شرح سود 9.75 فیصد برقرار، افراط زر 9.8فیصد

کراچی (جے ٹی این پی کے) شرح سود 9.75 فیصد برقرار

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئےشرح سود 9.75 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مہنگائی کم کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں، آئل کی قیمتوں پرہمارا کوئی کنٹرول نہیں ہے، مہنگائی کی رفتار تھمنے کیامید ہے ، ماہانہ بنیاد پر قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا، تجارتی خساروں میں آنے والے دنوں میں کمی ہوگی،منی بجٹ سے مالی خسارہ کم ہوگا اور خسارہ کم ہونے سے طلب کے زور میں بھی کمی آئے گی ، طلب قابومیں رہے گی تو مہنگائی کی رفتار بھی کم ہوگی۔

 

پیرکوگورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی

جاری کر دی ہے، مہنگائی کم کرنے اور پائیدار معاشی شرح ترقی کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، پالیسی ریٹ

کو 9.75فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:دسمبر میں اٹلس ہونڈا، سوزوکی موٹرسائیکلوں کی فروخت میں کمی

انہوں نے کہا کہ دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.93بلین ریکارڈ کیا گیا ہے، معاشی شرح ترقی مستحکم ہے

جبکہ مہنگائی میں بھی کمی آرہی ہے، یہاں تک کہ تجارتی خسارے میں بھی آنے والے دنوں میں کمی کا

 

امکان ہے، تجارتی خسارہ آنے والے مہینوں میں کم ہو سکتا ہے، نومبر اور دسمبر میں مہنگائی نہیں بڑھی،

رواں سال ایک جیسی رہی، جولائی تا دسمبر میں ملک میں افراط زر 9.8فیصد رہا، دسمبر 2021میں افراط زر

12.3فیصد سے بڑھی ہے، 6ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 9.0920بلین رہا ہے، 13بلین ڈالر کا خسارہ

صرف تیل امپورٹ کی وجہ سے ہے،

پچھلے چھ ماہ میں شرح سود میں 2.75بیسز پوائنٹس اضافہ ہو چکا ہے، ڈیمانڈ گروتھ میں ماڈریشن آئی ہے،

مہنگائی کی پروجیکشن سالانہ بڑھے گی، ہماری گروتھ مستحکم ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا تناسب کم ہوا ہے،

رواں سال جی ڈی پی گروتھ 4.5فیصد تک رہے گی، اگلی مانیٹری پالیسی میں انٹرسٹ بڑھا بھی سکتے ہیں،

یہ ہماری معیشت کیلئے مناسب ہے، 4سے 6فیصد تک جی ڈی پی گروتھ رہ سکتی ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

 

 

شرح سود 9.75 فیصد برقرار

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: