خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس پر حملے

خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس

خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں تاحال دہشت گردی کی وارداتیں جاری اور خاص طور پر فوج اور پولیس ہدف ہیں۔

حال ہی میں کراچی میں چینی نژاد پاکستانیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن صوبائی اسمبلی آغاز خان گنڈاپور کی رہائشگاہ پر حملہ کیا گیا جس میں کانسٹیبل جام شہادت نوش کر گیا۔

ضم شدہ قبائلی علاقوں میں پاک افواج کے جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور لکی مروت میں پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ کے پی، وزرا اور پی ٹی آئی رہنمائوں کا بھتہ دینے کا انکشاف

انکشاف یہ کیا گیا کہ وزیراعلی محمود خان اور ان کے کئی وزرا اور پی ٹی آئی کے رہنما تحریک طالبان پاکستان کو بھتہ دے چکے ہیں۔

سوات میں تنظیم موجود ہے مگر صوبائی حکومت اور پاک فوج کی جانب سے بھی تردید کی گئی کہ ایسا نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں پولیس نے منشیات کی سمگلنگ کیخلاف خصوصی مہم کا آغاز کر رکھا ہے۔

ویسے تو جرائم پیشہ عناصر بھی کم خطرناک نہیں ہوتے

مگر فوج، پولیس اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانے والے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

ہمارا معاشرہ صرف مذہبی لحاظ سے ہی شدت پسند نہیں بلکہ

سماجی طور پر بھی بے پناہ انتہا پسندی پائی جاتی ہے۔

پڑھیں : کیا مصائب جھیلنا ہزارہ قوم کی قسمت یا مذہبی تعصب کا شکار۔۔۔؟

فوج اور پولیس نے نیشنل سیکورٹی پلان کے تحت مہم چلائی

تو انتہا پسند، شدت پسند، شر پسند اور شرارتی لوگ خاموش ہو

گئے مگر جو مارے گئے سو مارے گئے۔ جو قید ہیں وہ قید ہیں

البتہ جو زیر زمین یا چپ ہیں وہ ابھی تک اپنا کام کر رہے ہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ ایسے عناصر سماج میں موجود ہیں۔

ان کے ٹھکانے، پناہ گاہیں اور سہولت کار بھی ہیں۔

خدا جانے شرپسند حساس اداروں سے اوجھل کیسے ہو جاتے ہیں

مشاورت و منصوبہ بندی کر لیتے ہیں اور ہدف تک پہنچ کر کامیاب واردات کے بعد خیریت واپس بھی چلے ہیں۔

خدا جانے انہیں زمین نگل جاتی ہے یا آسمان کھا جاتا ہے۔

وہ اڑ کر آتے جاتے ہیں یا سلیمانی ٹوپی کر کے حرکات و سکنات کرتے ہیں؟

ایسے لوگوں کا حساس اداروں کی نظر سے اوجھل رہنا اور گرفت میں نہ آنا

زیادہ خطرناک بات ہے کیونکہ ان کا آزادانہ دندناتے پھرنا اور وارداتیں کرنا قانون کی عملداری کیخلاف ہے۔

خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس ، خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس ، خیبر پختونخوا میں فوج اور پولیس

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: