خودکش بمبار بٹالین کے قیام کا اعلان اور افغانستان کا مستقبل۔۔۔

سینئر صحافی و تجزیہ کار / سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گل خودکش بمبار بٹالین کے قیام

افغان طالبان نے گزشتہ ایک ھفتے کے دوران اپنے بیشتر ہمسایہ ممالک (پاکستان، ایران، ترکمانستان تاجکستان وغیرہ) کے ساتھ کہیں کشیدگی اور کہیں مسلح جھڑپوں کے بعد آج سرکاری طور پر ایک ایسا اعلان کردیا ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ،

افغان طالبان کے مرکزی رہنماء اور وزیر اطلاعات زبیح اللہ مجاھد نے اعلان کیا ہے افغان طالبان کی حکومت اپنی فوج میں ایک خودکش بمبار بٹالین بنانے جارہی ہے ،اس بٹالین میں خواتین رضاکاروں کی ایک معقول تعداد کو بھی شامل کیا جائیگا ، یہ بٹالین خصوصی آپریشن کے لیئے استعمال میں لائی جائے گی ،

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے…

افغان طالبان اسوقت خارجی اور داخلی سطح پر سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں ، جس سے نکلنے کے لیئے ان کے لیئے یہ ضروری تھا کہ وہ دوحا مذاکرات میں کرائی گئی یقین دھانیوں پر عملدرآمد کراتے ،

حکومت کے ابتدائی ایام میں طالبان قیادت نے فراخدلی اور وسیع النظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ایسے اقدامات کیئے جن سے روس، اور چین سمیت بیشتر طاقتوں نے انکی حکومت کو تسلیم کرنے کے اشارے دیئے ،

مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طالبان ایک سے زائد حصوں میں تقسیم ہوگئے اور بعض گروہوں نے مرکزی قیادت کے فیصلوں کی نفی کرتے ہوئے پڑوسی ممالک کے ساتھ حالات کشیدہ کرنے سمیت ایسے اقدامات اٹھانا شروع کر دیئے

نمی دانم به کجا می روم فقط می خواستم؟

جن سے خارجی سطح پر طالبان کی حمایت میں کمی واقع ہونا شروع ہو گئی ، اور اب حکومتی سطح پر خودکش بمبار بٹالین کے قیام کا اعلان ایک ایسا اقدام ہے جو یقینی طور پر طالبان کو آئیسولیشن کی طرف لے جاسکتا ہے، عالمی سطح پر تنہائی کا شکار ہونے کے بعد افغانستان کے اندر خانہ جنگی کی شکل میں طالبان گروہوں کے آپسی اور مختلف قبائیل کے درمیان ایک طویل جنگ بھی شروع ہوسکتی ہے ،

افغانستان کو اسوقت خودکش بمبار بٹالین کی نہیں بلکہ بھوک کے ھاتھوں مرنے والی عوام کے لیئے خوراک ، ادویات ،گرم لباس اور اسی طرح زندہ رھنے کے لیئے دیگر بنیادی اشیاء ضروریہ کی ضرورت ہے ،

حجاب کے پیچھے کون ہے۔۔۔۔۔؟

ابتدائی ایام میں چین نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کا اعلان کرتے ہوئے انکے دفاع کو مضبوط بنانے ، انفراسٹرکچر بنانے اور عوام کی خوشحالی کے منصوبے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا،طالبان قیادت نے چین کے اس جذبہ خیر سگالی کا پرجوش خیر مقدم کیا مگر اب ایسا لگتا ہے کہ چین افغانستان میں کامیاب ہوکر ناکام ہوگیا ہے اور امریکہ افغانستان میں شکست کھانے کے بعد پھر سے کامیاب ہوگیا ہے ،

اس سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ افغانستان کی عوام ایک مرتبہ پھر طویل مصائب کی طرف بڑھ رہی ہے_

خودکش بمبار بٹالین کے قیام، خودکش بمبار بٹالین کے قیام، خودکش بمبار بٹالین کے قیام

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: