انوکھی محبت کی سچی کہانی "کلپنا” تیسری قسط

( تحریر: پلوشہ خان ) سچی کہانی "کلپنا” تیسری قسط

Palwsha Khan
Writer Anokhhi Muhabat ki Sachi Kahani

قارئین گُل باغی اور گُلِ رَعْنا کی انوکھی محبت کی سچی کہانی "کلپنا”
کی دوسری قسط میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ گل باغی اُس کا گھر دیکھنے
کے بعد ہنسی خوشی سے واپس لوٹ گیا۔۔۔

= پڑھیں = انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” ( پہلی قسط )

واپسی میں جہان گل کیساتھ سارے راستے اسی موضوع پر بات ہوتی رہی
اور دونوں گھر پہنچ گئے- گل باغی جسمانی طور پر تو گھر میں تھا لیکن
ذہن گلِ رَعنا کی طرف تھا،اور اسے کسی شہ کا ہوش نہیں تھا، انہی خیالوں
میں گم تھا، رات بھر کروٹیں بدلنے میں کٹ گئی، صبح ہوئی تو دیدارِ جاناں
کی غرض سے گھر سے ناشتہ کئے بغیر ہی نکل پڑا اور کچھ ہی دیر میں
اس کے گھر سے تھوڑے فاصلے پر اس کا انتظار کرنے کیلئے کھڑا ہو گیا
کہ ابھی وہ کالج جانے کیلئے گھر سے باہر نکلے گی-

 

انتظار کرتے کرتے ایک گھنٹہ گزر گیا لیکن وہ نہ آئی، تو اس نے سوچا اب
جگہ تبدیل کی جائے تاکہ کسی کو شک نہ گزرے سو اس نے ایسی جگہ
منتخب کی کہ جہاں سے وہ گُلِ رعنا کے گھر اور گلی پر نظر رکھ سکتا تھا
تاہم وہاں بھی انتظار کرتے کرتے اسے کافی وقت گزر گیا مگر گُل رَعنا نظر
نہ آئی، ذہن میں خیال آیا کہ شاید اس نے آنے میں دیر کر دی اور وہ چلی گئی
لیکن کالج سے واپسی کا وقت تو نوٹ کر رکھا ہے تو پھر کیوں نہ ٹھیک اس ٹائم آیا جائے-

 

گُل باغی نے ایسا بھی کر کے دیکھ لیا، اور اگلے دو روز تک اسی طرح سے
انتظار کرتا رہا اور تھک ہار کر چل دیتا- اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیال
گونج رہے تھے، جن میں ایک یہ بھی تھا کہ ممکن ہے اس نے کوئی خواب دیکھا
اور سچ جان کر تین روز سے چکر کاٹ رہا ہے، ہنستا، مسکراتا شرارتی نوجوان
چاہت نامی عفریت کے غالبے میں آ گیا- اچانک اسکی شخصیت بدل گئی، دوستوں
کے ساتھ گھومنا پھرنا، ملنا جلنا بھی نہ ہونے کے برابر ہو گیا-

 

اُدھر جہان گل کی آوارہ گردی، آئے روز لڑائی جھگڑوں سے تنگ آ کر اس کے
والدین نے اسے ماموں کیساتھ کراچی بھیج دیا۔ چند روز بعد گل باغی ایک بار پھر
قسمت آزمائی کیلئے دوبارہ صبح کے وقت گُلِ رَعنا کے گھر کی طرف گیا تو کیا
دیکھتا ہے وہ کالج کیلئے گھر سے نکل رہی ہے، اس کا مرجھایا ہوا چہرہ خوشی
سے کھل اٹھا- گُلِ رَعنا کیساتھ گھر سے نکلتے وقت وہی لڑکی اس کے ساتھ تھی
جو پہلے روز سٹاپ پر بس سے اس کے ساتھ نہ اتری، وہ دونوں اب پُل پر سے
پیدل چل کر بس سٹاپ کی طرف روانہ ہوئیں تو باغی بھی پیچھے چل دیا-

= پڑھیں = انوکھی محبت کی سچی کہانی ” کلپنا ” ( دوسری قسط )

دونوں سٹاپ پر رکیں، تھوڑی دیر میں بس آگئی اور وہ اس میں سوار ہو گئیں لیکن
گُل باغی رک گیا اور دیدار نصیب ہونا ہی خوش قسمتی سمجھا، اور واپس گھر کو
چل دیا، پھر تین چار روز اسی طرح گُلِ رَعنا کا کالج جاتے، چھٹی کے وقت گھر
آتے راستے میں دیدار کرتا اور چلتا بنتا کا سلسلہ جاری رکھا، اس دوران اس کو
یہ معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ جو لڑکی کالج آتی جاتی ہے وہ اس کی سہیلی نہیں
بلکہ بڑی بہن ہے- تاہم گل باغی نے اس سے کوئی سروکار نہ رکھا، وہ تو گُلِ
رَعنا پر مر مٹا تھا، اس کے علاوہ اور کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا تھا-

 

اس کے دل میں طوفان چھپا تھا، مگر گُلِ رَعنا کو دیکھتے ہی اس پر ایک نشہ
سا چھا جاتا اور وہ سارا ہوش کھو دیتا، اب بات کرنا بھی دشوار تھا کیونکہ اس
کی بہن بھی ساتھ ہوتی، البتہ گل باغی نے شام اور رات کے وقت بھی اس کے
گھر کی طرف اس آس پر جانا شروع کر دیا کہ شاید کوئی بات بن جائے، وہ کہتے
ہیں کہ "عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے” گل باغی کی نادانیوں کی وجہ سے
گلی کا چوکیدار جو باہر کھوکہ بھی چلاتا تھا، ساری لو سٹوری کو سمجھ چکا تھا-

 

گُل باغی کا نادان ہونا بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی کیونکہ اس عمر میں
کس؟ سے نادانیاں سرزد نہیں ہوتیں۔ گل باغی مکار یا چالاک تو نہیں مگر ہوشیار
ضرور تھا، چوکیدار نے موقع پاتے ہی اس سے بات چیت شروع کی اور چند
سوال کئے، گل باغی نے سوالات میں چھپا اس کا لالچ بھانپ لیا اور اس کی طرف
دوستی کا ہاتھ بڑھایا- گُل باغی کا تعلق چونکہ ایک بااثر اور کھاتے پیتے گھرانے
سے تھا جبکہ گل باغی کا والد سرکاری افسر اور دیگر قریبی رشتے دار بھی سرکاری
محکموں میں اہم پوسٹوں پر متعین تھے، جس کی بدولت اسے لالچی چوکیدار سے
دوستی نبھانے اور کوچہ جاناں کے باہر ڈیرے جمانے میں دقت پیش نہ آئی-

 

گُل باغی چوکیدار کی نت نئی ڈیمانڈز پوری کرتا رہا اور اسی گلی کے ایک رہائشی
سے دور دراز کی رشتہ داری نکال لی، اور مقامی سیاسی شخصیت سے
بھی تعلق بنا لیا- بس اس دوران اگر کوئی بات نہ بن سکی تو گُلِ رَعنا سے، کیوں کہ
گل رعنا کی طرف سے کوئی کوشش نظر نہ آئی- محبت کی مجبوریوں کے آگے خود
کو بے بس پاتا، گُل باغی سینے میں دھڑکتے دل کے ٹکرے ہوتے محسوس کرتا رہتا
جبکہ گل رعنا کا فیملی کے ہمراہ کہیں جاتے وقت مڑ مڑ کر دیکھنا اسے زندہ رکھنے
اور پُر امید رہنے میں مدد دیتا-

 

گُل باغی سچی اور پاکیزہ محبت کرنے کے ساتھ گُلِ رَعنا کی ساری فیملی کو عزت
اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا- جب کہ اس کے ساتھ اکثر اس کا ایک کم عمر دوست
بھی آیا کرتا تھا جس نے ایک مرتبہ کچھ غلط ملط بات کی تو گل باغی نے اسے ڈانٹ
پلا دی، معذرت کرنے پر معاف کر دیا، لیکن …. ( == جاری == )

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ،
جتن انتظامیہ

سچی کہانی "کلپنا” تیسری قسط ، سچی کہانی "کلپنا” تیسری قسط ، سچی کہانی "کلپنا” تیسری قسط

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: