زرعی یونیورسٹی بناو مگر جامعہ گومل ڈی آئی خان بچاو

زرعی یونیورسٹی بناو مگر

وائس چانسلر کوئی بھی ہو اس سے فرق نہیں پڑتا اگر وہ گومل یونیورسٹی کا حقیقی وی سی ہو،

اس کی بقا و سلامتی، ترقی و خوشحالی اور فروغ تعلیم کا خواہاں ہو۔

لیکن کسی دوسری ایسی یونیورسٹی کا وی سی اضافی ذمہ داری کیلئے مسلط کر دیا جائے تو دال میں کچھ کالا ضرور سمجھا جائیگا۔

جامعہ گومل کے سینئر پروفیسر اور ڈین پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ کو قائم مقام بنانے میں آخر کونسی رکاوٹ یا مسئلہ درپیش ہے؟

صرف یہی نا کہ جامعہ گومل کا پروفیسر اپنے ادارے کی بقا و سلامتی کیلئے ہی لڑے گا۔

ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی، ڈاکٹر چودھری محمد سرور اور ڈاکٹر افتخار احمد اس لیے برے تصور کیے گئے کہ انہوں نے گومل یونیورسٹی کی قیمت پر زرعی یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کی۔

ڈاکٹر مسرور الہٰی کو اضافی چارج دینا سوچی سمجھی سازش

ڈاکٹر افتخار احمد کو پہلے بھی جبری رخصت پر بھیج کر اس کے بعد برطرف بھی کر دیا گیا تھا۔

زرعی یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر مسرور الہی بابر کو اضافی ذمہ داری سونپ کر گومل کی

پشت میں خنجر گھونپنے کی راہ ہموار کی گئی تھی، جو اس وقت ناکام ہو گئی جب عدالت عالیہ نے

ڈاکٹر افتخار احمد کو بحال کر کے جامعہ گومل کے اثاثوں کی تقسیم کا اقدام بھی مسترد کر دیا تھا۔

گزشتہ دنوں وہی عمل دہرا کر ایک بار پھر جامعہ گومل کی قیمت پر زرعی یونیورسٹی قائم کر نے

کی خاطر ڈاکٹر افتخار احمد کو جبری رخصت پر بھیج دیا گیا اور ڈاکٹر مسرور الہی کو اضافی چارج

دے دیا گیا جو سوچی سمجھی سازش ہے۔

پڑھیں : جامعہ گومل ڈی آئی خان کی ہچکولے کھاتی کشتی ( حصہ اول )

افسوس کہ بعض طلبہ اپنے حقوق کی خاطر سیاسی اور فارغ التحصیل طلبہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے۔

اس لیے غیر متعلقہ عناصر کے ایما پر شروع کی گئی طلبہ تحریک ڈاکٹر افتخار احمد کو جبری رخصت

پر بھیجتے ہی ختم کر دی گئی حالانکہ ان کے مسائل اپنی جگہ موجود اور مشکلات آج بھی درپیش ہیں۔

اس لیے بعض طلبہ اب بھی سراپا احتجاج ہیں مگر سیاسی مفادات کیلیے لڑنے اور استعمال ہونیوالے

میدان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔

خدا کرے کہ ڈاکٹر مسرور صاحب ان کے مسائل حل کر دیں اور مشکلات ختم ہو جائیں۔

جامعہ گومل کے انتظامی و تدریسی عملے بالخصوص ان افسران و اہلکاروں کے لیے امتحان و آزمائش کا موقع ہے جو ڈاکٹر افتخار احمد صاحب کے دائیں بائیں موجود رہ کر فیض یاب ہوتے رہے۔

آیا وہ اپنی نوکریوں اور عہدوں کی فکر کریں گے یا جامعہ گومل بچانے کیلئے ڈاکٹر افتخار احمد کے ساتھ کیا گیا عہد پورا کریں گے۔

ویسے بھی گومل رہے نہ رہے ڈاکٹر افتخار احمد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ فائدہ یا نقصان عملے کا ہی ہو گا۔

جامعہ گومل سے فارغ التحصیل افراد کیلئے لمحہ فکریہ

سب کچھ زرعی یونیورسٹی کی ملکیت ہو گیا تو جامعہ گومل کا وجود برائے نام رہ جائیگا،

ایک دن مادر علمی دم توڑ جائے گی تب عملے کی پکی چھٹی کر دی جائے گی۔

زرعی یونیورسٹی میں نیا عملہ کام کر رہا ہو گا۔ طلبہ کا کیا ہے انہیں حصول تعلیم سے سروکار ہے۔

فیسیں دے کر زرعی یونیورسٹی میں بھی وہی تعلیم ملے گی۔

البتہ وہ لوگ جو جامعہ گومل کی آغوش میں تعلیم حاصل کر کے معاشرے میں کسی بھی شعبے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان کی تاریخی مادر علمی کا تیاپانچا ہو گیا اور وہ بے موت مار دی گئی تو پھر کس پر فخر و ناز کریں گے؟

کسی کو کیا بتائیں اور کیا دکھائیں گے کہ جس ادارے کی گود میں وہ پڑھے تھے اسے ان کی آنکھوں کے سامنے بے بسی کی موت مار دیا گیا۔

نواب آف ڈیرہ اللہ نواز خان سدوزئی کو پہلا وی سی بنانا کیا تھا؟

خدا جانے وہ لوگ کہاں ہیں جو باور کراتے رہتے ہیں کہ نواب آف ڈیرہ اللہ نواز خان سدوزئی مرحوم نے جو اراضی جامعہ گومل کیلئے عطیہ کی تھی وہ ان کی نہیں تھی۔

اگر زمین ان کی نہیں تھی تو حکومت پاگل تھی کہ اپنی ہی اراضی واگزار کروانے کے بجائے تحفے کے طور پر دی اور اللہ نواز خان کو پہلا وائس چانسلر بھی بنا دیا۔

ایسے بیکار کام کرنیوالے مادر علمی کے وجود کو لاحق خطرات کے موقع پر کہاں روپوش اور کیوں خاموش ہیں؟

اگر کوئی کہے کہ زرعی یونیورسٹی ضروری ہے تو اس وقت ہی کہنا تھا کہ ہمیں صرف جامعہ گومل نہیں گومل زرعی یونیورسٹی چاہیے۔

اب اگر زرعی یونیورسٹی لازمی محسوس ہو رہی ہے تو اسے جامعہ گومل کی قیمت پر ہی کیوں بنایا جائے؟

زرعی یونیورسٹی کا قیام علحدہ ہونا چاہیے۔

معاملے پر وکلا برادری کا میدان عمل میں آنا اُمید افزا

شکر ہے وکلا برادری بے دار ہو گئی اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن

نے وکلا کا اجلاس طلب کر کے میڈیا کیلئے بریفنگ کا اہتمام بھی کیا ہے،

تاکہ وکلا برادری کی جانب سے جامعہ گومل اور زرعی یونیورسٹی کے بارے میں موقف پیش کیا جائے۔

قوی امید بلکہ بندہ ناچیز کو یقین ہے وکلا برادری جامعہ گومل کی تقسیم

کیخلاف اور زرعی یونیورسٹی کے الگ قیام پر زور دے گی تاکہ تاریخی

مادر علمی کا وجود بھی قائم رہے اور زرعی یونیورسٹی بھی بن سکے۔

سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور سے بھی توقع ہے کہ وہ جامعہ گومل کی بقا و سالمیت کا پورا پورا خیال رکھیں گے،

زرعی یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ پورا کریں گے ورنہ ایک ادارے کے قیام کا اعزاز حاصل ہو گا

تو دوسرے ادارے کی بیخ کنی کا سہرا بھی ان کے چہرے پر ہی سجے گا۔

یہ بھی پڑھیں : جامعہ گومل ڈیرہ اسماعیل خان کی ہچکولے کھاتی کشتی (حصہ آخر)

ڈاکٹر مسرور الہی نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے ان سے تعاون مانگا ہو گا۔

یقین ہے کہ مولانا فضل الرحمن صاحب بھی جامعہ گومل کی بقا و سالمیت کا دفاع کریں گے،

زرعی یونیورسٹی کا قیام علحدہ ممکن بنانے کیلئے موثر کردار ادا کریں گے۔

تاریخی مادر علمی جامعہ گومل اور زرعی یونیورسٹی کے قیام کو سیاست کہ نذر نہیں ہونا چاہیے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

زرعی یونیورسٹی بناو مگر ، زرعی یونیورسٹی بناو مگر ، زرعی یونیورسٹی بناو مگر ، زرعی یونیورسٹی بناو مگر ، زرعی یونیورسٹی بناو مگر

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: