صحافت کے استاد پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن انتقال کرگئے

لاہور(جے ٹی این پی کے) پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن انتقال

ممتاز ماہر ابلاغیات ،معروف تجزیہ نگار، دانشور، کالم نگار اور صحافت کے کہنہ مشق استاد پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن کو گزشتہ شب مقامی قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

وہ بدھ کے روز طویل علالت کے بعد85سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

مرحوم نے بیوہ ،بیٹوں،پوتے پوتیوں،بھائیوں،عزیز و اقارب کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شاگرد سوگوار چھوڑے ہیں۔

ان کی نماز جنازہ سکھ چین سوسائٹی نزد بحریہ ٹاؤن میں ادا کی گئی ،

جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب سمیت صحافیوں ، دانشوروں ،اساتذہ کرام اور مرحوم کے شاگردوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے 50سال وابستہ رہے اور مختلف تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے،

یہ بھی پڑھیں :معروف ناول نگاربشری رحمن کوروناسے انتقال کرگئیں

انہوں نے صحافت سے متعلق بیشتر کتابیں بھی تصنیف کیں جو پاکستان سمیت دنیا کی مختلف جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔

2012ء میں حکومت پاکستان نے مہد ی حسن کو ان کی خدمات کے صلے میں ستارہ امتیاز سے نوازا تھا۔

مہدی حسن کئی برس تک ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلیویژن سے بطور مبصرمنسلک رہے۔

ان کا شمار پاکستان کے چند بہترین سیاسی تجزیہ نگاروں اور ابلاغیات کے تاریخ دانوں میں کیا جاتا تھا۔

مہدی حسن نے جامع پنجاب سے ابلاغیات میں ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی تھی ۔

نصف صدی سے زائد عرصے تک کئی معروف صحافی، سیاستدان اور بیوروکریٹ ان کے شاگرد رہے۔

ڈاکٹر مہدی حسن ایک ماہر مبصر و محقق ہونے کے باعث بہترین صحافی تھے.

انہیں بائیں بازو کے محقق، دانشور اور صحافی کے طور پر عالمگیر شہرت بھی حاصل ہوئی

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

تقریبا پاکستان کے تمام اہم اخبارات میں کالم لکھے۔

پروفیسرڈاکٹر مہدی حسن ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کے سابق چیئرمین بھی رہے۔

مرحوم کو فوٹوگرافی کا بہت شوق تھا اور یہی شوق ان کو 1965ء کی جنگ کے دوران میدان جنگ تک لے گیا

جبکہ وہ ایک پیشہ ور فوٹوگرافر بھی نہ تھے۔لیکن انہوں نے بطورکیمرہ مین بھی شہرت کی بلندیوں کو چھوا ۔

ڈاکٹر پروفیسر مہدی حسن 1937 میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابھی چوتھی جماعت میں تھے کہ ملک تقسیم ہوگیا۔

آپ والدین کے ساتھ منٹگمری (ساہیوال ) چلے آئے۔ کالج کے بعد ایم اے جرنلزم کرنے لاہور آگئے اور پھر یہیں کے ہورہے۔

لاہور ہجرت کے بعد ٹی وی میزبان طارق عزیز کے ساتھ ایک مکان میں ساتھ رہے۔

اپنی کلاس فیلو سے شادی کی۔۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ ایک پاکستان اور دوسرے امریکہ میں مقیم ہیں۔

آپ سولہ کتابوں کے مصنف ہیں۔ آپ کے قلم نے لگ بھگ پانچ ہزار مضامیں ن تخلیق کئے۔ 1967 میں جامعہ پنجاب میں تدریس کا آغاز کیا۔

پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن انتقال

 

 






		

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: