دوسری کمیونٹی کی لڑکی سے شادی، مسلم نوجوان کو 5سال قید

لکھنو (جے ٹی این پی کے) دوسری کمیونٹی کی لڑکی سے شادی

بھارتی ریاست اتر پردیش کی ایک عدالت نے غیر قانونی طورپر تبدیلی مذہب کے کالے قانون کے تحت ایک 26 سالہ مسلم نوجوان کو دوسری کمیونٹی کی لڑکی سے شادی کرنے پر 5سال قید کی سزا سنائی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس آشوتوش پانڈے نے تصدیق کی ہے

کہ گزشتہ سال دسمبرمیں یہ قانون متعارف کرائے جانے کے بعد سے،

یہ بھی پڑھیں : بھارتی مسلمانوں پر ہندوؤں کے مظالم

امروہہ کی عدالت نے تبدیلی مذہب کے پہلے مقدمے میں ایک مسلم نوجوان کو 5سال قید کی سزا سنائی ہے۔

امروہہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کپیلا راگھو نے مسلم نوجوان افضل کودوسری کمیونٹی کی لڑکی

سے شادی کرنے پر 5 سال قید اور40 ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی ۔

حسن پور پولیس اسٹیشن کے تفتیشی افسر گجیندر پال سنگھ نے میڈیا کو بتایا ہے کہ گزشتہ سال4

اپریل کو امروہہ پولیس نے افضل کو دہلی سے گرفتار کیا تھا

اور اسے دوسری کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس سے سے

شادی کرنے کے الزام میں اتر پردیش کے اس کالے قانون کے تحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیاتھا۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: