سانحہ ملکہ کوہسار ، سوشل میڈیا صارفین کی نئی مہم ’’ مری کا مکمل بائیکاٹ ‘‘

رپورٹ : عمران رشید خان

سانحہ ملکہ کوہسار
Imran Rasheed

سانحہ ملکہ کوہسار

اسلام آباد سے 64.2 کلو میٹر پر واقع، خوبصورت تفریحی مقام مری۔ جسے ملکہ کوہسار بھی کہا جاتا ہے۔ وہاں 7 جنوری جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب طوفانی برفباری نے تباہی مچا دی-

ہوٹل مالکان، مقامی باشندوں دیگر کاروباری افراد کی بے حسی اور مافیا گردی بھی انتہا کو پہنچ گئی- سیاحوں کی ہزاروں گاڑیاں کئی گھنٹوں تک برف میں پھنسی رہیں- 24 افراد گاڑیوں کے اندر ابدی نیند سو گئے۔ مرنیوالوں میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے-

عوام نے مری میں مافیا گردی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر ” بائیکاٹ مری ” ٹاپ ٹرینڈ بن گیا-
کچھ ہی گھنٹوں میں ٹویٹر پر اس حوالے سے 35 ہزار 7 سو ٹویٹ کی گئیں- جبکہ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے لاکھوں کمینٹس بھی کیے۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

 

== پہلے روز روم رینٹ 20 ہزار، دوسرے روز 50 ہزار روپے ==

سانحہ کے بعد دیگر تفصیلات بھی منظر عام پر آنا شروع ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق مری کے ہوٹل مالکان نے طوفانی برفباری میں سیاحوں پر قیامت برپا ہونے کا خوب فائدہ اٹھایا۔

واقعہ سے ایک روز پہلے ہیٹر ، گرم پانی کی سہولت کے بغیر دو سے تین ہزار والے کمرے کا کرایہ 20 ہزار روپے کر دیا گیا۔ دوسرے روز جب وہی فیملی دوبارہ اسی ہوٹل میں گئی، تو روم رینٹ 50 ہزار طلب کیا گیا۔

صارف نے ہوٹل کا وزٹنگ کارڈ، بل کی تصویر دیگر تفصیل ٹوئٹر پر شیئر کر دی

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

=زر کے پوجاری ہوٹل مالکان نے انسانیت پیروں تلے روند دی=

جن سیاحوں کے پاس پیسے تھے انہوں نے 50 تا 70 ہزار روپے تک کمرے کا کرایہ ادا کیا۔ اپنی فیملیز کی زندگیاں بچائیں تاہم وہ سیاح جو اتنے روپے ادا کرنے کی سکت نہ رکھتے تھے، اپنی گاڑیوں کے اندر ہی رات گزارنے پر مجبور ہو گئے۔ یہی اقدام ان کی موت کا سبب ٹھہرا۔

=یہ بھی پڑھیں= انتظامیہ ایک ہفتے سے الرٹ جاری کر رہی تھی، فواد چودھری

میر محمد علی خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا جن لوگوں کی گاڑیوں میں موت واقع ہوئی، وہ پہلے ہوٹلوں میں کرائے پر کمرہ حاصل کرنے گئے۔

ہوٹل مالکان نے کمرے کا کرایہ 70 ہزار روپے مانگا۔ جس کی وہ سکت نہیں رکھتے تھے، اور وہ اپنی گاڑیوں میں ہی سو گئے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فی الفور مری کے ہوٹل مالکان کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

مبینہ طور پر مری کے ہوٹل مالکان اور دیگر ناجائز منافع خوروں کی بے حسی، سنگدلی اور ہوس زر دو درجن معصوم شہریوں کی اموات کی اصل وجہ بنی۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس دوران فی سموسہ ریٹ 300، چائے فی کپ 500 روپے، ہیٹر 1000 روپے، کمروں کا ایک رات کا کرایہ 40، 50 اور 70 ہزار روپے کر دیا گیا۔

چھوٹی گاڑی کو دھکا لگانے کا نرخ 15 سو روپے مقرر کر دیا گیا، جبکہ بڑی گاڑی کو دھکا لگا کر برف سے نکالنے کے 3000 روپے لیے جاتے رہے۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

ٹائر کو زنجیر چڑھانے کے 5 سے 8 ہزار روپے وصول کئے گئے۔ اسی طرح دیگر اشیاء کے بھی آسمان سے باتیں کرتے ریٹ مقرر تھے۔ جس سے کم پیسے رکھنے والے سیاحوں سکت جواب دے گئی۔

== اہل مری نے مجبور سیاحوں کو مال غنیمت کی طرح لوٹا ==

اس ساری صورتحال پر اگر یہ کہا جائے، کہ مری والوں نے مجبور سیاحوں کو  میدان جنگ میں فتح کے بعد مال غنیمت کی طرح لوٹا، تو  غلط نہ ہو گا۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

سیاحوں کو پانی بھی بغیر پیسوں کے نہ دیا گیا۔ پانی کی ایک بوتل بھی ایک ہزار روپے میں فروخت کی گئی۔ متعدد سیاحوں اپنی فیملی کو پانی پلانے کی بجائے طفل تسلیاں دیتے رہے۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

== عوام کو دیگر سیاحتی مقامات کے باسیوں کی اپنے یہاں آنے کی دعوت ==

پاکستان کے دیگر خوبصورت سیاحتی مقامات کے باسیوں کی سیاحوں کو اپنے علاقوں میں آنے کی دعوت دی ہے۔

سوشل میڈیا پر مختلف سیاحتی مقامات کے رہائشی صارفین نے مزی کو نظر انداز کرنے کا کہہ دیا۔ ساتھ ہی اپنے علاقوں میں سیاحت کیلئے آنے کی دعوت دی۔ اور کہا وہ سیاحوں کی بہترین مہمان نوازی کریں گے۔

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

دیکھیئے => سانحہ مری پر صارف خان سکندر خان کا تبصرہ

سانحہ ملکہ کوہسار
سانحہ ملکہ کوہسار

سوشل میڈیا پر مذمت اور مری کا ’’ بائیکاٹ ‘‘ اپنی جگہ- لیکن ؟

دیکھنا یہ ہے قوم دیگر سانحات کی طرح اس سانحہ کو بھی بھول جائیگی، یا آئندہ سال پھر عوام مری ہی کا رخ کر یں گے۔؟

سانحہ مری کے بعد فروغ سیاحت کی دعویدار حکومت کیا اقدامات اٹھاتی ہے یہ اپنی جگہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔ امید کرتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اپنے منشور کو پہنچنے والے نقصان کا مکمل ازالہ کر یگی۔ عوام کا سیاحتی مقامات پر جانے کیلئے متزلزل ہونے والا اعتماد بحال کریگی۔ سیاحت کو زر پرست مافیا کے چنگل سے آزاد کرائے گی۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیساتھ ساتھ ملکی معیشت کیلئے منافع بخش بنائے گی۔

سانحہ ملکہ کوہسار ، سانحہ ملکہ کوہسار ، سانحہ ملکہ کوہسار ، سانحہ ملکہ کوہسار ،

==پڑھیں==وزیراعظم نے سانحہ مری کی تحقیقات کا حکم دیدیا

سوشل میڈیا صارفین، نئی مہم، مری کا مکمل بائیکاٹ ، سوشل میڈیا صارفین ، نئی مہم، مری کا مکمل بائیکاٹ

سوشل میڈیا صارفین ، نئی مہم، مری کا مکمل بائیکاٹ ، سوشل میڈیا صارفین ، نئی مہم، مری کا مکمل بائیکاٹ

قارئین، کاوش اچھی لگے تو لائیک،شیئر،اپ ڈیٹ رہنے کیلئے ’’فالو‘‘ کریں

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: