عمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج

لاہور،اسلام آباد،کراچی،پشاور (عمران رشید خان سے) عمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف

سابق وزیراعظم عمران خان پر وزیر آباد میں لانگ مارچ کے دوران حملے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے کال دیئے جانے پر کارکن سڑکوں پر نکل آئے،

اس دوران پولیس اور کارکنوں میں تصادم ہوا،کراچی، لاہور، گجرات،حافظ آبا د ،پشاور،کوئٹہ،شیخوپورہ،ڈیرہ غازی خان میں مظاہرین کی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی، پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین عمران خان کا مطالبہ پورا ہونے تک ملک گیر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کر دیاگیا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنر ل اسد عمر کی نماز جمعہ کے بعد پورے ملک میں احتجاج کی کال پر پی ٹی آئی کے کارکن بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ۔

لاہورمیں پی ٹی آئی کارکنوں نے گورنر ہاؤس کے باہر جلاؤ گھیراؤکیا،

گیٹ پر چڑھ گئے توڑ پھوڑ بھی کی، اس دوران پولیس اور کارکنوں میں تصادم ہوا۔

اسی طرح صوبائی دارالحکومت کے دیگر کئی مقامات پر بھی احتجاج کیاگیا۔احتجاج کے باعث مال روڈ پر ٹریفک جام ہوگیا جبکہ ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ چوک اور جی پی او چوک میں ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی ۔

حافظ آباد میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے شدید احتجاج کیا اور وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، شہباز شریف کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور فوارہ چوک میں ٹریفک بلاک کر دی۔

گجرات ، لالہ موسیٰ، کھاریاں، سرائے عالمگیر سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں پی ٹی آئی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا، ضلع بھر میں جی ٹی روڈ مختلف مقامات پر ٹریفک کیلئے بند کر دیئے گئے، مشتعل کارکنوں نے شاہین چوک بائی پاس روڈ بلاک کر دیا اور نعرے بازی کی، ٹریفک بند ہونے سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

شیخوپورہ میں بھی پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا

اور حکومت مخالف نعرے لگائے، فیروز والا، امامیہ کالونی، شاہدرہ چوک، کوٹ عبدالمالک،

فیض پور سمیت دیگر جگہوں پر ٹائروں کو آگ لگا دی اور نعرے بازی کی۔

ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقہ کوٹ چٹھہ میں قاتلان حملے کیخلاف پی ٹی آئی کارکنوں نے احتجاج کیا اور انڈس ہائی وے بلاک کردی،

احتجاج سردار محی الدین کھوسہ ایم پی اے کی زیر قیادت میں ہوا۔جبکہ پنجاب بار کونسل (پی سی بی) نے بھی قاتلانہ حملے کی کوشش کیخلاف صوبے بھر میں عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان پر حملہ انصاف اور تحفظ کی فراہمی پر مامور اداروں کی واضح ناکامی ہے۔ وکلا برادری احتجاجی طور پر عدالتوں میں پیش نہیں ہوگی۔

ادھر اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم پر واقع فیض آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے

کارکنوں نے احتجاج کیا اور پولیس پر پتھراؤ کیا،

وفاقی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شیلنگ کی

جبکہ پولیس نے پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

فیض آباد پل پر پی ٹی آئی کارکنان نے گرین بیلٹ پر ایک درخت کو آگ لگا دی۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق فیض آباد کے مقام پر راولپنڈی کی جانب مظاہرین جمع ہیں،

مظاہرین ڈنڈوں، غلیلوں اور پتھروں کیساتھ اکٹھا ہیں، مظاہرین میں اسلحہ بردار بھی موجود ہونے کا اندیشہ ہے،

ان کا کہنا تھا راولپنڈی انتظامیہ سے گذارش ہے مظاہرین کو غیر قانونی عمل سے روکیں،

اسلام آبادپولیس شر پسند عناصر کی نشاندہی کر رہی ہے، راولپنڈی پولیس کی مدد سے

قانونی کارروائی عمل میں لائیں گے،مظاہر ین میں کم عمر بچے بھی موجود ہیں،

والدین اپنے بچوں کو کسی بھی غیر قانونی عمل کا حصہ بننے سے روکیں۔

دوسری طرف عمران خان پر قاتلانہ حملے کے بعد شہر قائد کے مختلف علاقوں میں

پی ٹی آئی کارکنوں نے شدید احتجاج کیا اور حکومت مخالف نعرے بازی کی،

اس دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔

متعدد کارکنوں کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔جبکہ پشاور میں انصاف لائیر فورم کی جانب سے

احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کیخلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت پشاور بار ایسوسی کے صدر علی زمان کر رہے تھے ،

مظاہرین نے عمران خان اور لانگ مارچ کے شرکا پر حملے کی مذمت کی اور کہا

آئین پاکستان ہمیں پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے،

عمران خان اس وقت ملک کے سب سے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ عمران خان 7 نشستوں پر

بغیر مہم کے جیت گئے اس وجہ سے سب خوف میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ادھر بلوچستان میں عمران خان پر حملے کیخلاف شٹر بند ہڑتال جاری ہے جہاں قلعہ عبداللہ،

نوشکی، پشین، سنجواری اور دیگر اضلاع میں دکانیں اور مارکیٹیں بند ہیں۔

کوئٹہ میں تحریک انصا ف کے احتجاجی مظاہرے میں جمعیت علمائے اسلام شیرانی گروپ نے شرکت کی،

جمعیت علماء اسلام شیرانی گروپ کے قائدین و ورکرز بھی مظاہرے میں شریک ہوئے،

پی ٹی آئی کی خواتین ونگ نے بھی مظاہرے میں شرکت کی۔ مظاہرین کی وفاقی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

احتجاجی مظاہرے کی قیادت قومی اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کی ،

احتجاجی مظاہرہ کوئٹہ کے منان چوک پر کیا گیا،

دوران احتجاج قاسم سوری نے کہا مظاہرین اپنی جانیں قربان کر دیں گے مگر

حقیقی آزادی مارچ سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عمران خان پر حملے سے مارچ کے

شرکا کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملے کیخلاف

توشہ خانہ کیس،عمران خان نااہل قرار

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: