کاغذ مہنگا ہونے کے بعد تعلیم کے شعبےکو نئے بحران کا خطرہ لاحق

لاہور( احمد بلال سے ) کاغذ مہنگا ہونے کے بعد تعلیم

کاغذ کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافے کے بعد تعلیمی شعبے میں نیا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

بتایا گیا ہے کہ کاغذ کی قیمتوں میں 100 فیصد اضافے کے بعد پبلشرز کے لیے نئی کتابیں چھاپنا ممکن

نہیں رہا، جس کے باعث دینی اور عصری تعلیمی شعبے کو نیا بحران کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

قیمت 105 سے بڑھ کر 210 روپے فی کلو تک پہنچ گئی

کاغذ کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران پیپر ملوں نے چار بار کاغذ

کی قیمتوں میں اضافے کیا ہے جس کے بعد اس دوران کاغذ کی قیمت 105 سے بڑھ کر 210 روپے فی کلو

ہو چکی ہے۔ پبلشرز نے فیصلہ کیا ہے کہ لوکل کاغذ پر قرآن پاک اور قرآنی قاعدے نہیں چھاپے جائیں گے۔

ٹیکسٹ بورڈ کے ٹینڈر اٹھانے والے بھی پریشان

کاغذ کی قیمت بڑھنے سے ٹیکسٹ بورڈ کے ٹینڈر اٹھانے والے بھی پریشان ہیں کیونکہ پبلشرز نے 190 روپے

کلو کے حساب سے ٹینڈر لیا تھا جبکہ اب کاغذ کی قیمت 210 روپے کلو ہو گئی ہے۔ دوسری طرف والدین کا کہنا

ہے بچوں کی کاپیاں اور رجسٹرڈ جو پہلے 1000سے1500روپے میں آجاتے تھے اب وہ 3000 روپے سے بھی زائد

تک پہنچ چکے ہیں۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

کاغذ مہنگا ہونے کے بعد تعلیم

= — = تعلیم سے متعلق مزید خبریں (== پڑھیں ==)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: