پانی کی قلت، رحیم یارخان، چولستان اورنوشہروفیروز کے باسیوں کے فکرانگیز احتجاج

لاہور (جے ٹی این پی کے او مائی گاڈ) پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج

نہروں میں پانی کی بندش کے باعث رحیم یارخان میں کسانوں نے تپتی دھوپ میں
مرغے بن کر انوکھا احتجاج کیا ،توسرائیکی وسیب کے علاقے چولستان میں پانی
ناپید ہونے پر ارباب اختیار کی توجہ مبذول کرانے کیلئے سرائیکی پروفیشنلز کی
اپیل پر نوجوانوں اور خواتین نے شہر قائد ؒ کے علاقہ میٹرو پول میں جمع ہو کر
اپنا خاموش احتجاج ریکارڈ کرایا، جبکہ پڈعیدن کی مختلف نہروں میں زرعی پانی
کی قلت کیخلاف کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے نصرت کینال تک شدید گرمی اور
چلچلاتی دھوپ میں پیدل مارچ کر کے حکام تک اپنی فریاد پہنچانے کی سعی کی۔

چلچلاتی دھوپ میں مرغا بن کر احتجاج کرنیوالے کئی کسان بیہوش

تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان میں ٹلو بنگلہ اور ملحقہ چکوک کے زمینداروں
نے سونا خان بھٹو کی سربراہی میں پانی کی بندش کیخلاف مرغے بن کر احتجاج
کے دوران متعدد کسان بیہوش ہوگئے، اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کئی ماہ سے
نہریں بند ہیں ان کی فصلیں، باغات تباہ، جانور پیاس سے مر رہے ہیں، ہم نقل مکانی
پر مجبور ہیں، پانی کی کمی کی وجہ سے کپاس کی فصل کاشت نہیں کر سکے، اگر
پانی فراہم نہ کیا گیا تو تخت لاہور جا کر احتجاج کرینگے، تمام صورتحا ل سے آگاہی
کے باوجود حکمران خاموش کیوں ہیں؟

چولستان پانی قلت، کراچی میں سرائیکی پروفیشنلز کا خاموش احتجاج

پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج

سرائیکی وسیب کے علاقے چولستان میں نہری پانی کی بندش کے باعث ہزاروں
جانوروں کی ہلاکتوں اور پینے کے پانی کے بحران کیخلاف کراچی میں سرائیکی
پروفیشنلز کی اپیل پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے سرائیکی
نوجوانوں، خواتین، سیاسی و قوم پرست رہنماﺅں نے میٹروپول پر خاموش احتجاج
کیا، مطالبات پر مبنی پلے کارڈز و بینرز اٹھائے میٹروپول چورنگی شاہراہ فیصل پر
فٹ پاتھ پر کھڑے خاموش احتجاج کرنیوالوں کا کہنا تھا چولستان کو پانی پہنچانے
والی ہیڈ فرید ون ایل، سیون آر سمیت پورا سال چلنے والی دیگر نہریں گزشتہ چار
ماہ سے بند ہونے سے آئے روز مویشی ہلاک، انسان پیاس سے بلک رہے ہیں۔

حکومت پنجاب واٹر ٹینکرز جیسے نمائشی کام بند نہریں کھولے

پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج

حکومت پنجاب واٹر ٹینکرز بھجوا نے جیسے نمائشی کام کر کے طفل تسلیاں دے
رہی ہے، مگر یہ اس مسئلے کا حل نہیں، فوری نہریں کھولی جائیں ورنہ انسانی المیے
کا خطرہ ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس پاکستان سے چولستان کی صورتحال کا سوموٹو
نوٹس لینے کی بھی درخواست کی۔ خاموش احتجاج میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے
والے افراد میں صحافی و اینکر پرسن اختر شاہین رند، عابد لودھی، عباس شاہ، سینئر
رہنما آل جتوئی بلوچ ویلفیئر ایسوسی ایشن پاکستان عقیل مختیار جتوئی، سرائیکی قوم
پرست رہنما انور بھٹہ، مخدوم علی اکبر شاہ، چیئرپرسن سرائیکی ویمن ایسوسی ایشن
کرم اختر، سیما اکرام، رخسانہ محسن، قوم پرست رہنما کرن لاشاری، محسن جتوئی،
قوم پرست رہنما ملک اختر، سماجی کارکن میر تنویر وگن، ایڈووکیٹ شہزاد خان گل،
وارث جتوئی، ظفر اقبال گوپانگ، جام ارشاد لاڑ، ارشد خان گوپانگ، پیٹریشیا شاد اور
دیگر افراد شامل تھے۔

پڈعیدن میں ہزاروں ایکڑ اراضی بنجر، کاشتکار فاقہ کشی پر مجبور

نوشہروفیروزکے علاقہ پڈعیدن کی مختلف نہروں میں پانی کی قلت کیخلاف کاشتکاروں
کی بڑی تعداد احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئی، جنہوں نے پڈعیدن نصرت کینال
سے نکلنے والی چیھو شاخ، سانگی شاخ، ٹیل شاخ، ڈراگھی شاخ سمیت دیگر نہروں میں
گزشتہ 6 ماہ سے زائد عرصہ سے پانی کی بندش کیخلاف زمینداروں رئیس شفیق میاں
راجپر، حاجی عبدالرحمان خان راجپر، افتخار سیال، شچل راجپر کی قیادت میں سخت
گرمی اور دھوپ میں پیدل مارچ کر نصرت کینال پل پرپہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور
کاشتکار چیھو مائینر سمیت دیگر نہروں میں زرعی پانی کی قلت کیخلاف نعرے بازی کی۔

سندھ حکومت پانی کی مصنوعی قلت ختم کرے،مظاہرین

مظاہر ین نے کہا پانی کی بندش سے 15 ہزار ایکڑ زمین بنجر ہونے کا خطرہ ہے، کپاس،
گنا، جوار، آم، لیموں کے باغات، سبزیوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے، پانی نہ ملا تو زرعی
معیشت تباہ ہو جائیگی، زرعی پانی کی مصنوئی قلت پیدا کر کے چھوٹے کاشکاروں اور
ہاریوں کو فاکہ کشی پر مجبور کیا جا رہا ہے، حکومت سندھ اور محکمہ آبپاشی کے اعلی
حکام زرعی پانی کی مصنوئی قلت فوری ختم کرائیں۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج ، پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج ، پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج
پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج ، پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج ، پانی کی قلت، فکرانگیز احتجاج

===> معیشت و کاروبار کی مزید اہم خبریں (== پڑھیں ==)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: