وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

وقت کرتا ہے پرورش

دعا زہرہ نے گھر سے بھاگ کر اپنی مرضی سے شادی کی لیکن اس کے والد نے شروع دن سے میڈیا

پر دہائی مچائے رکھی کہ میری نادان کم سن بیٹی کو گھر کی گلی سے اغوا کر لیا گیا ہے اور اسے اغوا

کاروں سے واپس لانا ۔،

حکومت، چیف جسٹس،آرمی چیف اور وزیر اعظم کی ذمے داری ہے

اگر میری بچی مجھے جلد واپس نہ دلائی گئی تو مذکورہ تمام افراد کے خلاف احتجاج کروں گا۔ اس کا

لہجہ ملتجیانہ نہیں بلکہ تحکمانہ تھا۔جب پولیس کی تفتیش کے نتیجے میں بچی سے رابطہ ہوا اور اس نے

بار بار اپنی مرضی سے لڑکے کے ساتھ شادی کا بیان ریکارڈ کروایا تب بھی اس کے والد نے عقل کے

ناخن نہ لئے اور اس حساس معاملے کو اچھالتے رہے جس میں نہ صرف والدین اور بچی کی بدنامی ہے

بلکہ قوم کی بیٹی ہونے کے ناتے پوری پاکستانی قوم کے لئے باعث شرم واقعہ ہے۔۔

پہلی بات یہ کہ ۔،

بیٹی کی پرورش میں والدین کی کوئی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ دوسرا بچی نے موجودہ شوہر کے ساتھ فیس بک

وغیرہ پر بہت عرصہ رابطہ جاری رکھا ہو گا کیا اس دوران والدین کو کچھ خبر نہ ہوئی۔یہ سب باتیں مل کر

ایسے واقعات کو جنم دیتے ہیں۔ لہذا موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق دعا کے ماں باپ کو بچی کی اپنی

مرضی سے شادی کرنے کا فیصلہ قبول کر کے خاموشی اختیار کر لینا چاہئے اور مزید اس تکلیف دہ واقعے

کو کریدنا ترک کر دینا چاہئیے۔

سکندر خان کا کالم پڑھیں۔ مسائل سے سراپا دو چار حکومت کی مبارکبا دیں

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

وقت کرتا ہے پرورش

سکندر خان کا کالم پڑھیں۔ جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی ۔۔

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: