کینیا: پاکستانی تحقیقاتی ٹیم خرم اور وقار تک پہنچ گئی، بھائیوں نے کیا بیان دیا۔۔؟

مانیٹرنگ ڈیسک/ کینیا: پاکستانی تحقیقاتی ٹیم

کینیا نیروبی میں 23اکتوبر کی شب مارے جانیوالے پاکستانی سینئر صحافی ارشد شریف شہید کے قتل کیس کی تحقیات کیلئے

پاکستان حکومت کیجانب سےدو رکنی تحقیقاتی ٹیم کینیا میں موجود ہےاور مزکورہ کیس کے مختلف پہلوؤں سےچھان بین کررہی ہے

آج شہید صحافی کیساتھ بطورڈرائیور اورمیزبان موجود دونوں بھائیوں سے قتل کیس متعلق پوچھ گچھ کرنیکی خبر سامنے آئی ہے ،

پاکستانی تحقیقاتی افسران کی کینیا میں وقار احمد اور خرم احمد سے سوالات

ٹیم نے دونوں بھائیوں سے واقعے سے متعلق سوالات کیے پاکستان کے بڑے میڈیا گروپ جنگ نیوز نے ذرائع سے ملنے والی معلومات کی روشنی میں رپورٹ شائع کی ہے

جس میں یہ کہا گیا ہے کہ وقار احمد نے تحقیقاتی ٹیم کو دیے گئے بیان میں کہا ہے کہ

ارشد شریف میرے گیسٹ ہاؤس پر 2 ماہ سےقیام پزیر تھے، کسی دوست نےارشد شریف کی میزبانی کاکہا تھا۔

انہوں نے بیان میں کہا ہے کہ نیروبی سے قبل ارشد شریف سے صرف ایک بار کھانے پر ملاقات ہوئی تھی،

نیروبی سے باہر اپنے لاج پر انہیں کھانے پر مدعو کیا تھا۔ وقار احمد نے بیان میں کہا ہے کہ

واقعے کے روز ارشد شریف نے لاج پر ساتھ کھانا کھایا، کھانے کے بعد ارشد شریف میرے بھائی خرم کیساتھ

گاڑی میں نکلے، آدھے گھنٹے بعد گاڑی پر فائرنگ کی اطلاع آئی۔

متعلقہ خبریں پڑھیں۔۔

خرم احمد نے تحقیقاتی ٹیم کو بیان میں کہاکہ لاج سے نکلنے کیبعد 18 کلومیٹر کا کچا راستہ ہے

اور پھر سڑک شروع ہوتی ہے،

سڑک شروع ہونے سے تھوڑا پہلے کچھ پتھر رکھے تھے، پتھروں کو کراس کرتے ہی فائرنگ ہو گئی،

فائرنگ سے خوفزدہ ہو کر میں نے گاڑی بھگا لی۔

وقار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ خرم واقعے کے دوران معجزانہ طور پر محفوظ رہے،

ارشد شریف کے زیرِ استعمال آئی پیڈ اور موبائل فون کینیا کے حکام کے حوالے کر دیے۔ ارشد شریف کو

پولیس نے سر میں گولی مار کر قتل کیا

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ ۔۔۔۔

= پڑھیں = دنیا بھر سے مزید تازہ ترین اور اہم خبریں

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: