روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس عیسائی قیادت کی جنگ! ( حصہ دوم )

روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس ( گذشتہ سے پیوستہ)

ماسکو نے جب قسطنطنیہ کے چرچ پر اپنا اختیار قائم کرنے کیلئے خود کو طاقتور
محسوس کیا تو اس نے سب سے بڑے اور امیر ترین آرتھوڈکس چرچ کے طور پر
آرتھوڈکس عیسائیت کے اندر اپنا سب سے بڑا مذہبی ادارہ قائم کر دیا۔ 1686ء سے
یوکرائن آرتھوڈکس چرچ ماسکو سے منسلک تھا۔ 2014ء میں روس سے علیحدگی
کے بعد جب روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ ہوئی تو یوکرائن کی ریاست کو
ایک آزاد آرتھوڈکس چرچ کی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

یوکرائن کا قسطنطنیہ کے آرتھوڈکس چرچ کی طرف دوبارہ رجوع

یوں یوکرائن کے رہنماؤں نے کیف کے آرتھوڈکس چرچ کو سیاسی آزادی کا آخری
مرحلہ قرار دیا اور قسطنطنیہ کے آرتھوڈکس چرچ کی طرف دوبارہ رجوع کر لیا۔
2019ء تک 45 ملین آبادی والے یوکرائن جس میں 30 ملین آرتھوڈکس عیسائی تھے
اس کے تین الگ الگ آرتھوڈکس چرچ تھے جو ماسکو ، پٹر یا ٹک یوکرائن آرتھوڈکس
چرچ ، آرتھو ڈکس چرچ آف کیف اور یوکرائن آٹو سیفالی آرتھوڈکس چرچ تھے۔

قسطنطنیہ کے ماسکو سے آزاد یوکرائن چرچ کیلئے دو اقدامات

تینوں چرچز نے یوکرائن کے قومی چرچ کے لئے مقابلہ کیا۔ اس مذہبی منظر نامے میں
قسطنطنیہ کے آرتھوڈکس چرچ نے ماسکو سے آزاد یوکرائن چرچ کے لئے دو اقدامات
کئے ۔ پہلے مرحلے میں اس نے 11 اکتوبر 2018ء کو یوکرائن کے آرتھوڈکس چرچ پر
ماسکو کے دائرہ اختیار میں دینے کے لئے اپنے 1686ء کے فیصلے کو منسوخ کر دیا-
پھر 15 دسمبر کو قسطنطنیہ نے یوکرائن کے دو گرجا گھروں کو جائز تسلیم کیا اور دونوں
کو متحد کر کے رہنماء کے انتخاب کے لئے کونسل قائم کر دی۔

2019ء کو کیف کے آرتھوڈکس چرچ کی ماسکو سے آزادی کا اعلان

آخر کار 5 جنوری 2019ء کو استنبول میں ایک تقریب میں قسطنطنیہ کے آرتھوڈکس سربراہ 
نے کیف کے آرتھوڈکس چرچ کے حوالے سے ایک دستاویز جاری کی جس کے تحت ماسکو
سے آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔ یوکرائن کے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ یوکرائن کے صدر
پیٹروپروشینکو نے بھی اس تقریب میں شرکت کی۔ اس اقدام پر روسی آرتھوڈکس چرچ نے
قسطنطنیہ سے تعلقات توڑ لئے اور یو کرائن کے نئے آرتھوڈکس چرچ کی قانونی حیثیت تسلیم
کرنے سے انکار کر دیا۔ یوں روس اور یوکرائن کے درمیان یہ مذہبی کشمکش کسی بھی وقت
جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

یوکرائن تنازع : روس ، امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر

یوکرائن کے تنازع پر روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خبروں اور
بیانات سے ایسا لگتا ہے کہ جنگ کے شعلے کسی بھی وقت بھڑک سکتے ہیں۔ دونوں روایتی
حریف ممالک کے درمیان اس بار جنگ کا میدان مشرقی یورپ بننے جا رہا ہے، مگر تنازع
اور خطے کے ممالک کی پالیسیوں کو دیکھا جائے تو وہ کسی صورت بھی امریکہ کو اس
خطے کو میدانِ جنگ نہیں بنانے دیں گے۔ ایک طرف روس نے مشترکہ جنگی مشقوں کے
لئے مزید فوجی دستے بیلاروس پہنچا دیئے ہیں، جدید فضائی دفاعی نظام بھی بیلاروس منتقل
کر دیا گیا ہے۔

= یہ بھی پڑھیں = روس یوکرائن اصل تنازع (حصہ اول)

سویڈن کی بری اور فضائی افواج نے بھی بالٹک سمندر میں جنگی مشقیں شروع کر دی ہیں
جن میں لڑاکا طیارے ٹینکوں اور دوسرے بھاری اسلحے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ یوکرائن
میں بھی جنگی مشقیں جاری ہیں۔ یوکرائنی ماہرین کو برطانوی انسٹرکٹرز نے انٹی ٹینک میزائل
استعمال کرنے کی تربیت دی۔ برطانیہ نے حال ہی میں دو ہزار کے قریب شارٹ رینج میزائل
یوکرائن کے دارالحکومت کیف بھیجے ہیں۔ امریکہ بار بار یہ انتباہ جاری کر رہا ہے کہ روس
کسی وقت بھی یوکرائن پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر سکتا ہے- امریکہ نے مشرقی یورپ
میں مزید فوجی تعینات کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔

امریکہ خطے میں اپنی فوجی قوت میں اضافے کیلئے کوشاں، کیف

جبکہ دوسری طرف کیف سے امریکی سفارتکاروں کے انخلاء پر یوکرائنی صدر نے شدید
ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جنگ کے خدشے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا
ہے اور امریکی صدر کے بیانات سے ایسے لگ رہا ہے جیسے کیف کی سڑکوں پر ٹینک پھر
رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا یوکرائن اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض ایشوز پر روس
اور یوکرائن کے درمیان کشیدگی ضرور ہے مگر ایسی صورتحال قطعاً نہیں جیسی امریکہ ظاہر
کر کے مشرقی یورپ میں اپنی فوجی طاقت میں اضافے کی کوشش کر رہا ہے۔

= یہ بھی پڑھیں = خودکش بمبار بٹالین کے قیام کا اعلان اور افغانستان کا مستقبل۔۔۔

یوکرائن کے بحران پر برطانیہ تو امریکہ کی ہاں میں ہاں ملا رہا ہے مگر یورپی یونین کے دوسرے
ممالک علاقے میں امریکی فوجوں میں اضافے کے نہ صرف مخالف ہیں بلکہ ڈھکے چھپے الفاظ
میں اس کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ یوکرائن سوویت یونین کا حصہ رہا ہے اور سوویت یونین کے
ٹوٹنے اور روس سے آزادی کے بعد بھی روس اور یوکرائن کے تعلقات اتنے خراب نہیں رہے،

دونوں ممالک کے درمیان کچھ علاقے پر تنازعے کے باعث تعلقات خراب ہوئے مگر اسے خوش
اسلوبی سے حل کر لیا گیا۔ یوکرائن اور روس کے درمیان موجودہ تنازع کا سیاسی سے زیادہ مذہبی
عنصر کار فرما ہے جس کے لئے اس کا تاریخی پس منظر جاننا ضروری ہے۔

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں، شکریہ،
جتن انتظامیہ

روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس ، روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس ، روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس
روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس ، روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس ، روس یوکرائن اصل تنازع آرتھوڈکس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: