کے پی حکومت و لمپی سکن وائرس: سَچ اَور جُھوٹ میں چار اُن٘گَل کا فَر٘ق ہے۔!

کالمز، بلاگز، فیچرز/ کے پی حکومت و لمپی

عید قرباں آنیوالی ہے ھمارے آس پاس موجود کچھ لوگ قربانی کے جانور کی خریداری میں خوفزدہ دکھائی دے رہےہیں

اور کچھ محتاط، ایسے لوگ بھی ہیں جنکی باتیں سن کر ایسا لگتا ہے وہ لمپی سکن بیماری کو

مبینہ طور پر انسانی زندگیوں کا دی اینڈ قرار دے رہےہیں، یہ حضرات اتنا لمپی لمپی کا ڈھول بجائیں گے

اور بیماری خود ہی جانوروں میں سے باہر نکل بھاگ جائے گی سوشل میڈیا پر کوئی گوشت کے لوتھڑے سامنے

رکھ کر اپنی بات منوانے پر بضد ہے تو کوئی گلی محلے اور بازاروں میں یہ کہتے نہیں تھکتا کہ

بھائی میں تو اس عید پر خود اور اپنے بچوں کو گائے بھینس سے دور ہی رکھونگا، 

دہشت کی علامت لمپی وائرس اور پشاوری قہوہ

تو دوسری طرف جوں جوں عید کے دن قریب آرہے ہیں لوگوں کا عید پر بڑے جانور کی قربانی کے بارے میں قوت فیصلہ کمزور ہوتا نظر آرہا ہے، گزشتہ روز اپنے دوست الیکٹرک تاجر وسیم گل کے سٹور پر بیٹھا تو لڑکے نے قہوہ پیش کیا ابھی قہوے کی پیالی منہ سے لگائی کہ وہاں موجود کسی نے دہشت کی علامت "لمپی وائرس” کی بات چھیڑ دی میں ہنس پڑا کیونکہ کچھ ہی دیر پہلے جنرل سٹور پر موجود کچھ لوگ لمپی کی اچانک آمد اور اس کے انسانی زندگیوں پر منڈلاتے خطرات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے سنائی دیئے،

پڑھیں۔ یہ چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے؟ پتوکی، پاپڑ فروش کی موت ایک دلخراش واقعہ

تاہم لمپی سکن کے بارے میں لوگوں کی رائے سننے کے باوجود وسیم گل کے چہرے پر اطمینان اور ہلکی مسکراہٹ، دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ وسیم گل اینڈ برادرز ہر بکرا عید پر قربانی کیلئے پنجاب سے چارُو قسم کے بیل منگواتے ہیں، کم سے کم دو بیل تو غرباء و مساکین میں تقسیم کردیئے جاتے ہیں، اب ہر عید سے چند روز پہلے ہی جانور منگوانے اور اس سال بھی یہی ارادہ رکھنے والے شخص کی لمپی وائرس کو محسوس ہی نہ کرنا جہاں لمپی کیلئے شرمندگی کا باعث ہے وہیں پر مجھے بھی تھوڑا بہت اندازہ ہو ہی گیا کہ لمپی وائرس انسانوں میں منتقل ہوتا ہے یا نہیں۔۔، بہرحال یہ کہتے ہوئے رخصت لی کہ کل اس حوالے سے عوامی آگاہی کے لئے معلومات پر مبنی آرٹیکل آئے گا۔ اب ذرا لمپی سکن کے بارے معلومات،حکومتی اقدامات پر ایک نظر۔۔

لمپی سکن وائرس ہے کیا اور اس کے پیدا ہونے کی وجہ۔؟

لمپی وائرس جدید بیماری نہیں اس کا شمار جانوروں میں پائی جانیوالی ایک صدی پرانی بیماریوں میں ہوتا ہے

یہ بیماری افریکہ، سری لنکا ، انڈیا اور انڈونیشیا سے ہوتے ہوئے پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب تک پہنچی

جہاں یہ بیماری2021 کے آخر میں جانوروں میں سامنے آئی اور لمپی وائرس سے 54 جانور ہلاک ہوچکے ہیں

جبکہ تقریبا 5 ہزار جانور اس بیماری سے علاج کے بعد صحت یاب ہوچکے ہیں ماہرین کا کہنا ہے

انسان چیچک، منکی پاکس کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اسطرح جانوروں کوبھی لمپی سکین کی بیماری لاحق ہوتی ہے

تاہم جانوروں میں یہ بیماری خون چوسنے والی مکھی اور مچھروں کے کاٹے سے ہوتی ہے بتایا گیا کہ

دیسی جانور پر بیماری کا اثر کم ہوتا ہے اسکے مقابلے میں فارمز کے جانور جلد ہی متاثر ہوتے ہیں

اور بروقت علاج نہ ہونے سے انکے جسم میں دانے پھیل کر زبان تک پہنچتے ہیں

جن میں پیپ پس پڑ جانا ان جانوروں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔

لمپی سکن بیماری انسانی صحت کیلئے نقصان دہ نہیں ہے اور نہ ہی انسانوں کو منتقل ہوتی ہے، لائیو سٹاک خیبرپختونخوا

محکمہ لائیو سٹاک خیبرپختونخوا کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں عوام الناس کو آگاہ کیا ہے

کہ جانوروں میں پھیلنے والی بیماری لمپی سکن سے انسانی جانوں کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا یہ بیماری

جانوروں سےانسانوں کو منتقل ہوہی نہیں سکتی صرف جانور سے دوسرے جانور کو یہ بیماری منتقل ہوتی ہے

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ اور عالمی ادارہ خوراک ایف اے او یا کسی بھی

بین الاقوامی یا قومی تحقیق کے مطابق لمپی سکن بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل نہیں ہوتی ہے۔

لمپی سکن بیماری سے متاثرہ جانور کا گوشت دودھ اور دیگر اعضاء انسانوں کے لیے قابل استعمال ہے

ترجمان کے مطابق خیبرپختونخوا میں اس بیماری کا پہلا کیس 22 اپریل 2022 کو ڈی آئی خان میں سامنے آیا

جس کے بعد سے اب تک پانچ ہزار تین سو 41 کیسز صوبے کے بیشتر اضلاع سے رپورٹ ہوچکے ہیں

بیماری کی بروقت تشخیص مویشیوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول، مچھروں اور چیچڑوں سے

بچانے اور حفاظتی ٹیکہ جات اس بیماری کے تدارک میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کے پی گورنمنٹ کا لمپی سکن وائرس سے بچاؤ کیلئے ویکسین ترکی سے درآمد، پرونشل ٹاسک فورس کا قیام

خیبرپختونخوا حکومت نے ہنگامی طور پر لمپی سکن بیماری سے بچاؤ کیلئے اقدامات اٹھاتے ہوئے پرونشل ٹاسک فورس کا قیام

اور ڈیزیز رپورٹنگ کام اثر نظام متعارف کرایا اس کے علاوہ بین الصوبائی اور بین الاضلاعی سرحدوں پر جانوروں کی

نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے 56 چیک پوسٹوں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے

چیک پوسٹوں سے گزرنے والے مویشیوں اوران کو لانیوالی گاڑیوں پر چیچڑ مار ادویات کا سپرے کیا جاتا ہیں

تاکہ بیماری پھیلنے کے خطرے کو کم سے کم کیا جاسکے،

صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان اور سیکرٹری ڈاکٹر محمد اسرار کی ہدایت کے مطابق محکمہ کے افسران روزانہ کی بنیاد پر بیماری کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات اور تدارک میں پیشرفت کے حوالے سے جائزہ لے رہے ہیں اور تمام ٹیمیں روزانہ کی کارکردگی اور اہداف کے حصول پر مبنی رپورٹس پیش کررہی

ویکسینیشن کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ لائیوسٹاک خیبرپختونخوا نے لمپی سکن بیماری کی ویکسین ترکی سے درآمد کی،

اور اب تک متاثرہ اضلاع میں 50 ہزار سے زیادہ جانوروں کو حفاظتی ٹیکے لگوائے جاچکے ہیں

ترجمان نے عوام الناس سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ مذکورہ بیماری کے انسانوں میں

منتقل ہونے یا کسی قسم کے خطرے کی افواہوں پر کان نہ دھریں۔

یہ بھی پڑھیں۔ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین متوفی یا مقتول۔۔؟

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

کے پی حکومت و لمپی

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: