نمی دانم به کجا می روم فقط می خواستم؟

تحریر:۔۔ آئی آر خان ۔۔۔۔ نمی دانم به کجا ۔۔۔

مجھے نہیں معلوم کہ میں کہاں جا رہا ہوں- یہ آواز ہے مملکت خداداد پاکستان کی۔ بجلی، پانی، گیس تو پوری نہیں ہو رہی، ستم بالائے ستم روز بروز مقروض الگ سے ہو رہا ہوں-

غریب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں- جبکہ سفید پوش طبقہ اپنے اندر ہی گھٹ گھٹ کر مر رہا ہے- بچوں کی قباء و خوراک کا بندوبست ہو جائے تو تعلیمی اخراجات کہاں سے پورے کرے۔

جینا محال تو مرنا بھی آسان نہیں!

بیماری سستی جبکہ علاج معالجہ حیوان ناطق کے ہمسفر سمجھا جاتا ہے۔ جینا محال تو مرنا بھی آسان نہیں! موت کی آرزو بھی کرے تو کیسے۔

چند روز قبل میڈیا کی خبر نے اس آرزو کو بھی حیرانگی میں بدل دیا کہ, مردہ دفنانے کا ریٹ بھی تیس سے چالیس ہزار مقرر کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ شہر خموشاں پر قبضہ مافیاز کا راج بتایا گیا۔

میڈیا ملک دیوالیہ ہونے کی خبر دے رہا تھا، بھلا ہو جناب شبر زیدی کا انہوں نے تردید کر دی

حال ہی میں ملک دیوالیہ ہونے کی باتیں بھی زبان زد عام تھیں- جس کی بعد ازاں شبر زیدی کی نے ٹویٹر پر تردید کر دی, کہ میڈیا نے ان کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔

چلو یہ بھی مان لیتے ہیں، کیونکہ خدا ناخواستہ اگر ملک دیوالیہ ہونے جیسی صورتحال سے دوچار ہوتا، تو ایسے حالات میں عالمی منڈی میں ملک کی کریڈٹ ریٹنگ بہت گر جاتی- اور آئی ایم ایف و دیگر ممالک کی جانب سے قرض کی سہولت بھی ممکن نہ رہتی-

لہذا ابھی نوبت اس حال تک نہیں پہنچی- البتہ چالیس ارب کی بدعنوانیوں اور بے قائدگیوں کے بعد آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دینا تفصیلات پبلک کرنے سے مشروط کر چکا ہے۔

ملک درپیش مسائل سے نمٹنے کے وقت حکمران جماعت کو پارٹی دیوالیہ ہونے سے بچانے کی فکر لاحق

ملک کو درپیش مہنگائی، بیروز گاری اور دیگر مسائل سے نمٹنے کے وقت، حکمران جماعت کو اپنی پارٹی دیوالیہ ہونے سے بچانے کی بڑی فکر لاحق ہو گئی ہے۔

اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنی ہی سیاسی پارٹی کی تباہی کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ کیونکہ انیس اکتوبر 2021 کو ہونیوالے بلدیاتی انتخابات میں، دارالحکومت پشاور سمیت صوابی، بنوں، ڈی آئی خان اور دیگر اضلاع میں پی ٹی آئی کو اپوزیشن جماعتوں نے بدترین شکست دیکر عوامی مینڈیٹ پر قبضہ جما لیا ہے۔

بعض پارٹی رہنما تو مخالف جماعتوں کے امیدواروں کے ہمدرد نکلے

پارٹی کارکن تتر بتر نظر آ رہے ہیں۔ الیکشن میں ناکامی پر تیار کردہ تفصیلی رپورٹ وزیراعظم عمران خان کو پیش کی گئی۔ جس میں گورنر خیبر پختونخوا سمیت کئی ایم این ایز اور ایم پی ایز، ہی بلدیاتی الیکشن میں پارٹی کی شکست کے زمہ دار ٹھہرائے گئے۔

کسی نے آزاد امیدوار کا ساتھ دیا تو کوئی اپنے رشتہ دار کی کامیابی کیلئے جتن کرتا نظر آیا۔ بعض پارٹی رہنما تو مخالف جماعتوں کے امیدواروں کے ہمدرد نکلے۔

اتنی بڑی ٹیم ہونے کے باوجود ہر بار کپتان کو ہی کیوں وکٹ پر آنا پڑتا ہے؟،

حیرت اس بات کی ہے کہ کے پی کے میں اتنی بڑی ٹیم ہونے کے باوجود ہر بار کپتان کو ہی کیوں وکٹ پر آنا پڑتا ہے،

اس سے قبل 2017 میں جب صوبے میں ملازمتوں کی خرید و فروخت، شفارسی افسران کی تعیناتیاں، کمیشن کی لین دین، منظورِ نظر افراد کو قواعد و ضوابط کے منافی لاکھوں روپے ماہوار تنخواہوں پر رکھے۔

اس کی وجہ سے تعلیم، صحت، لوکل گورنمنٹ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔ تو اس وقت بھی عمران خان نے ایک انٹرویو میں خیبر پختونخوا حکومت کی ناکامی تسلیم کی۔

چند اہم فیصلے، اقدامات اٹھائے جس سے کرپشن کے طوفان پر کافی حد تک قابو پانے میں کامیاب ہوئے۔

اسی طرح چند روز قبل پھر بلدیاتی انتخابات میں بری طرح ناکامی کو کھلے دل سے اپنی پارٹی کی نالائقی تسلیم کیا، جو واقعی بڑا پن اور روایت ڈالنا انتہائی احسن فعل ہے۔

کیونکہ قائد پاکستان تحریک انصاف وزیراعظم عمران خان وہ واحد لیڈر ہیں، جنہوں نے اپنی پارٹی کے عہدیداروں کے سیاہ کارناموں پر کبھی پردہ نہیں ڈالا، بلکہ اصلاح و سرزنش کا عمل قائم رکھا۔ مگر سیاسی مخالفین کو تو موقع فراہم کرتا ہے۔

کے پی کے میں حکمران جماعت اُوپر سے لے کر نیچے تک اختلافات کا شکار

خیبرپختونخوا میں جہاں حکمران جماعت میں اوپر کی سطح پر شدید اختلافات ہیں۔ وہیں اگر دیکھا جائے تو یونین کونسل تک پارٹی آپسی اختلافات کا شکار ہے۔

لیکن صوبائی کابینہ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے پاس ان مسائل کے حل تو درکنار، اس حوالے سے سوچنے کو بھی وقت نہیں، جس کی مثال انیس دسمبر کو ہونیوالا الیکشن ہے۔

وزیر اعظم نے رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد دیگر پارٹی احکامات بھی دیئے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ پارٹی ورکرز کو منظم کیا جائے۔

سوال یہ نالائق قرار دی جانیوالی ٹیم مستقبل میں پارٹی کی کھوئی ساکھ بحال کر پائے گی؟

یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ، بلدیاتی الیکشن کیلئے موجودہ نالائق قرار دی جانیوالی پی ٹی آئی کی ٹیم نے اپنی پارٹی کو ہی تباہی کے دھانے پر کیوں لاکھڑا کیا۔؟ مستقبل میں ورکرز کو منظم کرنے میں کیا کردار ادا کر پائے گی۔؟

کیونکہ اس وقت خیبر پختونخوا میں جے یو آئی (ف)، اے این پی، پی پی پی، مسلم لیگ نون اور دیگر سیاسی جماعتیں، حکمراں جماعت کے سامنے پورے قد سے قدم جمائے کھڑیں ہیں۔

وہ پی ٹی آئی حکومت گرانے کیلئے کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔ جبکہ حالات کنٹرول میں رکھنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

دوسری جانب صوبہ کے بیشتر اضلاع میں، جس طرح پی ٹی آئی کمزور ہو چکی ہے۔ ٹھیک اسی طرح ادارے بھی بے بس اور کمزور نظر آ رہے ہیں۔

جس کی واضح مثال پشاور میں مبینہ دھاندلی الزام میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین، اور بالخصوص جے یو آئی (ف) کے رہنماء حاجی غلام علی کا سرعام ایک ماہ کے دوران اپنے بیٹے کو میئر بنانے کی غرض سے بیس کڑور روپے لگانے کا اعتراف کرنا، جبکہ موقع پر موجود پولیس افسر کو گالیاں دینا شامل ہے۔

وزیراعظم خیبر پختونخوا میں مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوتے ہیں،

نتائج پارٹی کے حق میں آنے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ جس کا مطلب یہ بھی ہو گا

کپتان کا نیا پاکستان یعنی ـ ـ ـ ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

وزیراعظم خیبر پختونخوا میں پارٹی بچانے۔ ورکرز کو منظم کرنے میں نالائق قرار دی جانیوالی ٹیم میں کس حد تک رد و بدل کرتے ہیں، اور وزارتیں واپس لیتے ہیں۔

یا پھر ان مخلص اور نظریاتی کارکنوں کو واپس لانے میں کامیاب ہوتے ہیں، جو دوبارہ سے صوبے میں ورکرز کی سونامی لانے کا فن رکھتے ہیں۔

کیونکہ وہ پارٹی میں موجود چاپلوس و مفاد پرست ٹولے سے فاصلہ رکھنے کی وجہ سے پارٹی سے بھی کنارہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔

ہمارے رائے میں اگر ایسے نظریاتی و فکری پارٹی رہنماؤں کو اہم مناصب پر فائز کیا جائے، تو جہاں پارٹی مضبوط ہو گی، وہیں پر کافی حد تک کرپشن کا خاتمہ بھی ممکن ہو گا۔ بصورت دیگر نتائج پارٹی کے حق میں آنے کے امکانات بہت کم دکھائی دے رہے ہیں۔

اب جب کہ وزیر اعظم عمران نے پاکستان تحریک انصاف کی تمام تنظیموں کو تحلیل کرنے کے بعد انہوں نے نئی تنظیم کا اعلان کر دیا ہے۔

اسد عمر کو پاکستان تحریک انصاف کا سیکرٹری جنرل، پرویز خٹک کو خیبر پختونخواہ، علی زیدی کو سندھ، قاسم سوری کو بلوچستان، شفقت محمود کو سنٹرل پنجاب اور خسرو بختیار کو جنوبی پنجاب کا صدور جبکہ عامر محمود کیانی کو پارٹی کا ایڈیشنل سیکرٹری جنرل نامزد کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قومی قیادت پر مشتمل اکیس رکنی آئینی کمیٹی تشکیل بھی دی گئی ہے۔ کمیٹی پارٹی کے نئے آئین پر کام کر رہی ہے۔ کمیٹی نئی تنظیموں کے بارے میں بنیادی ڈھانچہ بھی دوبارہ پیش کرے گی۔ سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی کی منظوری کے بعد نئی تنظیمیں تشکیل دی جائیں گی۔

یہ طے ہے عملی اقدامات خود پی ٹی آئی ہی نے اُٹھانے ہیں۔ کیونکہ وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ کپتان نے نئی ٹیم میں جن سیاسی شخصیات کو سلیکٹ کیا ہے، ان کا قد کاٹھ اور کردار اچھا ہے ، مگر معذرت کیساتھ بہترین نہیں۔

اب دیکھنا ہہ یے

کیا نئی ٹیم کپتان کے نیا پاکستان یعنی ـ ـ ـ ـ ـ وطن عزیز کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکے گی۔؟ تاہم ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔

نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا ، نمی دانم به کجا

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: