ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟، ملی مجلسِ شرعی پاکستان کا موقف

تحریر: مولانا زاہد الراشدی : ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟

maulana zahid ur rashidi
مولانا زاہد الراشدی پاکستانی اسلامی اسکالر، مصنف، ایڈیٹر، کالم نگار اور الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ کے بانی ڈائریکٹر ہیں۔

ٹرانس جینڈر پرسن کے حوالے سے ایک قانون پر کچھ دنوں سے دینی حلقوں میں بحث چل رہی ہے۔

یہ قانون 2018ء میں سینیٹ اور قومی اسمبلی سے پاس ہوا تھا جس کا عنوان تھا ” خواجہ سرا اور اس قسم کے دیگر افراد کے حقوق کا تحفظ “

خواجہ سرا ملک میں بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔ کچھ حقیقی ہیں، کچھ تکلف کیساتھ ہیں اور کچھ کو اب مزید تکلف کیساتھ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

پڑھیں : مہرب معز اعوان خاتون کے روپ میں مرد ہیں، ماریہ بی

اللہ رب العزت نے مرد اور عورت دو جنسیں پیدا کی ہیں، تیسری جنس اللہ تعالی نے نہیں بنائی۔

خواجہ سرا یا خنثیٰ وغیرہ کوئی الگ جنس نہیں ہے، بلکہ دراصل یہ معذور افراد ہیں۔

جیسے نابینا معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے، پیدائشی بہرہ معذور ہے، کوئی الگ جنس نہیں ہے،

اسی طرح پیدائشی گونگا الگ جنس نہیں، بلکہ معذور ہے۔

بالکل اسی طرح خواجہ سرا بھی معذور افراد ہیں کہ وہ ایک صلاحیت سے محروم ہیں اور معذور کے درجے میں ہیں،

یہ الگ جنس نہیں کہ ان کو الگ جنس کے طور پر متعارف کروایا جائے۔ ان کے حقوق ہیں،

شریعت ان کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے، اور ان کے معاملات کا فیصلہ پوری توجہ سے کرتی ہے۔

خواجہ سرا کو الگ جنس نہیں، ایک معذوری کا ٹائٹل ہے


مگر ہوا یہ کہ 2018ء میں مستقل عنوان دے کر ان کو ایک الگ جنس کے طور پر پیش کیا گیا

اور ان کے حقوق کے تحفظ کے نام سے قانون سازی کی گئی۔

اس میں اصولی غلطی یہی تھی، کیونکہ خواجہ سرا کوئی الگ جنس نہیں بلکہ یہ معذور افراد کا ٹائٹل ہے،

جیسے گونگے، بہرے ، نابینا اور لنگڑے ہیں۔ ان کے حقوق کا تحفظ ان کا حق ہے۔

دوسری بات یہ ہوئی کہ اس عنوان سے جو قانون سازی کی گئی،

اسی عنوان کے مغالطے کی وجہ سے اصل بات کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔

حالانکہ قومی اسمبلی میں جب یہ قانون پیش ہوا تو قائمہ کمیٹی میں دو

خواتین ممبران جمعیۃ علماء اسلام کی نعیمہ کشور صاحبہ اور جماعت

اسلامی کی عائشہ سید صاحبہ نے تفصیل کیساتھ اس سے اختلاف کیا

اور کہا کہ یہ قانون شریعت کیخلاف ہے،

اس بارے میں علماء سے پوچھا جائے، اسلامی نظریاتی کونسل سے بات کی جائے۔

لیکن اس بل کو منظور کر لیا گیا تاہم اسمبلی کا آخری سیشن ثابت ہوا اورتحلیل ہو گئی،

الیکشن کا ہنگامہ شروع ہو گیا، اس لیے لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی۔

2018 میں اسکا ٹائٹل معذروں کے حقوق کا تحفظ تھا

مگر جب لوگوں نے اس کو پڑھا اور اس کی طرف توجہ ہوئی تو اعتراض ہوا کہ یہ تو شریعت کیخلاف ہے

اور جب شریعت کیخلاف ہے تو ملک کے دستور کے بھی خلاف ہے۔

اس پر کچھ دنوں سے بات چل رہی ہے، کئی علماء نے اس پر لکھا ہے،

لیکن ابتدائی موقع پر اسمبلی تحلیل ہونے سے اس پر تفصیل سے بحث نہیں ہوئی۔

دوسرا یہ کہ اس کا ٹائٹل معذوروں کے حقوق کے تحفظ کا تھا۔ اس ٹائٹل کی ہمدردی کے نیچے سب کچھ چھپ گیا۔

اب ظاہر ہو رہا ہے تو اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔ مختلف دینی حلقے اس پر احتجاج کر رہے ہیں کہ یہ قانون شریعت کیخلاف ہے۔

مثلاً اس میں ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی شخص بالغ ہو، وہ نادرا میں درخواست دیکر اپنی جنس خود طے کر سکتا ہے کہ وہ مرد ہے یا عورت۔

وہ جو جنس طے کر دے گا، نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے۔

یعنی ایک شخص نادرا میں حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں عورت ہوں، تو نادرا تحقیق نہیں کرے گا،

بلکہ اس کے حلفیہ بیان پر اس کو عورت کا شناختی کارڈ جاری کریگا۔

اسی طرح اگر کوئی عورت حلف نامہ داخل کرتی ہے کہ میں مرد ہوں تو نادرا کے ذمے تحقیق نہیں،

بلکہ اس کے حلفیہ بیان دینے پر اسے مرد کا شناختی کارڈ جاری کرنا ہے۔

کئی ممالک میں ایسا قانون موجود، لیکن میڈیکل چیک اپ سے مشروط

بہت سے دیگر ملکوں میں بھی یہ قانون ہے، لیکن وہاں میڈیکل چیک اپ شرط ہے۔

اگر کوئی شخص دعوٰی کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کا میڈیکل چیک اپ ہوتا ہے۔ یہ بات تو سمجھ آتی ہے،

لیکن مذکورہ قانون کے مطابق صرف دعوٰی اور حلفیہ بیان دینے پر نادرا پابند ہے کہ اس کے مطابق اس کو شناختی کارڈ جاری کرے،

اور پھر تمام قوانین اس شناختی کارڈ کے مطابق اس پر لاگو ہوں۔

اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نادرا میں خود کو عورت رجسٹر کروا لیتا ہے جو مشکل نہیں،

اس کیلئے حلفیہ بیان ہی کافی ہے اور پھر وہ کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی قانوناً درست شمار ہو گی۔

یہ مرد کی مرد سے شادی صرف ریکارڈ کے فرق کیساتھ قانوناً درست ہوگی۔

اسی طرح اگر کوئی عورت خود کو نادرا میں مرد لکھوا لیتی ہے تو وہ مرد کی طرح وراثت کی برابر حقدار شرعاً تو نہیں، مگر قانوناً ہو گی۔

اس قانون کے بہت سے مفاسد سامنے آرہے ہیں، جوں جوں اس کا ایک ایک پرت کھل رہا ہے اس کی خرابیاں واضح ہو رہی ہیں۔

ملی مجلس شرعی یہ قانون مسترد، خلاف شریعت و دستور قرار دے چکی

اس پر سترہ ستمبر کو لاہور میں تمام مذہبی مکاتب فکر کے مشترکہ فورم ’’ ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘ کا اجلاس ہوا۔

ملی مجلس شرعی میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، جماعت اسلامی اور شیعہ سب شریک ہیں۔

جب اس طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں تو اس فورم کے تحت ہم مل کر ایک اجتماعی رائے قائم کرتے ہیں،

اس سے متعلقہ لوگوں کو آگاہ کرتے ہیں، اس پر کچھ لابنگ کرتے ہیں۔

ملی مجلس شرعی کے مشترکہ فورم کے صدر کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی ہے،

اللہ تعالی کچھ تھوڑی بہت خدمت کی توفیق دے دیتے ہیں الحمد للہ۔

جوہر ٹاؤن لاہور میں ہماری مشترکہ میٹنگ ہوئی جس میں متفقہ طور پر اس قانون کو مسترد اور خلاف شریعت و دستور قرار دیا گیا۔

قانون سے متعلق دو مطالبے سامنے آ چکے

  1. ) اس وقت سینیٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد صاحب

نے ترمیمی بل پیش کر رکھا ہے کہ اس قانون میں چند ترامیم کر دی

جائیں تو یہ کسی درجے میں قابل قبول ہو سکتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک شخص دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو

اس کے دعوے پر اس کو شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے بلکہ میڈیکل چیک اپ کروایا جائے۔

سینیٹر مشتاق احمد نے اس طرح کی کچھ اور ترامیم پیش کر رکھی ہیں۔

2.) جمعیۃ علماء اسلام کے سینیٹر عطاء الرحمٰن جو مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ہیں،

انہوں نے قرارداد پیش کی ہے کہ اس قانون کو منسوخ اور اس کے متبادل قانون لایا جائے۔

مشترکہ اجلاس میں ان دونوں سینیٹر حضرات کے موقف کی تائید کی گئی،

اور اس قانون کے غیر شرعی و غیر دستوری ہونے کا اعلان کیا گیا۔

قانون کیخلاف ملک گیر بیداری مہم چلانے کا فیصلہ

ملک بھر میں اس کیخلاف رائے عامہ کی بیداری کی مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ہماری تمام مکاتب فکر کے علماء، وکلاء، ڈاکٹر صاحبان اور تمام طبقات سے تعاون کی درخواست ہےـ

میں نے کچھ ڈاکٹر صاحبان سے رابطہ کیا ہے کہ میڈیکل فورم سے بھی بات آنی چاہیے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

یہ قانون کہ جو مرد بھی اپنے آپ کو عورت کہہ دے وہ عورت ہے،

اور جو عورت اپنے آپ کو مرد کہہ دے وہ مرد ہے،

یہ کیسا قانون ہے؟

مشترکہ اجلاس کے فیصلہ کے مطابق ملک میں رابطہ عوام مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

میری سب حضرات ، علماء، وکلاء، ڈاکٹر حضرات، تاجر برادری اور جو بھی قوم و ملت سے تعلق رکھتا ہے،

جس کا قرآن و سنت اور شریعت کے احکام پر یقین ہے، سے درخواست ہے وہ اس میں شریک ہوں اور تعاون کریں۔

اللہ تعالی ہم سب کو مل کر اپنے ملک کے قوانین کو مغرب کی

تہذیب کے منحوس اثرات سے بچا لینے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟ ، ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟، ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟، ٹرانس جینڈر پرسن قانون کیا ؟

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: