چین اور بھارت میں جدید ٹیکنالوجی کے غلط و درست استعمال کے منفرد انجام

بیجنگ، نئی دہلی (جے ٹی این پی کے نیوز) چین اور بھارت میں جدید ٹیکنالوجی

عہد حاضر کو جدید ٹیکنالوجی کا دور کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، تاہم اس
ٹیکنالوجی کا کہیں غلط تو کہیں درست استعمال کرنے سے متعلق خبریں بھی
روز کا معمول بن گئی ہیں، ایسے ہی چین میں ایک نوجوان کو ٹیکنالوجی کا
غلط استعمال کرنے پر لینے کے دینے پڑ گئے اور وہ سلاخوں کے پیچھے
دھکیل دیا گیا جبکہ بھارت میں لگ بھگ نصف صدی سے بچھڑے بین بھائی
مل گئے-

چینی نوجوان نے ساتھی خاتون کے آئینے میں جاسوسی آلات نصب کر دیئے

تفصیلات کے مطابق جین میں ژانگ نامی شخص ایک آن لائن سٹور کا مالک ہے
جو خفیہ کیمرے فروخت کرتا ہے۔ آئینے میں نصب کر کے اس نے 200 سے زائد
جاسوسی آلات فروخت کیے اور اپنی ساتھی کو یہ تحفے میں دیا۔ خاتون لی نے کہا
کہ میں نے اس سے کہا تھا کہ وہ میرے لیے آئینہ رکھے۔ یہ ایک ہلکی فریم والا
شیشہ ہے۔ اس میں ایک لائٹ ہے جو ہر وقت روشن رہتی ہے۔ اسے شبہ ہوا کہ یہ
روشنی کسی جاسوسی آلے کی ہو سکتی ہے۔ جس پر لی نے میک اپ آئینہ بیچنے
والے سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ آئینے کے اندر کوئی کیمرہ موجود ہے یا نہیں۔

گرل فرینڈ نے علم ہونے پر پولیس کو اطلاع دےکر پکڑوا دیا

تحقیق سے پتا چلا آئینے کے اندر چار ہائی ڈیفینیشن کیمرے اور پانچ 32 جی بی
میموری کارڈ موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ لی اس آئینے کا پہلا شکار نہیں کیونکہ
اسے میموری کارڈز میں سے2019ء کی ایک فائل ملی ہے۔ نوجوان خاتون نے
پولیس کو اطلاع دی جس نے ژانگ کو گرفتار کیا۔ اس نے آئینے میں کیمرے لگانے
کا اعتراف کیا اور انکشاف کیا کہ اس کی سابقہ گرل فرینڈ کے گھر میں بھی اضافی
کیمرے موجود تھے۔

42 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی نے بچھڑے بہن بھائی ملا دیئے

ادھر 1970ء میں بھارت کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں میری کیتھرین نامی خاتون
بلیو مانٹین نامی چلڈرن ہوم چلاتی تھیں۔ جہاں دو بہن بھائی وجیا اور راج کمار بھی
رہتے تھے۔ 1979ء میں راج کمار کو ڈنمارک اور وجیا کو امریکہ کے ایک جوڑے
نے گود لیا اور ان کے نام کیسپر اینڈرسن اور ڈاین وجیا رکھ دئیے، اور ایسے دونوں
بہن بھائی الگ الگ ملکوں میں جا بسے۔ اب 42 سال بعد ڈی این اے ٹیسٹنگ ٹیکنالوجی
نے دونوں بہن بھائیوں کو پھر سے ملا دیا ہے۔

وجیا کو یاد تھا اس کا ایک بھائی بھی ہے

میڈیا رپورٹس کے مطابق وجیا کو یاد ہے کہ ان کا ایک چھوٹا بھائی تھا لیکن جب کیسپر
کو گود لیا جا رہا تھا وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے۔ انھیں یاد نہیں تھا کہ ان کی کوئی
بہن بھی ہے۔ وجیا نے بتیا انہیں یاد ہے کہ جب وہ تین سال کی تھیں تو ان کی ماں نے
انہیں یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ وہ کھانا لینے باہر جا رہی ہیں، اور اس کے بعد انہوں نے
اپنی ماں کو کبھی نہیں دیکھا۔

راج کمار دو بار بھارت آیا لیکن بہن کو نہ ڈھونڈ سکا

راج کمار نے بتایا کہ وہ دو بار بھارت آئے لیکن چلڈرن ہوم بند ہونے کی وجہ سے
انہیں کوئی بھی معلومات حاصل نہ ہو سکیں، تاہم پھر ان کے دوست نے انہیں ڈی این
اے ٹیسٹ کا مشورہ دیا، اور کہا کہ بہت سی کمپنیاں ایسی ہیں جو ڈی این اے کے نمونوں
کی جانچ کر کے اپنے سٹورز میں رکھے ہوئے نمونوں سے میچ کرتی ہیں۔ جس کے
چند ماہ بعد ہی انہیں امریکہ سے کال موصول ہوئی، جس میں بتایا گیا کہ ان کے ڈی این
اے کا نمونہ کسی حد تک کیسپر کے نمونے سے ملتا جلتا ہے۔ راج کمار نے بتیا کہ میں
اپنے والدین کی تلاش میں بھارت آیا تھا لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری ایک بہن
بھی ہے، جس سے 2019ء میں پہلی بار فون پر بات ہوئی، لیکن کرونا پابندیوں کی وجہ
سے وہ مل نہیں سکے تھے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

چین اور بھارت میں جدید ٹیکنالوجی ، چین اور بھارت میں جدید ٹیکنالوجی ، چین اور بھارت میں جدید ٹیکنالوجی

= پڑھیں = سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق مزید اہم خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: