بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازع شدت اختیار کر گیا

کرناٹک (جے ٹی این پی کے) کرناٹک میں حجاب کا تنازع شدت

بھارتی ریاست کرناٹک میں حجاب کا تنازع شدت اختیار کر گیا،

انتہا پسند جماعت بی جے پی کے سٹوڈنٹس ونگ کے کارکنوں نے کالجوں میں غنڈہ گردی شروع کردی،

با حجاب لڑکیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش بھی کی جبکہ نڈر مسلم طالبہ نے غنڈوں کے سامنے ‘ اﷲ اکبر ‘ کا نعرہ لگادیا۔

نریندر مودی کے دیس میں مسلمانوں پر زمین تنگ کرنے کا سلسلہ جاری ہے،

ریاست کرناٹک میں باحجاب طالبات پر کالجوں کے دروازے بند کردیئے گئے،

ایک نڈر لڑکی حجاب پہن کر کالج میں داخل ہوئی تو بی جے پی کے غنڈے اس پر ٹوٹ پڑے،

یہ بھی پڑھیں:پاک افغان سرحد پر برفانی تودہ گرنے سے20 افراد جاں بحق

نہتی لڑکی نے انتہا پسندوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نعرہ تکبیر بلند کیا۔

اپنی بچیوں کی حمایت میں کرناٹک کی خواتین بھی باہر نکل آئیں اور انتہا پسند ہندوؤں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا اعلان کردیا۔

مسلم لیڈر اسد الدین اویسی نے نعرہ تکبیر بلند کرنیوالی لڑکی کو خراج تحسین پیش کیا۔

دن بھر بی جے پی کے غنڈوں کی غنڈہ گردی جاری رہی، جب میڈیا کے کیمرے پہنچ گئے اور بات پھیلنے لگی تو پولیس بھی حرکت میں آگئی۔

مسلم طالبات کا کہنا ہے کہ وہ دہائیوں سے حجاب پہن کر کالج آتی ہیں،

اب انتہا پسندوں کے ڈر سے وہ اپنے حجاب نہیں اتاریں گی اور ہر میدان میں بھرپور مقابلہ کرینگی۔

 

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: