نور مقدم قتل کیس ، ظاہر جعفرکو سزائے موت کا حکم

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) ظاہر جعفرکو سزائے موت

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی مجرم ظاہر جعفرکو سزائے موت جبکہ اس کے گھریلو ملازمین جمیل اور افتخار کو اعانت جرم پر دس دس سال قید کی سزا سنادی‘

مجرم کے والدین ذاکر جعفر اور عصمت آدم جی سمیت تھراپی ورکس کے مالک ڈاکٹر طاہر ظہور اور اس کے ملازمین کو بری کردیا گیا‘

پولیس چالان میں مجموعی طور پر 12ملزمان کے نام شامل کئے گئے تھے جبکہ کیس میں 11گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے‘

نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجرم کو مثالی سزا دی گئی ہے‘

یہ کیس میری بیٹی نہیں بلکہ پوری قوم کی بیٹیوں کا تھا‘ نو ر نے اپنی عزت بچانے کے لئے جان کا نذرانہ دیا‘ شوکت مقدم کے وکیل شاہ خاور ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے کو انصاف اور عدالت کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مقتولہ کی روح اور لواحقین کواطمینان حاصل ہوگا‘

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ کے تحت گرفتاریوں سے روک دیا

عدالتی فیصلہ سننے کے لئے کمرہ عدالت میں قاتل اور مقتولہ کے اہل خانہ سمیت سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے انتہائی سخت سیکورٹی میں مجرمان کو عدالت میں پیش کیا۔

عدالت کی طرف سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے مجرمان کو فوری طور پر اڈیالہ جیل پہنچانے کا حکم دیا گیا

جبکہ عدالت کی طرف سے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔

کمر ہ عدالت میں نور مقدم کے والد شوکت مقدم اپنے وکلاء کے ہمراہ موجود

تھے جبکہ مرکزی مجرم کے وکلاء اور تھراپی ورکس کے وکلاء بھی موجود تھے۔

عدالتی فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم کے وکیل شاہ

خاور ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالتی فیصلے سے مقتولہ کی روح اور اس کے خاندان

کو اطمینان ہوگا۔

نور مقدم اور اس کے خاندان کو انصاف مل گیا ہے جو لوگ بری ہوئے ان سے ہمارا

کوئی سروکار نہیں مجرم کے گھریلو ملازمین نے اعانت جرم کی تھی جس کی

انہیں سزا دی گئی ہے۔

اس کیس میں شواہد بہت زیادہ تھے اور یہ فیصلہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جو اس

طرح کے واقعات میں مثال بنے گا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

مقتولہ کے والد سابق سفیر شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے کو انصاف اور عدالت

کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کو مثالی سزا مل گئی ہے یہ کیس صرف

میری بیٹی نہیں بلکہ پوری قوم کی بیٹوں کا کیس تھا۔

میڈیا ‘ سول سوسائٹی اور پوری قوم نے جس طرح ساتھ دیا اس پر شکر گزار ہوں۔

انہوں نے کہا کہ نور مقدم نے اپنی عزت بچانے کے لئے جان دیدی تاکہ قوم کی

بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رہ سکیں۔

ایک سوال کے جواب میں شوکت مقدم نے کہا کہ مجرم کو معاف کرنے کے حوالے

سے اگر کسی قسم کی کوئی پیشکش کی گئی تو اسے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے نور مقدم کو 20 جولائی2021میں قتل کیا گیا‘ خبر منظر عام پر آنے

کے بعد مقتولہ کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھائیں اور وزیراعظم عمران

خان نے اس کیس کا نوٹس لیا تھا۔

 

ظاہر جعفرکو سزائے موت

 

 

 


 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: