پیکا آرڈیننس بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، صدر کے ایچ یو جے ناصر حسین

پیکا آرڈیننس بنیادی انسانی پشاور: انٹرویو ،  بیورو چیف/ عمران رشید خان

Imran Rasheed

خیبر پختونخوا کے صحافیوں کی سپریم صحافتی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سینئر صحافی ناصر حسین نے کہا

پیکا آرڈیننس، سینئر صحافی ناصر حسین کا خصوصی انٹرویو

ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈنینس بنیادی انسانی حقوق سے متصادم ہے، میڈیا ویب جرنل ٹیلی نیٹ ورک (جے ٹی این پی کے) کو ایک خصوصی انٹرویو کیدوران کہا 2016 میں جب ملک میں مسلم لیگ ( ن ) کی حکومت تھی،

تو اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف نے پیکا آرڈیننس متعارف کرایا تھا، اسوقت عمران خان اپوزیشن میں تھے،

انہوں نے پیکا آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس کی بھرپور مخالفت کی بلکہ صحافیوں کو یہ یقین دہانی بھی کرائی تھی کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اس قانون کو ختم کردینگے لیکن!

لاہورمیں صحافی حسنین شاہ کا قتل میڈیا پر حملہ ہے۔کے ایچ یو جے

بات اپنی ذات پر آئی تو کالے قانون میں ترامیم کردی گئیں

اب خود پیکا قانون میں ترمیم کرکے آرڈیننس لے آئے ہیں جس میں سزا کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی ہے ،

جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کسی کو بھی اس قانون کے تحت بغیر وارنٹ و ایف آئی آر ناقابل ضمانت گرفتار کرنے تک کا اختیار دیدیا ہے،

اس پر ظلم یہ کہ گرفتار افراد کا بیگناہ یا گناہگار ہونے کا فیصلہ پانچ سال کے عرصے میں ہوگا۔

پیکا ترمیمی آرڈیننس کالا قانون کیوں؟

پیکا آرڈیننس کو ماورائے آئین بھی کہا جا سکتا ہے اور آمریت کے ادوار میں بھی کبھی ایسا قانون نہیں لایا گیا،

جس کے تحت بغیر کسی مقدمے کے گرفتار کرکے سزا دی جائے یہی وجہ ہے کہ موجودہ اٹارنی جنرل نے
اس پیکا آرڈیننس کو خود کالا قانون کہا ہے جبکہ وفاقی حکومت میں شامل بعض وزراء نے

اس قانون کی مذمت کرتے ہوئے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، ناصر حسین نے مزید کہا ہے کہ

نیوز اینڈ سب ایڈیٹر فورم (این ایس ای ایف) کا لاہور میں صحافی کے قتل پر اظہارِ تشویش

تمام ملکی صحافتی تنظیمیں، صوبائی سطح پر یو جیز اور خیبر یونین آف جرنلسٹس سمیت سی پی این ای، پی بی اے، ایمنڈا اور جتنی بھی مالکان یا ایڈیٹرز تنظیمیں ہیں وہ بھی اس کی مخالفت کررہی ہیں اور اکثر تنظیمیں اس کیخلاف عدلیہ سے بھی رجوع کرچکیں ہیں۔
پیکاایکٹ ، جے ای سی کاوزارت اطلاعات اجلاس سے واک اؤٹ

حکومت کی جانب سے متنازعہ آرڈیننس واپس لینے کا عندیہ خوش آئند ہے

صدر کے ایچ یو جے ناصر حسین نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس کے خلاف ایک فیصلہ بھی کیا ہے اور ایف آئی اے کو تنبیہ کی ہے کہ وہ کسی کو بھی بغیر مقدمے کے گرفتار نہ کرے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی تکمیل کرتے ہوئے ادارےکو ہدایت جاری کیں ہیں کہ فی الحال فیک نیوز پر گرفتاریاں نہ کی جائیں۔

انہوں کہا کہ اس کیساتھ ساتھ خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ حکومت پیکا ترمیمی آرڈیننس ختم کرنے کے لئے تیار ہے۔

تمام صحافتی تنظیمیں فیک نیوز کے مخالف اور خاتمے کی خواہاں ہیں

خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر ناصر حسین کا انٹرویو کے دوران یہ بھی کہنا تھا کہ ملکی تمام تنظیمیں بشمول ’’کے ایچ یو جے ‘‘بھی یہ چاہتی ہے فیک نیوز نہیں ہونی چاہیے ، اس کا تدارک بہت ضروری ہے۔

جب کہ فیک نیوز کا خاتمہ کرنے کیلئے ادارے بھی موجود ہیں ،جن میں پیمرا، پاکستان پریس کونسل اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) شامل ہیں ، انہیں اس ضمن میں استعمال کیا جائے،

تاہم اگر مذکورہ ادارے حکومتی کنٹرول میں نہیں ہیں تو انہیں مزید موثر بناکر فیک نیوز کے روک تھام کیلئے کارروائیاں کی جاسکتیں ہیں۔
پیکاایکٹ ، جے ای سی کاوزارت اطلاعات اجلاس سے واک اؤٹ

فیک نیوز کے نام پر اظہار رائے اور آزادی صحافت پر پابندیاں ناقابل قبول

سینئر صحافی ناصر حسین نے کہا پاکستانی صحافتی اداروں کیساتھ ساتھ انٹرنیشنل ادارے فیک نیوز کو ہرگز سپورٹ نہیں کرتے ،

تاہم فیک نیوز کے نام پر آزادی اظہار پر پابندی اور آزادی صحافت پر قدغن لگانا ہرگز قبول نہیں، اس طرح سے صحافیوں ہی نہیں بلکہ شہریوں سے بھی اظہارِ رائے کا حق چھینا جا رہا ہے،

کیونکہ پیکا ترمیمی آرڈیننس کی آڑ میں حکومت ایسے قوانین لانا چاہتی ہے جس کے ذریعے ان کی بیڈ گورننس ظاہر نہ ہو،اسی کے خلاف ملک بھر کی صحافتی تنظیمیں عملی طور پر میدان میں اتری ہیں ،کالے قانون کیخلاف سراپا احتجاج اور بھر پور مخالفت کررہی ہیں ۔

آزادی صحافت پر پہلے کوئی قدغن قبول کی نہ آئندہ کی جائیگی

انہوں نے مزید کہا ہمارا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ آزادی صحافت پر پہلے کوئی قدغن قبول کی نہ آئندہ کی جائے گی۔

سچ ثابت کرنے اور اس کو سامنے لانے کیلئے پہلے بھی صحافیوں نے قربانیاں دیں ہیں ،اور اب بھی کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

حق اور سچ کیساتھ کھڑی صحافتی تنظیموں کے سامنے ماضی کی حکومتوں کو بھی پسپا ہونا پڑا اور انشاء اللّٰہ مستقبل میں بھی صحافی سرخرو ہونگے۔

پیکا ترمیمی آرڈیننس دستور پاکستان کی روح کیخلاف، فوری ختم کیاجائے

ناصر حسین نے یہ بھی کہا جمہوریت کے استحکام کے لئے کام کرنیوالے ادارے ، سول سوسائٹیز اور سیاسی جماعتیں جو چاہتی ہیں کہ یہاں لوگوں کی آواز کو دبایا نہ جائے وہ صحافیوں کیساتھ کھڑی ہیں،

انہوں نے بتایا ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس 1973 کے آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کی روح کیخلاف ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پیکا ترمیمی آرڈیننس 2022 کو فی الفور واپس لیا جائے.

 

جتن ریڈیو پر (:- انٹرویو -:) سنیئے

 

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ

جتن نیوز اردو انتظامیہ

 

پیکا آرڈیننس بنیادی انسانی

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: