مجھ پہ احساں جو نہ کرتے تو یہ احسان ہوتا۔۔

کالمز، بلاگز، فیچرز / مجھ پہ احساں جو

موجودہ خراب معاشی حالات میں حکومت اور وفاقی وزیر خزانہ بتکرار مضحکہ خیز بیانات دے رہے ہیں کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے یعنی تیل بجلی و گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرکے ہم اس قابل ہوگئے ہیں کہ امور مملکت چلا سکیں وزیروں مشیروں افسروں کی بھاری تنخواہیں اور بے جا و بے حساب مراعات دینے لائق ہوگئے ہیں 

ساوَن کے اَنْدھے کو ہَرا ہی ہَرا سُوجْھتا دِکھائی دیتا ہے مگر۔۔! از سوی دیگر انسانی المیے کی پیش گوئی۔! 

لیکن ان ساون کے اندھوں کو اپنی ہریالی تو نظر آتی ہے لیکن دوسری جانب عوام کی انتہائی بری حالت دکھائی نہیں دیتی اور ان کے مہنگائی کے اقدامات سے عوام کا دیوالیہ پن نظر نہیں اتا۔ ادھر عالمی سطح پر مہنگائی اور تیل کی کے بڑھتے داموں کے سبب اناج اور اجناس کی عدم دستیابی کے باعث بھوک اور قحط کی پیشگوئی کی جارہی ہے۔ برطانیہ کے اہم جریدے دی اکانومسٹ نے سر ورق پر گندم کی تصویر یوں لگائی ہے کہ اس کے غوشوں میں دانوں کی جگہ انسانی کھوپڑیاں ظاہر کی ہیں جو دنیا کے بیشتر غریب ممالک میں خوراک اور اجناس کی قلت اور قحط کی نشاندہی کر رہی ہے۔

غذائی قلت سے بغاوت اور خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہونے کے ممکنہ خدشات

جریدے کے مطابق بدترین قحط اور ہولناک بغاوتیں دنیا کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں۔ غذائی قلت سے لاکھوں 

لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور قحط کے نتیجے میں ممالک میں بغاوت شروع ہوسکتی ہے۔

پچھلی بار جب دنیا کو آج کی طرح غذائی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو عرب ممالک میں بغاوتوں کی 

ایک لہر اٹھی جس نے چار صدور کو معزول کیا اور شام، لیبیا میں خوفناک خانہ جنگیوں کو جنم دیا۔

یوکرین پر حملے سے اس سال بھی قحط کا امکان ہے۔ جریدے کے مطابق خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں 

اضافہ مہنگائی کی سب سے زیادہ خطرناک شکل ہے۔ اگر فرنیچر یا سمارٹ فون کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں 

تو لوگ خریداری ملتوی کر دیتے ہیں لیکن پیٹ کی آگ بجھانے میں کوئی وقفہ یا تاخیر نہیں کی جاسکتی۔ 

اسی طرح نقل و حمل کے اخراجات بھی جسمانی ضرورت میں شامل ہیں۔ زیادہ تر لوگ آسانی سے کام پر 

نہیں جاسکتے جب خوراک اور ایندھن مہنگے ہو جاتے ہیں تو معیار زندگی اچانک گر جاتا ہے یہ درد

غریب ممالک کے لوگوں کے لئے بہت اذیت ناک ہوتا ہے جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ روٹی اور بس 

کے کرایوں پر خرچ کر دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سٹر انتونیو گوتریس نے رواں برس

دنیا کے کئی خطوں اور ممالک میں شدید قحط کے شدید خطرات کے خلاف خبردار کیا ہے۔ 

انہوں نے متنبہ کیا ہے کہ اس وقت دنیا کو بھوک کے بے مثال عالمی بحران کا سامنا ہے 

اور عالمی سطح پر غذائی قلت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق 2022 میں کئی ممالک 

میں قحط کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اور 2023 اس سے بھی شدید تر ہوسکتا ہے۔ 

اقوام متحدہ کےاندازوں کیمطابق اس وقت دنیا کے تقریباً 34 ممالک میں کروڑوں انسان بھوک اور قحط کے دہانے پرہیں۔ 

عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ مالپاس نے کہا ہے کہ بہت سے ممالک کیلئے کساد بازاری سے بچنا مشکل ہوگا

بینک کو خدشہ ہے کہ رواں سال تیل 42 فی صد مہنگا ہوگا جبکہ توانائی سے ہٹ کر اشیاء کی

قیمتوں میں 18 فی صد اضافے کا امکان ہے۔ واضح رہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے سبب سری 

لنکا شدید بحران کا شکار ہوچکا ہے  جبکہ پاکستان جیسے کمزور معیشت کے ممالک اس قسم کے بحران سے نمٹنے 

کیلئے ہنگامی مالیاتی صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس تلخ حقیقت کے سامنے آنے کے باوجود ہماری حکومت خصوصاً وفاقی وزیر خزانہ کا دعویٰ کہ ہم نے پٹرول

وغیرہ کی اضافی قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈال کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، 

کسی صورت درست قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرکے موجود خطرے سے انکار کرنے کے 

مترادف ہے۔ اور حقیقت یہی ہے کہ ڈوبتے کو تنکے کے سہارے کسی صورت بچایا نہیں جاسکتا اور حقیقت یہی 

ہے کہ ملک و قوم کی حالت اس نازک مقام تک پہنچانے میں ہمارے تمام حکمرانوں کا ہاتھ ہے

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

مجھ پہ احساں جو

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: