عالمی دن:34 برس میں 23 ہزار کشمیری خواتین بیوہ ہوگئیں۔ بھارتی دہشت گردی آخر کب تک ۔۔؟

Imran Rasheed
عمران رشید خان

خصوصی رپورٹ/ عالمی دن:34 برس

بھارت کی بد ترین ریاستی دہشت گردی کی وجہ سے جنوری 1989 سے اب تک 22ہزار944 کشمیری خواتین

بیوہ ہوچکی ہیں کیونکہ ان کے شوہروں کو بھارتی فوجیوں، پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں نے شہید کیا ہے

ناجانے کتنے ہی معصوم بچے اپنے باپ کی شفقت سے محروم ہوگئے

جو کہ یہ نہیں جانتے کہ ان کو کس جرم کی سزا میں یتیم کردیا گیا ہے۔

بیواﺅں کے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ

بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں جہاں 34 برس کے عرصہ میں 23 ہزار کے لگ بھگ

خواتین بیوہ ہوچکی ہیں وہیں پر اس عرصے کے دوران 25 سو کے لگ بھگ خواتین کے شوہروں کو گرفتار

کرنے کے بعد لاپتہ کر دیا ہے ان خواتین کو نیم بیواﺅں کا نام دیا گیا ہے جبکہ

جنوری 2001 سے آج تک 681 خواتین کو بفوجیوں نے شہید کیا ہے۔کشمیری خواتین کو ج

علاقے کی کل آبادی کا اکثریتی حصہ ہے، بہت سے نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ مسلسل پریشانی اور

مشکلات کی وجہ سے کشمیری بیوائیں اور نیم بیوائیں نفسیاتی مسائل کا سامنا کررہی ہیں۔ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے 

کہ بیواﺅں کا عالمی دن دنیا کے لئے ایک یاد دہانی ہے کہ وہ کشمیری بیواﺅں اور نیم بیواﺅں کی

حالت زار کا احساس کرے۔ بیواﺅں کا عالمی دن کشمیری بیواﺅں اور نیم بیواﺅں کو درپیش مشکلات کے بارے میں

آگاہی پیدا کرنے کا دن ہے ۔ دنیا کو کشمیری بیواﺅں اور نیم بیواﺅں کو درپیش صدمے کونہیں بھولنا چاہئے۔ 

مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑی تعداد میں بیواﺅں اور نیم بیواﺅں کی موجودگی بھارتی فوجیوں

کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا ثبوت ہے۔ 

کشمیریوں پر ظلم بربریت کی انتہا کے باوجود مسلسل چشم پوشی اقوام متحدہ کا منافقانہ کردار، اور عالمی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

عالمی دن:34 برس

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: