خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ۔ ۔ ۔؟

(تحریر:– ایثا رانا) خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں

ISAR RANA JTNPK
ISAR RANA

اب بتائیں میں ذلفی کا کیا کروں، اتنا احمق اتنا احمق جیسے ہمارے عوام- اس کے خواب دیکھیں اور اس کی اوقات دیکھیں-

خواب یہ کہ اسے انصاف ملے، اوقات یہ کہ اس کے پاس دو ہزار روپے نہیں- ایسے مزا نہیں آئے گا، پہلے اس کی حماقت در حماقت کا پس منظر، بیک گراﺅنڈ میوزک کیساتھ سن لیں- پھر ہم بطور قوم ملکر اس پر پھٹکار ڈالیں گے-

=–= مزید تجزیاتی رپورٹس، کالمز اور بلاگز اور فیچرز ( =–= پڑھیں =–= )

یہ جو اپنے ذلفی میاں ہیں، انہوں نے بیگم کا زیور بیچا، کمیٹی ڈالی، کچھ رقم ایڈوانس بنایا اور رکشہ قسطوں پر لے لیا۔

جتنی رفتار سے رکشہ چلتا رہا، قسطیں اترتی رہیں۔ یہاں پر کہانی میں ٹرننگ پوائنٹ آیا-

اب آپ اس احمقانہ مووی کو زیادہ انجوائے کرینگے- میرے ساتھ رہیں یعنی وہ جو اینکر کہتے ہیں، ” Stay With Us "۔

کیونکہ فلم میں ایکشن ہے، سسپنس ہے، ایڈونچر اور ڈرامہ ہے۔ یعنی چوپڑیاں نالے دو دو۔

===> ذلفی صاحب کی بدقسمتی اور میری بھی

اچھا تو میرے پیارو، راج دلارو، جمہوریت کے ٹم ٹم کرتے تارو، ایک دن ذلفی صاحب کا رکشہ چوری ہو گیا۔

ذلفی صاحب اور میری بدقسمتی، ہم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ اس نے ٹک مجھے کال لگا دی۔

اس کی نظر میں ہمارا خاصہ ٹہور ٹپہ ہے۔ وہ سمجھا ہم ابھی اپنی صحافتی ذنبیل سے رکشہ نکال دیں گے۔

میں نے کہا آپ تھانے جاﺅ اور درخواست دو۔ کہنے لگا ون فائیو پر کال کی ہے، وہ آ رہے ہیں۔

تھانے والوں نے کچی درخواست، جمہوریت و تہتر کے آئین کے تناظر مٰن ” کچیچیاں وٹتے“ ہوئے قبول کر لی۔

===> 2 ہزار روپے مٹھائی کے دو اور رکشہ لے جاﺅ

اگلے دو دن مری جیسی برفباری کی صورتحال رہی، ریسکیو ٹیمیں پہنچیں نہ مری کے ہوٹل نما انسانوں کو رحم آیا۔

ذلفی اور اس کے دو بچے بھوک سے بلبلاتے رہے۔ خیر دو دن بعد مجھے ذلفی کا فون آیا۔

انکل رکشہ مل گیا؟ میں نے پنجاب حکومت جیسی رنگ بازی کی، ہاں میں نے تھانے والوں کا جینا حرام جو کر دیا تھا۔

وہ بولا انکل رکشہ داتا دربار چوکی میں کھڑا ہے۔ وہاں کے اے ایس آئی رانا صاحب کہتے ہیں، دو ہزار مٹھائی دو، رکشہ لے جاﺅ۔

===> ہم خوش ہوئے کہ چلو سیاپہ مکا

میں نے سوچا ” اس کا مطلب ذلفی صاحب مجھے دو ہزار روپے کی فٹیک ڈالنا چاہ رہے ہیں“۔

میں نے بات سن کر اتنی خاموشی اختیار کی جتنی مری میں مرتے لوگوں کی فریاد پر اداروں نے اختیار کی تھی۔

ذلفی نے اللہ حافظ کہہ کر فون رکھ دیا، ایسے لگا جیسے اس نے کہا ہو ” انکل جی فیر میں نا ای سمجھاں “۔

ہمیں نیند آ رہی تھی لیکن ہمارا ضمیر رانا شمیم صاحب کی طرح تین سال بعد جاگنے کے بجائے اسی لمحے ہمیں چونڈیاں وڈنے لگا۔

ہم نے اللہ دین کے چراغ کرائم رپورٹر کو فون کیا۔ شکر ہے وی فوری مل گیا۔ کہنے لگا ڈی ایس پی لوئر مال حافظ عمران محمود ہمارے دوست ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں۔ ہم خوش ہوئے کہ چلو سیاپہ مکا۔

===> صحافیوں کو شکایت لگائی ہے, ہن توں رکشہ لے کے وکھا

اگلے دن ذلفی صاحب کا فون آیا۔ انکل وہ داتا دربار چوکی والے تھانیدار رانا صاحب نے میری بڑی بستی کی ہے،

کہہ رہے ہیں تو نے صحافیوں کو شکایت لگائی۔ ” ہن توں رکشہ لے کے وکھا، میں تیریاں لیکاں کڈھاں داں گا “۔

قانون کے عظیم مجاہد اے ایس آئی رانا صاحب نے ڈی ایس پی صاحب کو بتایا سر رکشہ تو اب عدالت کے ذریعہ ہی ملے گا۔ لو جی ہن نواں پنگا پڑ گیا۔

===>تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے…

ذلفی صاحب نے عدالت میں ثابت کرنا تھا کہ رکشہ ان کا ہے۔ انہیں یاد آیا کہ انہوں نے اپنے رکشہ ڈیلر لال خان زادہ صاحب سے کاغذات تو لئے ہی نہیں۔

لگتا ہے آپ اس طویل بلیک اینڈ وائٹ کہانی سے بور ہو گئے۔ چلیں اسے شارٹ کٹ مارتے ہیں۔ 

جیسے جمہوریت کے مامے چاچے سیاستدان رات کے اندھیرے میں پنڈی کے دروازوں پر شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں۔

ہم نے جناب لال خان زادہ صاحب کو فون کیا۔ وہ بولے ابھی نماز سے فارغ ہوا ہوں، مجھے موت اوراللہ یاد ہیں۔

آپ بچے کو بھیج دیں۔ اپنے ذلفی صاحب وہاں پہنچے تو لال خان زادہ صاحب نے تسبیح پھیرتے ہوئے کہا، بچے 12 ہزار روپے لاﺅ، ورنہ رکشہ کا ٹرانسفر لیٹر نہیں ملے گا۔

===> نمی دانم به کجا می روم فقط می خواستم؟

لا ل صاحب کے 12، رانا صاحب کے 2 اور وکیل صاحب کے 5 ہزار کا بل تیار ہو گیا۔ ذلفی صاحب کو بہت جلدی تھی ” کاہلیاں آگے ٹوئے“ ۔

انہوں نے سود پر پندرہ ہزار روپے اٹھائے، کاغذات لئے، تھانہ پہنچے تو پتہ چلا تھانے سے رکشہ کی بیٹری، گیس سلنڈر اور اوزاروں کی کٹ غائب ہو چکی ہے۔

انہوں نے فریاد کی تو متعلقہ افسر نے قانون کی چھڑی کو غلط انداز میں اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، ٹر ٹر نا کر تے نیواں نیواں ہو کے نکل جا۔ “ کہیں تجھے ہی اندر نہ کر دوں۔

پھر انہوں نے ” رانا صاحب“ کو دوہزار نذر اللہ پیش کی۔ تو انہوں نے عدالت جانے سے بچاتے ہوئے، ڈب کھڑبہ رکشہ حوالے کر دیا۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

وزیر اعظم پورٹل، وزیر اعلیٰ شکایت سیل پر غیر متزلزل یقین رکھنے والے پاکستانیو، ذلفی نے رانا صاحب کو مٹھائی دیدی ہے۔

انہیں رکشہ مل گیا ہے۔ اللہ بہتر کرے گا، ایک آدھ صدی بعد رکشہ کا سامان بھی وہ خرید لیں گے۔ اگر زندہ رہے تو۔ 

اس جمہوریت میں تحریک انصاف کے نعروں کی کامیابی، ببر شیر بھائیوں اور انکی جمہوریت کی شہزادی، غریبوں کے بے تاج بادشاہ ون اینڈ اونلی آصف علی زرداری، مذہبی رہنماﺅں کی نفیس پوشاکوں اور چمچماتی گاڑیوں، اور ادارے کے مقدس سربراہوں، ذمہ داروں کی بقاء اسی میں ہے کہ ایسے کلبلاتے کیڑے دو ہزار کیلئے اسی طر ح ہر طاقتور کے دروازے پر ذلیل ہوتے رہیں، ٹھڈے کھاتے رہیں۔ سب سے آخر میں پنجاب پولیس کو بھی ہمارا سلام ۔

= دلاں دیاں میلیاں نیں چن جہیاں صورتاں ۔۔ ایہناں کولوں چنگیاں نے مٹی دیاں مورتاں =

خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ، خواب دیکھیں اور اوقات دیکھیں ،

سال نو 2022ء مبارک ، مگر —–؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: