نابینا کا مسجد جانے کیلئے انوکھا طریقہ اور روزانہ نئی مسجد میں نمازفخر ادا کرنیوالا نوجوان

خرطوم (جے ٹی این پی کے) نابینا کا مسجد جانے کیلئے انوکھا

گذشتہ چند دنوں سے سوڈان میں سوشل میڈیا پر ایک نابینا نمازی کی تصویر گردش کر رہی ہے جس نے اپنے گھر سے مسجد تک جانے کے لیے گھر سے مسجد تک ایک رسی کھینچ دی تاکہ وہ کسی کی مدد کے بغیر مسجد تک پہنچ سکے۔

معلوم ہوا کہ جس سوڈانی شخص کی تصویر ٹویٹر پر پھیلی ہے ایک نابینا نمازی کی ہے۔

انہوں نے مسجد تک رسائی میں آسانی کے لیے اپنے گھر کے دروازے سے مسجد کے دروازے تک رسی لگانے کا فیصلہ کیا۔

اس نے یہ کام اس لیے کیا کہ وہ رسی کو مسجد تک رسائی کے لیے سہارے کے طور پراستعمال

کرے گا اور اسے مسجد تک جانے کے لیے کسی شخص سے مدد کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

جیسے ہی یہ تصویر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پھیلی اس شخص پرمثبت رد عمل سامنے آیا۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ نابینا افراد بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔

ان کی مدد ہماری ذمہ داری ہے۔ ان کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے ہمیں ان کی مدد کرنی چاہیے۔

روزانہ ایک نئی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنے والا پاکستانی

روزانہ ایک نئی مسجد میں فجر کی نماز پڑھنے والا پاکستانی شارجہ میں مقیم ہے،

65 سالہ محمد دائود کا آبائی تعلق پاکستان سے ہے لیکن وہ شارجہ میں مقیم ہے،

منفرد شوق رکھنے والے محمد دائودکی خواہش ہے کہ وہ اپنی زندگی میں متحدہ عرب امارات

کی ہر مسجد میں فجر کی نماز ادا کریں۔

محمد داد اسپورٹس بائیک بی ایم ڈبلیو آر 1200 آر ٹی چلاتے ہیں اور رات کے تہائی حصہ

میں فجر کی نماز ایک نئی مسجد میں پڑھنے کے مشن پر نکل جاتے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق محمد داد شمالی یو اے ای کی 100 کے قریب مساجد میں فجر کی نماز پڑھ چکے ہیں۔

جس کا تجربہ وہ وی لاگنگ کے ذریعے اپنے یوٹیوب چینل ‘ان لوو وید دی مسجد’ پر بھی کر چکے ہیں۔

محمد داد نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی اسپورٹس بائیک پر سوار ہو کر متحدہ عرب امارات

کی تمام 4000 مساجد میں نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔

نابینا کا مسجد جانے کیلئے انوکھا

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
یہ بھی پڑھیں : آئی ایم ایف سے جان خلاصی ، حکومت کا عوام سے رجوع کا فیصلہ

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: