عمران خان پر حملہ اور عاجلانہ سیاسی موقف

عمران خان پر حملہ

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر فائرنگ کے نتیجے میں عمران خان اور ان کے ساتھیوں سمیت کئی افراد زخمی جبکہ معظم نامی کارکن جاں بحق ہو گیا۔

سیاست انسانیت پر اسقدر غالب آ چکی ہے کہ مقتول معظم کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو رہی۔

وہ کون تھا، اس کے کتنے بچے ہیں، والدین کا کیا حال ہے، اہلیہ کس صورتحال سے دوچار ہے،

بچوں کا کیا بنے گا، ان کی معاشی حالت کیسی ہے؟

پی ٹی آئی نے اس پر تبصرہ کیا نہ ہی حکومت نے زحمت گوارا کی۔ میڈیا بھی خبر تک محدود ہے،

البتہ گرفتار حملہ آور نوید بشیر اور اسے پکڑنے والے کارکن ابتسام سے متعلق خوب تذکرے ہو رہے ہیں۔

پڑھیں : معجزاتی وزیراعظم اور چودھری غلام حسین

واقعہ انتہائی افسوسناک اور تشویشناک بھی ہے۔ اسے نظر انداذ کیا جا سکتا اور نہ ہی معمولی تصور کیا جا سکتا ہے،

تاہم اس غیر معمولی واقعہ کے بارے میں حکومت نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ بے حد مناسب، نپا تلا اور برمحل ہے،

لیکن پی ٹی آئی نے عاجلانہ سیاسی موقف اپنا کر تاثر دیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی جانوں اور قومی و ملکی مفاد سے زیادہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے استعفے اہم ہیں۔

اسد عمر کے مطابق عمران خان نے شہباز شریف، رانا ثناء اللہ

اور ایک سیئنر سرکاری اہلکار کو حملے کا ذمہ دار گردانا اور ان

کے خلاف مقدمہ درج کروانے کی ہدایت کی ہے۔ یہ بات ناقابل فہم ہے

کہ حملہ آور سے فوری بیان لے کر نشر و اشاعت بھی کر دی گئی،

جس میں نوید ولد بشیر نے اقبال جرم کرتے ہوئے حملہ کرنے کی وجہ بھی بتا دی کہ عمران خان قوم کو گمراہ کر رہے اور اذان کے وقت بھی ڈیگ چل رہا ہوتا یے۔

مزید پڑھیں : آغاز تو بسم اللہ ہے انجام خدا جانے

سوچئے کہ عمران خان خود بھی انکشاف کر چکے ہیں کہ انہیں

شدت پسند قتل کرنا چاہتے ہیں اور حملہ آور کا بیان بھی ان کی تائید

کر رہا ہے۔ واقعہ صوبہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کی حدود

میں ہوا، لہذا وزیراعلی پرویز الہی اور وہاں کی پولیس کو ذمہ دار

قرار دینا اور ان سے استعفے مانگنے چاہییں تھے، مگر عمران خان نے اپنی وزارت عظمی کے بڑے بڑے واقعات پر استعفے دیے نہ لیے۔

خیبر پختونخوا میں آئے روز غیر معمولی وقوعے ہوتے رہتے ہیں

لیکن وزیراعلی محمود خان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ نہیں کیا۔

دکھ کی بات یہ ہے کہ جانوں کی پروا نہیں اقتدار کے حصول پر توجہ ہے۔

اگر آئین و قانون اور جمہوریت کی پاسداری، بالادستی اور بالاتری

تسلیم نہیں کی جائے گی تب تک قومی انتشار و افتراق، تشدد اور فاشزم

فروغ پاتا رہے گا۔ ماضی میں مقتدر سیاسی جماعتوں نے آئین و قانون کو پس پشت ڈالے رکھا مگر پی ٹی آئی اور عمران خان نے ساری حدود عبور کر لیں۔

یہ بھی پڑھیں : قومی بیانیہ !

لانگ مارچ جاری رہے اسلام آباد پہنچے اور پرامن طور پر اختتام

پذیر ہونا چاہیے۔ سیاسی نعرے، دعوے، دھمکیاں زبانی حد تک تو قابل

برداشت ہو سکتی ہیں البتہ ان پر عملدرآمد کسی صورت بھی برداشت نہیں

کیا جا سکتا۔ حالیہ واقعہ کے بعد یہ راز تو افشا ہو چکا کہ عمران خان نے

ریکارڈڈ وڈیو میں شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور سینئر سرکاری اہلکار کو نامزد کیا ہوا ہے۔ بہر حال تفتیش و تحقیق اور ثبوتوں کے بغیر کسی کو ملوث قرار دے دینا نامناسب و ناقابل فہم ہے۔

مزید پڑھیئے : سُوچنا جرم نہیں ہے

اس طرح تو روایت بن جائے گی کہ جب بھی کسی سیاستدان یا سیاسی

کارکن پر حملہ ہو گا یا وہ قتل ہو جائے گا تو ایف آئی آر مقتدر شخصیات

کے خلاف کٹوائی جائے گی۔ آج اگر وزیراعظم ، وزیر داخلہ اور سینئر

سرکاری اہلکار کے خلاف مقدمہ درج ہو گا تو کل عمران خان اور ان کے

ساتھیوں کے خلاف بھی درج ہو گا، لہذا تفتیش و تحقیق اور ثبوتوں کے بعد

ہی ملزمان کا تعین کر کے قانونی چارہ جوئی ہونا چاہیے ورنہ یہ سلسلہ آگے چل نکلے گا اور ایک روز عمران خان خود بھی پھنسے ہوں گے۔

عمران خان پر حملہ ، عمران خان پر حملہ ، عمران خان پر حملہ

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: