ن لیگ ، تَخْتِ پنجاب سے ملا زخم

 کالمز بلاگز فیچرز / ن لیگ ، تَخْتِ پنجاب

لڑیں گے مریں گے شکست نہیں مانیں گے

یہ دعوی سن کر آپ سوچ رہے ہونگے کہ ہماری فوج کا کوئی جرنیل دشمن ملک پر چڑھائی کا اعلان کر رہا ہے جبکہ مشرف جیسے عدالت سے بھگوڑے جنرل نے کارگل میں اپنے سپاہیوں کو دشمن کے نرغے میں بھجوا کر شہید تو کروا دیا لیکن ان کی لاشیں وصول کرنے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ ہمارے سپاہی نہیں بلکہ مجاہدین ہیں۔ لعنت ہو ایسے لوگوں پر جو ملک کی خاطر جان دینے والے جوانوں کو اون نہیں کرتے۔ بی بی سی پر ایسے واقعات حوالے کے لئے موجود ہیں۔

اَب پَچھتائے کیا ہوت جَب چِڑیاں چُگ گَئیں کِھیت

اوپر شہباز شریف وزیر اعظم مقروض پاکستان کا دبنگ اعلان ہے لیکن یہ پی ٹی آئی کے خلاف دیا گیا ہے

ایسے بیانات ماضی میں شہباز شریف صاحب پی پی پی کے آصف زردای اور دیگر مخالفین کے متعلق دے

چکے ہیں کہ آپ کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور فرط جذبات میں مائیکروفون بھی گرا دیتے تھے۔

اب اتناسینئیرسیاستدان ایسی بچوں جیسی حرکات کرے تو اس سے بہتر نظم و نسق کی کیا توقع کی جاسکتی

ہے ۔ یہاں مسئلہ لڑنے مرنے کا نہیں ہے یہ سیاسی میدان ہے یہاں ہوش سے کام لے کر ووٹروں کو اپنے حق

میں کرنے کا معاملہ ہے سو اپنے پنجاب میں حالیہ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی سے شکست فاش کھانے

کیبعد بھی اگرعقل نہ آئےتو بہتر ہوگاسیاست سے کنارہ کشی کرلی جائے۔ اب اس عمرمیں جگ ہنسائی کرانے

کا کیا فایدہ۔ ملک سے باہر بیٹھے نواز شریف کا اب بیان آیا ہے کہ عام انتخابات کی طرف جایا جائے کہتے ہیں

‘اب پچھتاوئےکیاہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت’ یہ فیصلہ تو عدم اعتماد کی کامیابی کےفوراً بعد کرلینا

چاہئیے تھا۔ اب توعمران کی مچائی مہنگائی کی رسوائی آپ کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ جب پنجاب میں

ووٹرآپ کو ٹھکرا رہے ہیں تو ملک کے دیگر صوبوں میں کیا حشر ہوگا۔اس پر آپ لوگ کیوں توجہ نہیں دیتے۔

وزیر خزانہ کا یوٹرن ۔،

ادھر مفتاح اسماعیل نے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیفالٹ کے خدشات ختم ہوگئے ہیں جلد پالیسی پلان بنایا

جائے گا۔ ابھی تک کہہ رہے تھے کہ ڈیفالٹ کا کوئی خطرہ نہیں محض افواہیں ہیں اب کہہ رہے ہیں

خدشات موجود تھے لیکن اب ختم ہوگئے ہیں انکے مطابق روپے پر دباؤ ایک دو ہفتے میں ختم ہوجائے گا

حالانکہ روپیہ مسلسل گرتا جا رہا ہے جو ڈالر کے مقابلے 240 کی سطح بھی عبور کرتے ہوئے ڈی ویلیو

ہوتا جارہا ہے، سابقہ قرضے بدستور ان کا منہ چڑا رہے ہیں مزید کے حصول کے لئے کشکول لئے آئی ایم ایف

کے درپرآس لگائے بیٹھے ہیں تا حال تہی دامن ہیں لیکن جھوٹے اعلانات کئے جارہے ہیں کہ ڈیفالٹ کے خدشات

اور روپے پر دباؤ ختم ہونے کو ہیں۔

ن لیگی حکومت کا مستقبل اور عوامی ردعمل ۔۔؟

عوام میں پی ڈی ایم پنجاب میں خُصُوصاً شہباز حکومت ہر گز مقبول نہیں عام آدمی کو بھی نظر آرہا ہے

لیکن ! خود یہ لوگ ماننے پر تیار نہیں ۔، رانا ثناءاللہ کو بھی خدشہ ہے پنجاب میں ان کا داخلہ ممنوع قرار

پائے گا اسلئے حفظ ما تقدم کے لئے وہاں گورنر راج کا راگ الاپ رہے ہیں اس سے کچھ ہونے والا نہیں۔

آپ سب سیاستدانوں کی کارکردگی اتنی مایوس کن ہے کہ اب آپ عوام میں جاکر ان کا سامنا کرنے کے قابل

بھی نہیں رہے۔

مستقبل قریب میں انتخابات کے سلسلے میں عوامی جلسوں میں آپ پرگندے انڈے، بڑے سائز کے جوتے اور

نہ جانے کون کون سی چیز وں کی بر سات ہونے والی ہے یہ آپ کو پتا چل جائیگا ۔ ہمارے تمام سیاستدان و

حکمران انتہائی ڈھیٹ اور خود غرض ہیں جس ملک کے خزانے میں اپنی پھوٹی کوڑی نہ ہو عالمی قرضوں

پر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ، کرپٹ حکمرانوں اور بیوروکریٹس کی عیاشیوں اور غبن کے دھندے

چلائے جا رہے ہوں وہاں اتنے عالیشان دفاتر،مہنگی گاڑیوں اور شاہانہ و نمائشی زندگی کی کیا تک بنتی ہے۔

قوم اب اس انتظار میں ہے کہ ان غاصب حکمرانوں کو کبس ان کے کئے کی سزا ملے گی۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

, ن لیگ ، تَخْتِ پنجاب

ن لیگ ، تَخْتِ پنجاب

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: