ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت ، 80 سے زائد مصنوعات کی درآمدات پرپابندی لگانے کا فیصلہ

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے) درآمدات پرپابندی لگانے کا فیصلہ

ڈالرکی بڑھتی ہوئی قیمت کو روکنے وفاقی حکومت نے غیر ضروری اور لگڑری
اشیا کی درآمد پر مکمل پابندی کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ غیر ضروری
و لگڑری اشیاء کی درآمد پر قیمتی زرِ مبادلہ خرچ نہیں ہونے دینگے.

80 سے زائد مصنوعات کی درآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ

وزیر اعظم شہباز شریف نے درآمدی بل میں ماہانہ ایک ارب ڈالر کمی کے لیے
وفاقی ریونیو بورڈ (ایف بی آر) کی تجاویز منظور کرتے ہوئے 80 سے زائد مصنوعات
کی درآمدات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق
تجاویز کی حتمی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اور وفاقی کابینہ سے
لی جائے گی۔ جن 80 سے زائد اشیا پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے وہ سپر اسٹورز
پر فروخت کے لیے درآمد کی جاتی ہیں جبکہ ان اشیا میں کتے اور بلیوں کی خوراک،
چیز، مکھن اور دیگر اشیا شامل ہیں۔

سیرامک ٹائلز کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ

ذرائع کا کہنا تھا کہ 1800 سی سی اور اس سے بڑی کی گاڑیوں کی درآمد پر 100
فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور 35 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی عائد کرنے کی بھی تجویز دی
گئی ہے،اسی طرح موبائل فونز اور سیرامک ٹائلز کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری
ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

درآمدی مشینری پر بھی 10 سے 30 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز

ذرائع نے بتایا کہ درآمدی مشینری پر بھی 10 سے 30 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کی
تجویز ہے، اس کے علاوہ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والی مشینری پر بھی
10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے
1000 سی سی سے بڑی گاڑی پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 100 فیصد اضافے کی تجویز
دی تھی۔

درآمدی مشینری پر ڈیوٹی 10 فیصد بڑھانے کی تجویز

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق امپورٹڈ ٹائلز پر ڈیوٹی 50 فیصد اور درآمدی
مشینری پر ڈیوٹی 10 فیصد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ گھریلو استعمال کے
امپورٹڈ آئٹمز پر ڈیوٹی 50 فیصد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

درآمدات پرپابندی لگانے کا فیصلہ

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
یہ بھی پڑھیں : آئی ایم ایف سے جان خلاصی ، حکومت کا عوام سے رجوع کا فیصلہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: