قرضوں پر منحصر بجٹ کے سائیڈ ایفیکٹس

کالمز، بلاگز، فیچرز/قرضوں پر منحصر بجٹ

خوش قسمت ہیں ان ممالک کے شہری جہاں باقاعدہ ٹیکس وصولیاں کی جاتی ہیں لیکن عوام کا پیسہ صرف عوام

کی بھلائی پر ہی خرچ کیا جاتا ہے وہاں کے حکمرانوں کے منہ کو حرام کا مزہ نہیں لگا ہوتا۔

ہمادے ہاں بجٹ بظاہر اسی لئے بنایا اور خوش نما کرکے پیش کیا جاتا ہے کہ عوامی ضرورتوں کو بہتر

اور متوازن طریقے سے پورا کیا جائے تاکہ خرچ اور آمدن میں کمی بیشی نہ رہے ۔لیکن صرف

ہندسوں کے ہیر پھیر سے ہمیں خوش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے درحقیقت قرضوں پر منحصر ہمارا بجٹ صرف

حکمرانوں اور افسر شاہی کا حصہ بخرہ ہی قرار پاتا ہے۔اور نت نئے ٹیکسوں سے لدا بجٹ عوام کی

چیخیں ہی نکالتا اور پریشانیوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

حالیہ قومی و صوبائی بجٹ کا جزوی خاکہ کچھ اس طرح سے ہے۔ ،

بڑی صنعتوں پر 13 شعبوں میں 10فیصد سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔نتیجاتا بوجھ عوام پر ہی پڑے گا۔اس کا فوری نقصان یہ ہوا کہ سٹاک مارکیٹ کریش کر گئی اربوں روپے ڈوب گئے۔آئی ایم ایف کے مطالبے پر 396 ارب روپے کے مزید ٹیکس لگائے گئے ہیں۔بجلی مزید مہنگی کر نے کے حکومتی فیصلے سے عوام کو سخت جھٹکے دئیے جارہے ہیں۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی پھر باچھیں کھل گئی ہیں یہ کہتے ہوئے کہ چین سے 2.3 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں جبکہ یہ عوام کے لئے ایک صدمہ ہے جن پر قرضے کا مزید بوجھ بڑھ گیا ہے۔ادھر غلط پالیسیوں کے سبب ڈالر سستا ہوتے ہوتے پھر مہنگا ہوگیا۔ماہانہ ایک سے 3 لاکھ تنخواہ پر 12 فیصد ٹیکس لگا کر تنخواہ داروں کو بھی نہیں بخشا گیا۔
خیبرپختونخوا بجٹ میں جائیداد، نسوار بجلی پر نئے ٹیکسز عائد کرکے عوام کا مزید امتحان لیا جا رہا ہے

دیگر چیزوں پر ٹیکسوں کی بھر مار تو روایتی ہےلیکن اس دفعہ نسوار جیسی سستی اور عوامی عادت پر بھی

ٹیکس لگاکر پبلک کوحیران کر دیا گیا ہے جبکہ نسوار خوروں کی چٹکی لے کر انہیں چھیڑا گیا ہے۔اور

سوشل میڈیا پر بھی وہ سراپااحتجاج ہیں۔صوبے میں غیرملکی قرضوں پرچلنے والے منصوبوں کی لاگت بھی بڑھ گئی ہے۔

جس سے حکام کے اللوں تللوں میں تو کوئی فرق نہیں آئے گاالبتہ سارا بوجھ عوام پر ہی پڑے گا۔

دوسری طرف قدرت بھی نا مہرباں نظر آتی ہے کہ پانی جیسی مفت کی نعمت جس پر تمام حیات کی زندگی کا دارومدار ہے،زیر زمین اس کی سطح کم ہو کر بحران کی شکل اختیار کر رہی ہے اس کی وجوہ ہماری بے احتیاطی، اس کا ضیاع اور حکومتوں کی غفلت ہے جو بر وقت اور موزوں منصوبہ بندی نہیں کر پاتیں۔

سیاسی خبر یہ ہے کہ بھارت نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بحال کردیا ہے جو پاکستان حکومت کیلئے ایک بری خبر ہے کیونکہ وہاں اربوں روپے کی بھارتی سرمایہ کاری طالبان حکومت کے قیام سے ڈوبتی نظر آرہی تھی جس پر میڈیا اور حکومت بغلیں بجا رہے تھے لیکن اب بھارت کیلئے یہ باعث اطمینان امر ہے۔عالمی سیاست میں یہ اتار چڑھاؤ اتے رہتے ہیں ان پر رنجیدہ خاطر یا خوش نہیں ہونا چاہئیے۔ہر ملک کی اپنی خارجہ پالیسی ہوتی ہے اس میں دوسرے ممالک کی دخل اندازی سے احتراز کرنے ہی میں بھلائی ہوتی ہے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

قرضوں پر منحصر بجٹ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: