پی ٹی آئی، اتحادی پارلیمانی پارٹی اجلاس، پرویز خٹک کا وزیر اعظم سے تلخ جملوں کا تبادلہ

پرویز خٹک وزیراعظم تلخ جملوں تبادلہ

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلا س وزیر دفاع

گیس کے معاملے پر برس پڑے اور وزیراعظم سے کہا آپکو وزیراعظم ہم نے بنوایا ،

خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ

کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے جس پر وزیر اعظم نے بھرپور جواب دیتے ہوئے

واضح کیا بلیک میل نہیں ہونگا ،ووٹ نہیں دینا تو نہ دیں، ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد

نہیں، میرے کارخارنے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خا طر ہیں۔ بدھ کو وزیراعظم عمران خان

کی زیرصدارت پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں

حکومتی اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان کی جا نب سے ٹیکس منی بجٹ میں ترامیم پر گفتگو

ہوئی، ایم کیو ایم کے ارکان نے کہا بنیادی اشیاء ضروریہ پر ٹیکس نہ لگائیں جس پر وزیراعظم

عمران خان نے کہا ہمیں عوام کی مشکلات کا اندا زہ ہے، کوئی ایسا اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے

جس سے عوام پر بوجھ پڑے۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل کی منظوری

اوراجلاس کے حوالے سے حکمت عملی تیار کی گئی، تاہم ضمنی بجٹ پر پارٹی اراکان کو اعتماد میں

لینے کیلئے بلایا گیا اجلاس میں معاملہ مزید بگڑ گیا، پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی

بجٹ، مہنگائی، سٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ وزیر دفاع پرویز

خٹک کی گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے تاہم سینئر اراکان نے انہیں روک لیا ۔ذرائع کے

مطابق پرویز خٹک تین دفعہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے شوکت ترین اور حماد اظہر پر

سخت تنقید کرتے ہوئے کہا حماد اظہر کو گیس اور بجلی کا مسائل کا علم ہی نہیں، شوکت ترین مجھے

کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کرسکے۔ پرویز خٹک نے ایک بار وزیراعظم عمران خان پر تنقید کرتے

ہوئے کہا آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے، تنقید پر وزیراعظم عمران خان کو بھی

شدید غصہ آیا اور انہوں نے وزیردفاع کو سخت لہجے میں جواب دیا مجھے بلیک میل نہ کریں، ووٹ

نہیں دینا تو نہ دیں ، مجھے حکومت کرنے کا کوئی شوق نہیں۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دور ان

اراکان کی جانب سے عمران خان،شوکت ترین، حماد اظہر سے سوالات کئے گئے ۔ و زیراعظم

عمران خان نے جواب دیا حکومت اہم اقدامات کررہی ہے ،گیس کی قلت کا مسئلہ جلد حل ہوجائیگا،

ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح

ہے۔ نور عالم نے سوال کیاکہ کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس پانی بجلی ملے گا؟ ،وزیر اعظم نے نور

عالم خان سمیت دیگر ارکان اسمبلی کے سوالات کے بھی جواب دئیے۔ ذرائع کے مطابق پرویز خٹک

غصے میں اجلاس سے چلے گئے تاہم وزیراعظم نے پرویز خٹک کو واپس بلوالیا، پرویز خٹک کچھ

دیر بعد دوبارہ اجلاس میں آئے اور کہا ہماری باتیں کسی کیخلاف نہیں تھیں جو دیرینہ مسئلہ تھا اس

پر بات کی ۔بعدازاں پرویز خٹک نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کسی سے تلخ کلامی ہوئی،نہ ہی

اختلاف ہے، اپنے حق کی بات کی، اجلاس سے ناراض ہوکر نہیں بلکہ سگریٹ پینے باہرگیا تھا۔جب

ان سے پوچھا گیا کیا وزیر اعظم پر آپکو ا عتما د ہے؟ تو پرویز خٹک نے جواب دیا وزیراعظم پر

100 فیصد اعتماد ہے، کسی مسئلے کو زیر بحث لائیں تو اسے اختلاف نہیں کہتے۔ فارورڈ بلاک سے

متعلق سوال پر انہوں نے کہا ہم کسی کو فارورڈ بلاک بنانے ہی نہیں دیں گے۔بعدازاں وزیر اعظم

عمران خان کے چیمبر میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور وفاقی وزیر عمر ایوب کی ملاقات کی،ملاقات

کے بعد پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ٹی وی دیکھ کر حیران تھا جیسے میں نے کوئی

طوفان کھڑا کردیا، صرف گیس کے مسائل پر ڈسکشن ہوئی، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ

ووٹ نہیں دوں گا۔ وزیراعظم کے نہ خلاف ہوں نہ ہوسکتا ہوں اور نہ ہی سوچ سکتا ہوں۔اس سے قبل

اجلاس میں شرکت کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے

گریز کیا،تاہم منی بجٹ پاس ہو جائیگاکے سوال پر پر وزیراعظم مسکرا کر نکل گئے۔

پرویز خٹک وزیراعظم تلخ جملوں تبادلہ

رکی پونٹنگ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ پر برس پڑے

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: