انصاف کی متلاشی ایک اور حوا کی بیٹی کی دہائی، سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

پشاور: آئی آر حسینی سے انصاف کی متلاشی ایک اور ہَوا

پشاور خیبرپختونخوا کے تھانوں میں متاثرین کی فریاد پر شنوائی نہ ہونا عام سی بات دکھائی دے رہا ہے،

انصاف کے حصول کی خاطر پولیس اعلیٰ حکام تک اپنی فریاد پہنچانے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑرہا ہے

انہی وجوہات کی بنا پر خود سوشل میڈیا پر آکر ویڈیو بیان دینا کافی عرصے سے روایت بن چکا ہے

پڑھیں۔ مردان میں زیادتی کے شکار خواتین و بچوں کیلئے کمیٹی قائم 

تاہم دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جس طرح سوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش، کھلے عام ہوائی فائرنگ یا مخالفین کا بھرے بازارمیں ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ آتشیں کا استعمال ، کسی شہری کو حبس بے جا میں رکھنے یا تشدد جیسے واقعات کی ویڈیوز وائرل ہونے پر تو پولیس کیجانب سے فوری ایکشن لے لیا جاتا ہے

لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز جن میں پولیس کے خلاف شکایات یا ملزمان کے خلاف کاروائی کے مطالبات ہوں کو نذر انداز یا تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے سردخانے کی نذر کردیا جارہا ہے

گزشتہ روز پشاور کی رہائشی سدرہ احمد کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے جس میں ہوا کی بیٹی نے گورنر  کے پی  آئی جی پولیس ودیگر اعلی حکام کو ظلم کی داستان بیان کی ہے۔

پڑھیں۔ شرمناک وجوہات، پشاور اور لاہور میں بھائی بھائی، ماں بیٹی، شوہر بنا اہلیہ کا قاتل

سدرہ احمد کا کہنا تھا کہ شوہر سے خلع لینے کے باوجود انکے گھر پر فائرنگ کی جارہی ہے

پانچ مرتبہ تھانہ شاہ قبول جا چکیں ہیں لیکن پولیس نے ملزمان کو محض قسم کلام کرنے پر چھوڑ دیا۔

مزید تفصیلات جاننے کیلئے سدرہ احمد کی کہانی اس کی اپنی زبانی

= دیکھیں = انصاف کی متلاشی ہَوا کی بیٹی کا (== ویڈیو بیان == )

 

 

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ

جتن نیوز اردو انتظامیہ


انصاف کی متلاشی ایک اور ہَوا ، انصاف کی متلاشی ایک اور ہَوا

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: