ڈاکٹر عامر لیاقت حسین متوفی یا مقتول۔۔؟

کالمز، بلاگز، فیچرز / ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

پاکستان کے معروف و مشہور ٹی وی اینکر اور سابق ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 9 جون بروزِ جمعرات کو اپنی ہائشگاہ واقع کراچی میں مردہ حالت میں پائے گئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی، بعدازاں انہیں 10 جون کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

دنیا کی 500 مسلم بااثر شخصیات میں شامل عامر لیاقت کی زندگی پر ایک نظر

کراچی کے علاقہ محمد کالونی میں 5 جولائی 1971 کو آنکھ کھولنے والے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی

مادری زبان اردو تھی وہ سیاستدان، براڈ کاسٹر، ٹیلی ویژن پر میزبان، کالم نگار، مصنف ہونے کیساتھ ساتھ

مذہبی سکالر بھی تھے، 2002 تا 2016 تک سیاسی جماعت ایم کیو ایم کیساتھ منسلک رہے، 2002 میں

حلقہ این اے 249 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور 2005 میں وفاقی وزارت مذہبی امور کا قلمدان

سنبھالا، بعدازاں انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی

اور 13 اگست 2018 کو حلقہ 245 کراچی شرقی سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے، وہ

2014 میں دنیا کی 500  بااثر شخصیات میں سے ایک شخصیت قرار دیئے گئے۔

عامر لیاقت نے پہلی شادی بشریٰ اقبال سے کی دو بچے بھی ہوئے

انہوں نے پہلی شادی سیدہ بشریٰ اقبال سے کی، جن سے ان کے دو بچے ہوئے، تاہم یہ تعلق 2020 تک

برقرار رہا، بھر دونوں میں علیحدگی ہو گئی۔ 2018 میں انہوں نے پاکستانی ماڈل اور اداکارہ سیدہ طوبیٰ

سے دوسری شادی کی لیکن فروری 2022 میں انہوں نے بھی عامر لیاقت سے خلع لے لی۔ 5 فروری

2022 کو لودھراں سے تعلق رکھنے والی 18سالہ دانیہ شاہ سے انہوں نے تیسری شادی کی جو زیادہ

عرصہ نہ چل سکی اور دونوں میں شدید اختلافات پیدا ہو گئے، اور دانیہ شاہ نے بھی شدید الزامات عائد

کرتے ہوئے نہ صرف خلع کا مطالبہ کیا بلکہ عدالت سے بھی رجوع کر لیا۔

زندگی کے آخری ایام میں الزامات کی زد میں رہے، پریشان حالی میں گزارے

ڈاکٹر عامر لیاقت نے انہی الزامات اور تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کی جانب سے اپنی نازیبا ویڈیو وائرال کئے

جانے پر دلبرداشتہ ہو کر ملک چھوڑنے کا اعلان بھی کیا تھا، یہاں یہ بات بھی قابل توجہ سے کہ تیسری

شادی کے الزامات اور ویڈیوز شیئر کئے کیے جانے کے بعد وہ کچھ ہفتے منظر عام سے بھی غائب رہے۔ 

انتقال سے کچھ روز قبل وہ پہلی سابقہ اہلیہ سے ہونے والے بچوں کے ہمراہ سوشل میڈیا پر شیئر کردہ ٹویٹ

میں نظر آئے اور بعدازاں ان کے مرنے کی خبر سامنے آ گئی، قیاس کیا جا رہا ہے کہ تنازعات ہی ان کی

موت کا سبب بنے، تاہم ان کی اچانک موت سے جنم لینے والے شکوک و شبہات کے باعث کراچی کے ایک

شہری عبد الاحد نے مقامی عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے اپیل کی کہ ڈاکٹر عامر لیاقت کا پوسٹمارٹم

کرایا جائے اور عدالت نے اپیل کے سماعت کے بعد دو روز قبل احکامات جاری کرتے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ

سندھ کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے جبکہ مقامی پولیس کو قبر کشائی اور پوسٹمارٹم کے حوالے سے انتظامات

مکمل کرنے کا حکم دیدیا۔

ورثاء کی تمام حوالوں سے مرحوم کا پوسٹمارٹم رکوانے کی کوششیں

دریں اثناء مرحوم عامر لیاقت کے بچوں احمد عامر اور دعا عامر نے والد کے پوسٹمارٹم نہ کرانے کے حوالے

سے درخواست دائر کرادی، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی ہے

نہ ہی کوئی تنازع چلا آرہا ہے، لہذا وہ پوسٹ مارٹم کرانے پر راضی نہیں ہیں۔

شریعت چیڑ پھاڑ کی اجازت نہیں دیتی، سابق اہلیہ بشریٰ اقبال

ڈاکٹر عامر لیاقت کی سابقہ اہلیہ بشریٰ اقبال نے بھی یہ موقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان کے مرحوم خاوند

کی روح کو تکلیف پہنچے گی اس لئے پوسٹمارٹم نہ کرانے کی درخواست دے رکھی ہے، انہوں نے اپنے

ٹویٹر پیغام میں بھی یہ کہا ہے کہ شریعت بھی مردے کے چیڑ پھاڑ کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

سماجی تنظیم کی عدالت سے دانیہ شاہ کیخلاف کاروائی کا حکم دینے کی اپیل 

اس دوران دانیہ ملک کیخلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی جنوبی کی عدالت میں ایک

سماجی تنظیم کی جانب سے درخواست دائر کی گئی ہے عدالت وفاقی تحقیقاتی ایجنسی

( ایف آئی اے ) کو دانیہ شاہ کیخلاف کارروائی کا حکم دے کیونکہ اس نے عامر لیاقت کی

نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کیں، انکا یہ اقدام دنیا بھرمیں پاکستانی خواتین کی

عزت مجروح کرنے اور ان کے سر شرم سے جھکانے کے مترادف ہے۔ تاہم اس درخواست

کی سماعت ابھی مقرر نہیں ہوئی۔

دانیہ شاہ کا سماجی تنظیم لہ عدالت میں دائر اپیل پر شدید ردعمل

سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت کی تیسری اہلیہ دانیہ ملک نے اپنے خلاف عدالت میں درخواست

دائر کئے جانے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہاں لکھا ہے خاوند بیوی کو معاف کردے اور

اس کے مرنے کے بعد زمانہ بیوی کی گرفتاری کے پیچھے لگ جائے۔ یہ ردعمل دانیہ ملک کے انسٹاگرام

اکاونٹ سے ویڈیو کی صورت میں جاری کیا گیا جس میں ایک خاتون دانیہ کی طرف سے پیغام دیا کہ دانیہ اس

وقت عدت میں ہے اور اس کا کہنا ہے میرے خاوند نے مجھے معاف کر دیا تھا، وہ ایک بہت بڑا عالم تھا اور

اس نے یہ بھی کہا تھا کہ میری بیوی کیلئے گھر کے دروازے کھلے ہیں، انتقال سے چار روز قبل بھی اس نے

کہا تھا کہ میں صلح کرنا چاہتا ہوں۔ اب کیسی گرفتاری، ایسا کون سا قانون ہے؟ خاص طور پر میڈیا لوگوں میں

نفرت پھیلا رہا ہے۔ ویڈیو میں کہا گیا کہ باقی سوالوں کے جواب دانیہ عدت کے بعد دے گی۔

عامر لیاقت کو دنیا سے جانے کے بعد تو آرام کرنے دو، اشنا شاہ

اسی طرح پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور ورسٹائل اداکارہ و ماڈل اشنا شاہ نے بھی مر حوم ڈاکٹرعامر

لیاقت کی قبر کشائی پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئٹر پر جاری اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ

اس شخص کو اب اس دنیا سے جانے کے بعد تو آرام کرنے دو۔ مرحوم کا جسدِ خاکی نکالنا، ان کے بچوں

کو مزید اذیت دیگا جبکہ وہ پہلے ہی کافی اذیت سے گزر چکے ہیں۔

عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹمارٹم کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیدیا گیا

18جون کو کراچی کی عدالت کی جانب سے عامر لیاقت کی قبر کشائی و پوسٹمارٹم کے احکامات کے

بعد سندھ حکومت نے 6 رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیدیا ہے جس کی سربراہی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ

سید ہیں جبکہ ارکان میں ایڈیشنل پولیس سرجن عباسی شہید ہسپتال ڈاکٹر شاہد نظام، سربراہ سندھ میڈیکل

یونیورسٹی شعبہ فرانزک میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر پرویز مخدوم، شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لیاری

کے شعبہ فرانزک میڈیسن کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ہری رام، سول ہسپتال کراچی کے میڈیکو لیگل آفیسر

ڈاکٹر گلزار علی سولنگی اور جناح پوسٹ میڈیکل کالج کے ڈاکٹر محمد اریب شامل ہیں۔

پوسٹمارٹم نہ کرانا پولیس کی عدم توجہی، مبینہ غفلت یا اور کچھ۔،

ڈاکٹر عامر لیاقت ایک معروف شخصیت تھے، ملک اور بیرون ملک مقیم ان کے لاکھوں مداح ہیں جو ان کی اچانک موت پر افسردہ ہیں ان کی پراسرار موت سے مداحوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور۔۔،

یہ شبہ زبان زد ہے کہ

مرحوم کو جائیداد کے تنازع پر قتل نہ کیا گیا ہو، اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے ان کی موت کے فوری بعد عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آ گئی لیکن مقامی پولیس ان اہم نکات سے کیوں غافل رہی حالانکہ ایک مریض کے میڈیکل آپریشن کیلئے خاندان کے افراد کی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے اگر مردہ انسانی لاش برآمد ہو اور اس میں معمولی شک کی گنجائش رہے تو ایسے میں پولیس اور ڈاکٹرز کو پوسٹمارٹم کرنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے ایسی صورتحال میں پولیس کی چشم پوشی معنی خیز ہے۔ 

ھم نے ماضی سے کیا سیکھا۔۔۔۔۔؟

ماضی میں کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ پر اسرار ہلاکتوں کے پوسٹمارٹم کے بعد اصل حقائق سامنے آئے جن میں بعد ازاں قاتلوں کی گرفتاریاں ہوئیں اور انہوں نے اعتراف قتل بھی کیا، ایسا بھی ہوا کہ کسی مقتول کے پوسٹمارٹم کرانے کیخلاف اس کے اہلخانہ نے ہی پولیس کو منع کیا تاہم بعدازاں معلوم ہوا قاتل ہی اہلخانہ میں شامل ایک یا ایک سے زائد افراد ہیں، جس کی وجہ غیرت کے نام پر قتل یا پھر جائیداد کا تنازعہ سامنے آیا، اسی طرح ایک نوجوان جس کی موت نہاتے ہوئے ڈوب جانے سے ہوئی لیکن چار سال بعد شک گزرنے پر جب اسکا پوسٹ مارٹم کرایا گیا تو معلوم ہوا نوجوان خود ڈوب کر جاں بحق نہیں ہوا بلکہ دوستوں نے ڈبو کر اس کی جان لی ہے۔ 

انصاف عدالت یا میڈیا کا دروازہ کھٹکھٹانے سے نتھی لیکن کیوں۔۔؟

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مرحوم کی سابق اہلیہ اور بچے قبرکشائی جسم کا پوسٹمارٹم کرانے کیخلاف ہیں اور اس حوالے سے درخواستیں بھی جمع کرائیں جبکہ کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک شہری نے مقامی عدالت میں پوسٹمارٹم کرانے کیلئے درخواست دی جس کے مضبوط موقف کی بنا پر عدالت نے عامر لیاقت کی قبرکشائی اور پوسٹمارٹم کا حکم صادر کیا، یہاں سوال یہ بھی ہے اگر شہری کی جانب سے درخواست عدالت کو نہ دی جاتی تو بہت سارے کیسز کی طرح عامر لیاقت کے کیس میں بھی انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو پاتے۔

قصہ مختصر یہ کہ

پولیس اور طبی عملے کو اول روز ہی قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے تھی تاکہ معاملہ الجھنے کی بجائے سلجھ جاتا، ہماری عدالت سے بھی استدعا ہے کہ متوفی کے پوسٹمارٹم میں تاخیر کی بھی انکوائری کرانے سمیت غفلت کے مرتکب افسران کو سزا  دے تاکہ آئندہ ایسے واقعات میڈیا یا سوشل میڈیا پر ٹرینڈز نہ بنیں۔

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: