پاڑہ چنار میں پاک افغان قبائل کے درمیان اراضی تنازع اور کشیدگی

کالمز بلاگز فیچرز/۔ پاڑہ چنار میں پاک افغان قبائل

ضلع کرم میں پاک افغان سرحد پر واقع 4400 کینال زرعی اراضی کی ملکیت کے تنازع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان عوامی و ریاستی سطح پر پیدا ہونیوالی کشیدگی خونی تصادم میں تبدیل ہو چکی ہے،

جس میں پاک فوج کے ایک جوان کی شہادت اور 9 جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،

جبکہ تین سویلین بھی زخمی ہوئے ہیں، باڑ کے دوسری طرف ہونیوالے جانی نقصان کی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں۔

یہ تنازع اسوقت شروع ہوا جب پاکستان کی طرف سے پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کیلئے وہاں باڑ لگانے کا عمل شروع کیا گیا۔

پڑھیں : کیا حکومت کو کسی بڑے سانحے کا انتظار ہے،؟

خرلاچی اور بوڑکئی کے مقامات پر 4400 کینال اراضی باڑ کے دوسری طرف چلی گئی،

اس اراضی کی ملکیت کے دعویدار وہاں کے طوری قبائل ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اراضی ایک ھزار سال سے انکی ملکیت چلی آرہی ہے،

اور اس کی قانونی حیثیت کو 1876 میں اسوقت کے والئی افغانستان سردار دوست محمد خان نے بھی تسلیم کیا،

طوری قبائل کیساتھ کئی معائدے کئے گئے جن کے دستاویزی شواہد اب بھی ریکارڈ پر موجود ہیں،

ماضی قریب میں پاکستان کی طرف سے باڑ لگاتے وقت دانستہ یا غیر دانستہ، مصلحتا” یا باامر مجبوری یہ قطعہ اراضی باڑ کی دوسری طرف رھ گئی،

اسوقت طوری قبائل کے شدید احتجاج کے بعد پاکستان کی طرف سے باڑ میں ایک دروازہ بنایا گیا،

باڑ کی دوسری طرف کے لوگوں کیساتھ معاہدہ کرایا گیا کہ اس اراضی کے مالک طوری قبائل ہونگے،

وہ اس اراضی پر کاشتکاری آزادانہ طریقے سے کریں گے،

مزید پڑھیں : اسلامی عقائد پر خوفناک حملہ

مگر حالیہ دنوں میں باڑ کی دوسری طرف کے لوگوں نے اس اراضی پر قبضہ کر لیا،

اور حالات کشیدگی سے بڑھ کر تصادم کی طرف چلے گئے،

مقامی قبائل کے درمیان کشیدگی کی یہ صورتحال مزید پیچیدہ ہونے کا خدشہ ہے،

افغانستان اور پاکستان میں امن کے دشمن اس تنازع کو باقائدہ جنگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں،

اور کوئی بعید نہیں کہ امن دشمن عناصر اس تنازع کو فرقہ وارانہ شکل دیکر حالات کو مزید سنگین کردیں،

دونوں ممالک کے درمیان ریاستی و عوامی سطح پر تعلقات اس کے مضمر اثرات کی لپیٹ میں آ جائیں،

قبل اس کے کہ پاکستان، افغانستان میں موجود امن دشمن

عناصر ایک مرتبہ پھر فضاء کو زہر آلود کرنے میں کامیاب

ہوں ریاست پاکستان کو چاھیئے کہ اس مسلے کا فوری اور پائیدار حل تلاش کرے،

پاکستان میں طوری قبائل کیلئے یہ موزوں رہیگا کہ وہ اس مسلے کے حل کیلئے سفارتی طریقہ کار اپنائیں،

اسلام آباد اور پشاور میں موجود افغان سفارتکاروں کیساتھ اس مسلے کو اٹھائیں،

اور اسکا کوئی پائیدار حل تلاش کریں،

یہ بھی پڑھیں : سُوچنا جرم نہیں ہے

یہ بات طے ہے کہ قطع اراضی باڑ کی دوسری طرف منتقل ہونے کے بعد بزورطاقت جو بھی حل نکالا جائیگا

وہ عارضی ثابت ہو گا اور یہ تنازع مستقل رہیگا، جیسا کہ پاک بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر موجود ہے،

اس مسلے کا ایک حل یہ بھی ممکن ہے کہ پاکستان یا

افغانستان کی ریاست اس اراضی کی قیمت طوری قبائل

کو ادا کر کے انہیں ملکیت کے دعوے سے دستبردار کر دے،

تاہم اس تجویز کیساتھ اختلاف کرنیکا طوری قبائل کو پورا حق حاصل ہے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

پاڑہ چنار میں پاک افغان قبائل

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

One thought on “پاڑہ چنار میں پاک افغان قبائل کے درمیان اراضی تنازع اور کشیدگی

  • 26 نومبر, 2022 at 12:51 صبح
    Permalink

    بہت زبردست انفارمیشن ہے جزاك الله
    بہت ضروری ہے کہ قبایل کے موضوع کو مستقل بنیادوں پر قارین کے ساتھ شیر کیا جاے۔
    جتن نیوز انتظامیہ اور کالم نگارنگار جناب سید اظہر شاہ صاحب کو قبایل کے مسایل کو بھرپور انداز میں بیان کرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    Reply

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: