زر بادشاہ کی شہادت، پولیس فورس اور ناقدین کیلئے خاموش پیغام

زر بادشاہ کی شہادت


اس میں کوئی شک نہیں کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے ،کوہاٹ بازار میں جوانمردی کا مظاہرہ کرنیوالے عوام کے محافظ زربادشاہ کا گھر، بیوی، بچے ،قریبی رشتہ دار اور دوست احباب سب تھے اور ہیں ،لیکن اب بظاہر وہ نہیں رہا،تاہم وہ فرائض کی انجام دہی میں موت کو گلے لگا کر شہریوں میں حیات بانٹ گیا، اگر محافظ یہ سودا نہ کرتا تو ہوس زر میں مبتلا ڈکیتی جیسے جرم کے بعد دیدہ دلیری کیساتھ پولیس اہلکار پر فائرنگ کرنے کے دوسرے بڑے جرم کے بعد ایسے درندہ نما انسان سے عام شہری کیسے محفوظ رہتے، یہ تو اب پولیس کی تفتیش سے معلوم ہوگا کہ وہ ڈکیت اب تک کتنے گھر اجاڑ چکا ہے۔ لیکن یہاں لمحہ فکریہ ہے کہ شہید کی جان کے بدلے ہم حیات تو بخوشی تسلیم کرلیتے ہیں لیکن اس کے پیغام کی طرف شاید ہی کسی کا خیال رہتا ہو۔

کوہاٹ پولیس کے جوانوں کی جانب سے صبرو تحمل کا بہترین مظاہرہ

اتوار 8 مئی کو جب ’’جتن نیوز اردو‘‘ کو کوہاٹ پولیس مقابلے کی وہ ویڈیو موصول ہوئی، جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈکیت نے پولیس پر اسلحہ تان رکھا ہے،اور فرار پولیس کو دھمکیاں دے رہا ہے ،جبکہ قانون کے رکھوالے انتہائی صبرو تحمل کیساتھ اسے بار بار سرنڈر کرنے کا کہہ رہے ہیں ،مگر وہ ایک بھی سننے کو تیار نہیں،اسی دوران گرفتاری کے خوف سے وہ فائر کھول دیتا ہے، جس سے پولیس اہلکار زربادشاہ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑتا ہے ،جبکہ دوسرا پولیس اہلکار تب جاکرڈکیت پر جوابی فائرنگ کر کے اسے زخمی کرتا ہے ،تاکہ پکڑ کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

پولیس مقابلے کی ویڈیو وائرل ہونے پر سوشل میڈیا صارفین کا منفی ردعمل

یہ ویڈیو جب سوشل میڈیا پر دائرل ہوتی ہے تو کچھ ہی دیر بعد سوشل میڈیا، وٹس ایپ گروپس میں کوئی مذکورہ ویڈیو کو فیک ،تو کوئی پرانی قرار دیتا ہے ،اور تواور کئی ایک سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے ’’جے ٹی این ‘‘ (جتن نیوز اردو)کو ون سائیڈ پارٹی قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایک صارف نے تو صحابی رسول ؐکے عدل کے تحت ملزم کے بیگناہ نکلنے پر’’ جتن نیوز اردو انتظامیہ ‘‘کو سزا کا حقدار بھی قرار دیدیا ،اسکے بعد مذکورہ معاملے کو سوشل میڈیا پر پولیس کی چال قرار دیتے ہوئے اہلکاروں کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کا نہ ختم ہونیوالا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ،سوشل میڈیا کے تجزیہ کاروں کی’’میں نہ مانوں‘‘ کی رٹ شام تک جاری رہتی ہے ، آزادی اظہار رائے کا حق سب کو حاصل ہے، اس لئے’’ جتن نیوز اردو ‘‘ نے جوابی کمینٹس کے بجائے حقائق سامنے لانے پر توجہ مرکوز رکھی اور جب دوسری ویڈیو منظر عام پر آئی تو اس میں زر کے پجاری کو جہنم واصل کرنے کی اصل
وجہ سامنے آئی تو’’جتن نیوز اردو‘‘ کی جان خلاصی ممکن ہوئی۔

ویڈیو نہ ہوتی تو پولیس کا اچھا کام بھی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتا

دوسری ویڈیو میں صاف نظر آیا کہ ملزم نے اہلکار پر فائر کرنے میں پہل کی، پولیس نے مجبوری میں جوابی کاروائی کی، ہماری جانب سے اگلی ویڈیو میں اس بات کا ذکر کیا گیاکہ اگر واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ نہ ہوتی، تو فرائض انجام دہی کے دوران پولیس کو ایک فرض شناس کی جان کا الگ سے نقصان اٹھانا پڑتا ،اور اس پر ستم یہ کہ مختلف طبقات کی جانب سے شدید ردعمل کاسامنا الگ سے کرنا پڑتا ۔

پانچوں انگلیاں برابر نہیں، شہید زربادشاہ کا پیغام

بطورِ کرائمز رپورٹر، سٹوری رائٹر ایسے واقعات میں راقم السطور ایسا ہوتے بھی دیکھ چکا ہوں کہ جرائم پیشہ افراد کے اہل خانہ یا سرغنہ کی طرف سے کارروائی پر موجود اہلکاروں کو سزا ئیں بھگتنا پڑیں، لہٰذا ہر معاملے میں اپنے محافظوں کو ملامت کرنا ان کے حوصلے پست اوران میں عدم برداشت اور بے چینی کا سبب بنتا ہے ،کیونکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہنے والے قانون کے محافظوں اور عوام کی جان و مال کے رکھوالوں کی قربانیاں ہرگز ہرگر بھلائی نہیں جاسکتیں، اور کوہاٹ میں شہید ہونیوالے زر بادشاہ نے بھی عوام کیلئے یہی خاموش پیغام چھوڑا ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، چند کالی بھیڑوں کے کرتوتوں کا ذمہ دار پوری پولیس فورس کو قرار دینا کسی طور قرین انصاف نہیں۔

پولیس فورس کو بھی شہید کے پیغام کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

دوسری
جانب شہید کا اپنی پولیس فورس کیلئے اس
پیغام کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ
وردی کی آڑ میں ناجائز دھندے کرنیوالے عناصر
پولیس فورس کیلئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں تو
ایسے میں پھر کہیں نہ کہیں کسی زر بادشاہ کو
اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے پولیس کے وقار
میں آنیوالی کمی کو دور کرنا پڑتا ہے، یہاں یہ بات
بھی قابل ذکر ہے کہ کوہاٹ میں ہونیوالے اس
واقعے کے دوران پولیس کے دیگر اہلکار کی
کارکردگی انتہائی لائق تحسین رہی،اور بالفرض
اس واقعے کے حوالے سے اب بھی کسی کے کوئی
تحفظات یا خدشات ہوں تو انہیں دور کرنا پولیس
حکام کی ذمہ داری ہے۔

زر بادشاہ کی شہادت

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: