ٹوٹتی ہیں بجلیاں ۔۔۔

کالمز، بلاگز، فیچرز /ٹوٹتی ہیں بجلیاں ۔۔۔


گزشتہ حکومت کے لئے عوام کی جتنی بد دعائیں تھیں وہ اب موجودہ سرکار کے حق میں منتقل ہوگئی ہیں۔ کیونکہ جو تھوڑی بہت کسر اس سے رہ گئی تھی اب یہ اسے پورا کرنے میں لمحے بھر کا تامل نہیں کر رہے۔ بقول شاعر

تو دوست کسی کا بھی ستمگر نہ ہوا تھا

اوروں پہ ہے وہ ظلم کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

جب عمران حکومت کے خلاف پی ڈی ایم والے تحریک چلا رہے تھے تو مہنگائی ان کا مرکزی نکتہ تھا جسے ختم کر کے عوام کو راحت دلانے کے بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے لیکن اقتدار میں آتے ہی وہ سارے وعدے اور ارادے پس پشت ڈال کر اسی روش پر آگئے جسکے سبب پہلے ہی مخلوق خدا پریشان و شکوہ کناں تھی۔یعنی آئے دن یہ حکومت عوام پر بجلیاں گرا رہی ہے کبھی پٹرول کی صورت تو کبھی بجلی کی قیمت بڑھا کر عوام پر بجلیاں گراتی رہتی ہے بقول امیر مینائی

جب سے بلبل تو نے دو تنکے لئے

ٹوٹتی ہیں بجلیاں ان کے لئے

آج کی تازہ خبر کے مطابق بجلی 7روپے 90پیسے فی یونٹ مہنگی کردی گئی اس بہانے کہ مشکل

فیصلے ہماری مجبوری اور مفاد عامہ کے سبب کئے جا رہے ہیں لیکن ان کے یہ مشکل فیصلے عوام کی

پہلے ہی مشکل سے دو چار زندگی میں کتنی نا قابل برداشت مشکلات کا اضافہ کررہے ہیں اس بات کا

انہیں ذرہ برابر خیال نہیں۔ مزید بربادی کی تیاریاں ہورہی ہیں وہ یوں کہ موجودہ وزیر خزانہ ڈانواں ڈول معیشت

کا توازن قائم کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اسلئے مقدمات کا سامنا کرنے کے بجائے بیرون ملک بھاگ جانے والے

اسحاق ڈار کو بلایا جا رہا ہے لوگوں کو اس غلط فہمی میں رکھنے کے لئے کہ وہ جادوئی چھڑی

سے قرضوں کی ماری معیشت میں اصلاح کر دیں گے حالانکہ ایسا ممکن ہی نہیں جس بے جان معیشت میں

قرضے کی قسطوں کی ادائیگی کی سکت نہ ہو اس کی کونسی کل سیدھی کرنے یہ جناب بلوائے جا رہے ہیں۔

دراصل اپنے تمام رشتہ داروں اور سابقہ حلیفوں کو شریک اقتدار بنانے کے یہ سارا کھیل ہو رہا ہے

جن سے عوام کی آنکھوں میں دھول اور ان کے حصے میں خاک کے سوا کچھ آنے والا نہیں

ہمارے تمام لیڈر آزمائے ہوئے ہیں اور فارسی محاورے کے مطابق۔۔

ازمودہ را ازمودن جہل است

بد قسمت عوام پر ڈیزل پٹرول بجلی مہنگے کر کے دو دھاری تلوار چلائی جا رہی ہے جہاں ایک طرف ڈالر کے مقابلے روپیہ گرتا جا رہا ہے وہاں اشیائے روزمرہ کے نرخ بڑھ رہے ہیں ستم بالائے ستم یہ کہ عوام کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکس اور سوپر ٹیکس لگائے جانے کی مشق جاری ہے یعنی منتخب عوامی نمائندوں پر مشتمل ہماری حکومتیں عوام کو کسی پہلو کوئی راحت پہنچانے کی روادار نہیں ہیں اور شہری ایک عذاب کی صورت زندگی گزار رہے ہیں

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: