عالمی برادری بھارت میں مسلم نسل کشی کی دھمکی کا نوٹس لے، عمران خان

بھارت مسلم نسل کشی کی دھمکی

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) وزیرعظم عمران خان نے عالمی برادری سے

مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک انتہا پسند ہندو رہنما کے 20 کروڑ مسلمانوں کے قتل عا

م کی دھمکی دینے پر مودی سرکار کی خاموشی کا نوٹس لے۔ سماجی رابطے کی

ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹوئٹ میں مودی سرکار میں

مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے مظالم اور قتل عام کی دھمکیوں پر تشویش

کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا اورمزید لکھا کہ

گزشتہ ماہ ہندوتوا شدت پسندوں کے اجتماع میں بھا ر ت میں ایک مقرر نے 20

کروڑ مسلمانوں کے قتلِ عام پر اکسایا اور دھمکیاں دیں جس پر تاحال مودی

سرکار نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے،جو اس سوال کو جنم دیتی ہے کہ

آیا بی جے پی کی حکومت قتل عام کی دھمکیوں کی حمایت کرتی ہے۔ وقت کی

نزاکت کا تقاضا ہے عالمی برادری اس کا نوٹس لے اور کارروائی کرے۔ بھارتیہ

جنتا پارٹی کی مودی سرکار کے شدت پسندانہ نظریے کے سائے میں ہندوتوا

جتھے پوری ڈھٹائی اور آزادی سے بھارت میں تمام مذہبی اقلیتوں پر حملہ آور ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ مودی سر کا ر کے یہ شدت پسندانہ

عزائم ہمارے علاقائی امن کیلئے ایک جیتا جاگتا اورحقیقی خطرہ ہیں۔بعدازاں

وزیراعظم نے اپنی زیرصدارت حکومتی رہنماؤں اور ترجمانوں کے اجلاس سے

خطاب میں کہاکہ سانحہ مری پر بننے والی تحقیقاتی کمیٹی جلد از جلد حقائق

سامنے لائے۔ ریسکیو آپریشن میں فوج کی کاوشیں قابل تعریف تعریف ہیں۔ اجلاس

میں موجودہ سیاسی صورتحا ل، سانحہ مری پر بریفنگ دی گئی جبکہ فارن فنڈنگ

کیس سے متعلق گفتگو ہوئی، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان اور وزیر مملکت

فرخ حبیب کی طرف سے فارن فنڈنگ کیس جبکہ وز یرخزانہ شوکت ترین نے

معاشی صورتحال پر بریفنگز دیں۔مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا ہم نے

اپنے ڈونرز کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کیں، الیکشن کمیشن دوسری جما

عتو ں کے فنڈنگ ذرائع بھی سامنے لائے، فنانس سپلیمنٹری بل اسی ہفتے اسمبلی

سے منظوری کروائیں گے۔ ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور نے سانحہ مری پر

بریفنگ دی۔اجلاس کے دوران سول ملٹری تعلقات پر بھی بات چیت کی گئی،

وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار

کی طرف سے چند روز قبل کی جانیوالی پریس کانفرنس کے بعد سول ملٹری

تعلقات سے متعلق اپوزیشن کا بیانیہ دم توڑ گیا۔وزیرخزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے

(آئی ایم ایف) کیساتھ ہونیوالے معاہدے سے ترجمانوں کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا

مہنگائی میں مسلسل کمی آرہی ہے، سانحہ مری پر تفصیلی بریفنگ میں بتایا گیا

ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں۔وزیراعظم نے استفسار کیا کہ کیا

برو قت اقدامات سے سانحہ مری کو روکا جا سکتا تھا؟ذرائع کے مطابق اجلاس

میں وفاقی وزراء ضلعی انتظامیہ کے حق میں بول پڑے، وزیر داخلہ شیخ رشید

نے کہا پوری صورتحال کے دورا ن انتظامیہ اور پولیس نے بہترین کام کیا، شام

پانچ بجے ہی مری جانیوالے راستے بند کردیے تھے، حالات پولیس کے کنٹرول

سے باہر تھے، رینجرز طلب کرنا پڑی۔اس موقع پر عمرا ن خان کا کہنا تھا موجودہ

دور میں سیاحت ایک نئی حقیقت ہے، سیاحت بڑھ گئی ہے، انفراسٹرکچر کئی

دہائیاں پیچھے ہے، نئے ہوٹلز کی تعمیر کیساتھ پرانے سٹرکچر کو بہتر کرنا لازمی

ہے، بڑ ھتے ہوئے سیاحوں کو معیاری رہائش کی فراہمی ایک چیلنج ہے۔ سیاحتی

مقامات پر ساری چیزوں کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے، مری میں

انفراسٹرکچر کی کمی کو دور کرنے کیلئے جد ید طریقے سے سارے معاملے کو

ہینڈل کیا جائے۔

بھارت مسلم نسل کشی کی دھمکی

رکی پونٹنگ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ پر برس پڑے

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: