بوقت آخر دختر رسول اللہ حضرت فاطمہ زہراؑ نے امیر المومنین علی
ابن ابو طالب ؑ کو وصیت کی کہ میرے بعد فاطمہ کلابیہ سے عقد کیجیے
گا، رب تعالیٰ اس کے بطن سے آپ کو ایک فرزند عطا فرمائے گا، اس
کا نام عباس رکھنا، میرا سلام بھی کہنا، وہ میرا ہی بیٹا ہوگا اور میرے
لخت جگر حسین ؑ کا وفادار اور میری بیٹیو ں کا محافظ ہو گا، چنانچہ
مولاعلی علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طا لب ؑکو متقی و بہادر
قبیلے کلابیہ کی خاتون فاطمہ سے عقد کا پیغام بھجوایا جو انہوں نے قبول
فرمایا-

مولائے کائنات ّ کا فاطمہ کلابیہّ سے عقد مبارک

حضرت علیؑ نے انہیں ام البنین کا خطاب عطا کیا، جس کے بعد آپ فاطمہ
کلابیہ سے ام البنین ؑ کے نام سے ہی معروف ہو گئیں، انہوں نے ساری
زندگی اہلبیت اطہار ؑکی کنیز بن کر بسر کی۔ رب تعالیٰ نے فاطمہ کلابیہ
کے بطن مبارک سے مولائے کائنات ّکو حضرت غازی ابولفضل عباس
سمیت چار بیٹے عطا کئے، ان سب کی شجاعت و دلیری زباں زد خاص
و عام ہے، سبھی نے میدان کربلا میں نصرت اسلام کا حق ادا کیا اور
شہید ہوئے لیکن عباس ؑان سب میں ممتاز اور نمایاں ہیں-

14 سال کی عمر میں ہی ثانی حیدرّ کہلانے لگے

حضرت علیّ نے اپنے فرزند عباسّ کی تربیت و پرورش ایک خاص
نہج پر کی، فن سپہ گری، جنگی علوم، معنوی کمالات، مروجہ اسلامی
علوم و معارف خصوصاََ علم فقہ دی۔ 14 سال کی معمولی عمر تک وہ
ثانی حیدر کہلانے لگے۔ آپؑ نے والد ماجد علی ابن ابوطالبّ کیساتھ 14
برس، بھائی امام حسن علیہ السلام کے ہمراہ 9 اور امام حسینّ کیساتھ
11 برس گزارے۔

= پڑھیں = فرمان رسول ْ جس کا میںْ مولا ، اس کا علیّ مولا

آپّ نے چار معصوم ہستیوں کا زمانہ درک کیا، امیر المومنین، امام حسن،
امام حسین اور امام زین العابدین علیہ السلام، آپ کا اسم مبارک ’’عباس‘‘
خود امیر المومنین ّ نے اپنے چچا عباس بن عبد المطلب ّکے نام پر رکھا۔
آپ کے القاب میں ابوالفضل، قمر بنی ہاشم، باب الحوائج، سقا، علم دار
کربلا، ابوالقریہ، ابوالقاسم، عبدالصالح، المواسی، پاسدار و پاسبان حرم،
اور عبد صابر زیادہ معروف ہیں۔ آپکی کنیت ابوالفضل زیادہ معروف ہے۔

’’باب الحوائج‘‘ کا لقب عہد امام حسن مجتبیٰ ّ میں ملا

امیر المومنین علی ابن ابو طالبّ آپ کے بارے میں فرماتے ہیں میرے
فرزند عباس نے اس طریقے سے مجھ سے علم و دانش حاصل کیا جس
طرح پرندے کا بچہ ماں سے دانہ پانی حاصل کرتا ہے۔ ’’باب الحوائج‘‘
کا لقب آپ ؑ کو امام حسن مجتبیٰ ّ کے زمانے میں اُس وقت ملا جب آپّ
کریم اہل بیت کے عطا کردہ تحائف، ہدایا اور اشیاء کو مستحق افراد کے
درمیان تقسیم فرما یا کرتے تھے۔

جنگِ صفین میں آپّ علیّ نظر آئے

امیر المومنین خلیفتہ المسلمین حضرت علی ؑکیخلاف گورنر شام معاویہ
بن ابوسفیان نے جنگ صفین مئی تاجولائی 657 ء مسلط کروائی، اس
جنگ میں حضرت عباسؑ نے حضرت علی ؑکا لباس زیب تن کیا اور
بالکل اپنے والد مولاعلی ؑکی طرح زبردست جنگ کی، حتیٰ کہ لوگوں
نے ان کو علیؑ ہی سمجھا۔ جب مولا علی ؑبھی میدان میں داخل ہوئے تو
لوگ ششدر رہ گئے۔

سرکار وفا کا تعارف بازبان مولا علیؑ

جنگ صفین میں مولاعلی ؑنے اپنے فرزند عباسّ کا تعارف کرواتے
ہوئے کہا یہ عباس ؑ اور بنو ہاشم کے چاند ہیں، اسی وجہ سے حضرت
عباس ؑکو قمرِ بنی ہاشم کہا جاتا ہے۔ تاریخ نے شجاعتِ حضرتِ عبّاس
کو اس طرح نقل کیا ہے کہ وہ بلندی میں کوہِ عظیم کی مانند، قوّت میں
ان کا قلب بلند و وسیع پہاڑ کی طرح، شجاعِ بے مثال شیرِ ضرغام تھے،
جنگ میں کفار ہمّت اور مردانگی کی داد دیتے تھے۔

= مزید پڑھیں = مظلوم کربلاّ کی ولادت کا روز ہے ۔۔

روایت میں ہے جنگِ صفین میں ایک جوانِ نقاب دار لشکرِ امیرالمومنین
سے نکلا جس سے ہیبت اور شجاعت ظاہر ہوتی تھی، جس کی عمر تقریبا
سولہ سال ہو گی اور جنگ کرنے کیلئے مبارز طلب کرنے لگا، شامی فوج
کے سربراہ نے ابوشعثاء کو حکم دیا، جنگ کرے- ابو شعثاء نے کہا شام
کے لوگ مجھے ہزار سوار کے برابر سمجھتے ہیں، میرے سات بیٹے
ہیں میں ان میں سے ایک کو بھیجتا ہوں، وہ اس کا کام تمام کر دیگا-

= یہ بھی پڑھیں = بیت اللہ میں علی  ّ کی ولادت کا راز!

ابوشعثاء نے اپنے ایک بیٹے کو بھیجا وہ قتل ہو گیا اسی طرح اس نے
اپنے ساتوں بیٹوں کو بھیجا اور سب قتل ہوتے رہے، ابو شعثاء نے جب یہ
دیکھا تو دنیا اسکی نظر میں تاریک ہو گئی وہ خود بھی میدان میں آیا اور
جہنم واصل ہوا، جب لوگوں نے شجاعت کے اس ٹھاٹیں مارتے سمندر کو
میدان میں دیکھا تو کسی کی ہمت نہ ہوئی کہ کوئی اس شجاع بے مثال کے
مقابلہ میں جاتا، وہ جوان لشکر کی طرف پلٹ گیا- اصحاب امیرالمومنین
حیرت زدہ تھے یہ جوان کون ہے، لیکن جب نقاب رخ سے ہٹی تو پتا چلا
قمرِ بنی ہاشم حضرتِ ابوالفضل العباسّ ہیں۔

آپّ کی ذات گرامی کی نمایاں ترین صفت سراپا اطاعت

آپّ کی ذات گرامی کی نمایاں ترین صفت اپنے امام کا مطیعِ محض ہونا ہے۔
چاہے امام حسن مجتبیّٰ کی حیات طیبہ کا دور ہو یا اس کے بعد آپ کی شہادت
کے موقع پر پیش آنیو الے دردناک واقعات ہوں، سید الشہدا امام حسینّ کی
حیات طیبہ ہو یا پھر روز عاشور پیش آنیوالے واقعات، آپ سراپا اطاعت تھے۔

واقعہ کربلا اور حضرت عباس ؑ

واقعہ کربلا کے وقت حضرت عباس ؑکی عمر تقریباً 33 سال کی تھی۔
امام حسین ؑنے آپؑ کو لشکر حق کا علمبردار قراردیا۔ لشکر امام حسین ؑ
72 جانثاروں مشتمل تھا، اور لشکر یزیدی کی تعداد تیس ہزارسے زیادہ
تھی مگر حضرت عباس ؑکی ہیبت و دہشت لشکر یذید پر چھائی ہوئی تھی۔
کربلا میں کئی ایسے مواقع آئے جب عباس ؑجنگ کا رخ بدل سکتے تھے
لیکن امام وقت نے انہیں لڑنے کی اجازت نہیں دی کیونکہ اس جنگ کا
مقصد دنیاوی لحاظ سے جیتنا نہیں تھا۔

فضیلت عباسّ با زبان امام جعفر صادقّ

امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت ابوالفضل العباس ؑکی عظمت و جلالت
کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتے میرے چچا عباسّ کامل بصیرت کے حامل،
بڑے مدبر و دور اندیش تھے، انہوں نے حق کی راہ میں بھائی کا ساتھ دیا
اور جہاد میں مشغول رہے یہاں تک کہ درجۂ شہادت پر فائز ہو گئے آپ
نے بڑا ہی کامیاب امتحان دیا اور بہترین عنوان سے اپنا حق ادا کر گئے۔

مقام عباسّ امام حسینّ کی نظر میں

آپّ کی ذات والا صفات امام حسینّ کیلئے اُسی مقام کی حامل رہی جو
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی ذات کیلئے امیر المومنین علیّ
کی شخصیت حامل رہی۔ امام حسینّ عباسّ سے فرمایا کرتے، میری جان
تم پر قربان، آپؑ کی شہادت کے بعد فرمایا، اے میرے بھائی اب میری
کمر ٹوٹ گئی۔ آپ نے 61 ہجری میں روز عاشور امام حسینّ کے ہمراہ
شہادت پائی۔

عباسّ کی وفاداری رہتی دنیا تک ضرب المثل بن گئی

آپّ کی امام حسین ؑ کیساتھ کربلا میں وفاداری ایک ضرب المثل بن گئی،
وہ شہنشاہِ وفا کے طور پر مشہور ہیں، اطاعت امام وقت اور وفا اگر کوئی
سیکھنا چاہے تو اسے ” باب الحوائج "حضرت ابوالفضل عباس علمدار ؑ
سے ہی سیکھنا چاہییے۔

امام سجادّ کا سرکار وفا سے متعلق دربار یزید میں تاریخی جملہ

امامِ سجّادّ نے دربار یزید میں دیئے گئے اپنے خطبہ میں ایک تاریخی
جملہ حضرتِ عبّاس کیلئے ارشاد فرمایا کہ میرے چچا عباسّ اس خاندان
سے تعلّق رکھتے ہیں جنہوں نے علم کو غذا کی طرح کھایا ہے، جب یزید
نے یہ جملہ سنا تو بے اختیار اس کی زبان سے نکلا اس کلمہ کو عرب
پرندے کو غذا دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں، اسلیے ” زقوالعلم زقا” کا
مطلب ہے خاندان پیامبر اپنی اولاد کو بچپنے میں ہی علم سے آراستہ کر
دیتے ہیں۔

معصومینّ کی جانب سے غازی عباس ّ کیلئے 11 زیارت نامے

حضرت غازی ابوالفضل العباسّ ایسے امام زادے ہیں جن کیلئے معصومین
علیہ السلام کی جانب سے 11 زیارت نامے وارد ہوئے ہیں، جن میں سب سے
زیادہ معروف وہ زیارت ہے جو فرزند رسول امام جعفر صادق علیہ السلام
کی زبانی وارد ہوئی،’’ السلام علیک یا ایھا العبد الصالح المطیع للہ ولرسولہ‘‘-

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ،
جتن انتظامیہ

یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ ، یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ ، یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ
یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ ، یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ ، یوم پیکرِ وفا غازی عباس علمدارّ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: