عثمان مرزا کیس، ان کیمرہ سماعت میں متاثرہ لڑکی ،لڑکا بیان سےمکر گئے

عثمان مرزا کیس ان کیمرہ سماعت

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) عثمان مرزا کیس میں ان کیمرہ سماعت میں ویڈیو چلا دی گئی ، وکیل

کی جرح کے دوران متاثرہ لڑکی اور لڑکے بیان سے مکر گئے۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد کی

مقامی عدالت میں ای الیون لڑکا لڑکی ویڈیو سکینڈل کیس کی سماعت ہوئی ، مرکزی ملزم عثمان

مرزا سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش کیا گیا۔ مرکزی ملزم عثمان مرزا کے وکیل ملک جاوید

عدالت میں پیش ہوئے ، وکیل ملک جاوید نے استدعا کی کہ میں بیان پڑھنا چاہتا ہوں، جج کے حکم پر

وکیل ملک جاوید وینس کوبیان پڑھنے کی اجازت دے دی گئی، وکیل ملک جاوید اقبال وینس نے کہا

میری حد تک نل کر دیں۔ عمر بلال کے وکیل شیر افضل عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت سے استدعا

کی کہ ویڈیو چلائی جائے ، میں ویڈیو کا صرف ایک کلپ دکھانا چاہتا ہو ، جس پروکیل ارباب عالم

کا کہنا تھا کہ آپ کو ہوکیا گیا ہے آپ سب کے سامنے ویڈیو چلوارہے ہیں تو وکیل شیر افضل نے کہا

ویڈیو میں صرف لڑکے کو اس کی شکل دکھانا چاہتا ہوں۔ عدالت نے کمرہ عدالت سے سب کو باہر

نکال کر ویڈیو چلوائی ، وکیل نے متاثرہ لڑکی سے سوال کیا کہ کیاآپ نے عدالت میں بیان کیلئے

میرے کلائنٹ سے ایک لاکھ لیے؟ جس پر لڑکی نے بتایا نہیں میں نے کوئی پیسہ کسی سے نہیں لیا،

واقعے کے وقت میں گھر میں رہتی تھی کیونکہ نوکری نہیں کرتی تھی، پولیس نے مجھ سے سفید

کاغذ پر دستخط اور انگوٹھا لگوایا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد میرا اور

اسد رضا کا نکاح ہوا تھا، ویڈیو وائرل ہونے سے قبل اسد رضا اور میرا رشتہ ہو چکا تھا، میرے

گھر میں اسد رضا کا رشتہ آیا تھا لیکن تاریخ یاد۔ لڑکی نے مزید بتایا فیملی کی موجودگی میں ملاقات

ہوتی رہتی تھیں، اسد رضا کے ساتھ اپارٹمنٹ میں رات گزارنے نہیں آئی تھی، ہم دونوں رشتہ دار نہیں

تھے، اسد رضا سے ارینج میرج ہوئی۔ وکیل نے کہا ایف آئی اے کہتا ہے ویڈیو میں آواز اور

موجودگی آپ کی ہے، جس پر متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ دنیا میں 7چہروں کے لوگ ایک طرح کے

ہوتے ہیں، وکیل ملزم شیر افضل نے سوال کیا آواز کیسے آپ کی ہے؟ تولڑکی نے کہا مجھے نہیں

معلوم، متاثرہ لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ میرے خاندان کے حوالے سے سوال کیوں کیے جارہے؟ جس

پر وکیل نے بتایا ہم جانناچاہ رہے ہیں آپ کو پیسوں کی ضرورت تھی یا نہیں تو لڑکی نے کہا ویڈیو

وائرل ہونے پرخاندان والوں کوبتایاکہ ویڈیومیری نہیں۔متاثرہ لڑکی پر ملزم کے وکیل نے نے جرح

مکمل کرلی، جس کے بعد متاثرہ لڑکے کو عدالت میں جرح کیلئے پیش کیا گیا۔ متاثرہ لڑکا نے عدالت

کو بتایا کہ جس دن ویڈیو بنی اس وقت میں اسلام آباد میں کام پر تھا۔ میں فری لانسر ریل اسٹیٹ ایجنٹ

کا کام کرتا تھا، میں نے کرائے کے کافی سودے کرائے ،اپولو الیون میں سودا کروایا تھا، 8 منزلہ

بلڈنگ ہے۔ جس پر وکیل نے کہا جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اپولو الیون میں 11منزلیں ہیں بعد ازاں

کیس کی سماعت 25 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئندہ سماعت پر مقدمہ کے تفتیشی افسر

پر جرح ہوگی۔

عثمان مرزا کیس ان کیمرہ سماعت

رکی پونٹنگ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ پر برس پڑے

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: