خدا و رسولؐ سے جنگ بند کرنے کا فیصلہ

خدا و رسولؐ سے جنگ بند

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے قبل عرب میں جہاں دیگر برائیاں اور خرابیاں تھیں وہاں اقتصادی و معاشی استحصال کرنے کی خاطر سودی کاروبار بھی عروج پر تھا، جسے اللہ کے حکم کے مطابق ختم کر دیا گیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے پہلے عمل کرتے ہوئے اپنے چچا حضرت عباسؓ کا لوگوں کے ذمہ سود معاف کر دیا۔

سود سے پاک اسلامی بینکاری نظام کا عندیہ

رب کائنات نے سود کے لین دین کو خدا و رسول سے جنگ جبکہ رسولؐ نے اس کے ستر گناہ گنوائے،

جن میں کم ترین یہ بتایا کہ سود کا لین دین اپنی والدہ کیساتھ بدکاری کرنا ہے۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے مطابق تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کا مقصد و مدعا ایسا خطہ حاصل کرنا تھا جہاں مسلمان دین اسلام کے تحت بآسانی زندگی بسر کر سکیں۔

گویا اساس پاکستان اور نظریہ پاکستان تحریک آذادی کا حقیقی منبع و سرچشمہ تھا،

مگر افسوس پاکستان چند ایک مخلص و دیانتدار افراد کے علاوہ اقتدار پرست،

دولت پرست اور بدخواہوں کے ہتھے چڑھ گیا، جنہوں نے اساس پاکستان کو کھود کے رکھ دیا۔

نظریہ پاکستان کو دفن کر دیا۔ آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔

سیاست و جمہوریت کو بدنام کر دیا۔ آمریت اور عوامی استحصال کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔

بنیادی انسانی حقوق اور ضروریات زندگی سلب کر لیں۔ جھوٹے نعروں اور جعلی وعدوں کو فروغ دیا۔

اسلامی عقائد پر خوفناک حملہ

پارلیمنٹ میں فراڈیے پہنچے۔ اقتدار پر زور آور قابض ہوئے۔

بعض ججوں نے نظریہ ضرورت کی داغ بیل ڈال کر اساس پاکستان کی جڑیں کاٹ دیں۔

بعض نام نہاد قلم کاروں اور دانش وروں نے سیکولرازم کی آڑ میں نظریہ پاکستان کی بیخ کنی کی۔

کسی آمر نے جمہوریت کا چہرہ مسخ کیا اور کسی نے دین اسلام کی گت بگاڑی۔

بچے جمہوروں نے بھی پارلیمنٹ، آئین و قانون اور جمہوری اقدار و روایات کو پائے مال کیا۔

چنانچہ وطن عزیز چوں چوں کا مربہ بن گیا۔ اب پاکستان اسلامی ہے نہ جمہوری پس تجربہ گاہ ہے۔

کوئی مذہبی جذبات سے اور کوئی مذہب بے زار جذبات سے کھیلتا ہے۔

کوئی سیاست اور اسلام کا نعرہ لگاتا ہے تو کوئی سیاست اور سیکولرازم کی بات کرتا ہے۔

تاہم 1973 کے آئین میں پی پی پی، مسلم لیگ، جمعیت علما اسلام پاکستان، جماعت اسلامی پاکستان، جمعیت علما پاکستان، جمعیت اہل حدیث، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک استقلال پاکستان اور دیگر جماعتوں نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان تسلیم کیا۔

آغاز تو بسم اللہ ہے انجام خدا جانے

حاکمیت اعلی اور قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی پر اتفاق کیا۔

دس برسوں کے اندر تمام قوانین اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا عزم کیا،

مگر حیف کہ پچاس سال بعد بھی عمل درآمد نہ ہو سکا۔

مسلم لیگ ن کے 1997 سے 1999 کے دور اقتدار کے دوران

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کا خاتمہ کر کے اسے اسلامی

سانچے میں ڈھالنے کا حکم دیا تو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف

کی حکومت نے شرعی عدالت کے فیصلے کو عدالت عظمی میں چیلنج کر دیا،

لہذا جماعت اسلامی نے وفاقی شرعی عدالت سے رجوع کیا

اور بیس برس بعد پھر فیصلہ آ گیا کہ سودی معیشت بند کر کے اسلامی اقتصادی نظام نافذ کیا جائے۔

ریاست مدینہ کا نعرہ لگانے اور استحصال کا خاتمہ کرنے

کا دعوی کرنیوالے عمران خان نے بھی سودی استحصال نظام

ختم کر کے اسلامی عادلانہ معاشی نظام نافذ کرنے کی کوشش تو درکنار ارادہ بھی نہیں کیا۔

سُوچنا جرم نہیں ہے

شرعی عدالت کا فیصلہ دوبارہ آیا تو مرکزی بینک سمیت متعدد

بینکوں نے عدالت عظمی میں درخواستیں دائر کر دیں کہ مہلت دی

جائے تاہم پی ڈی ایم کی حکومت کی ہدایت پر اپیلیں واپس لے لی

گئیں اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ سودی معیشت

ختم کر کے اسلامی اقتصادی نظام نافذ کیا جائے گا۔ اب دیکھنا یہ

ہے کہ سودی معیشت کے خاتمے کا آغاز کب ہو گا اور کتنے عرصے میں بلا سود نظام نافذالعمل ہو جائے گا؟

صد شکر کہ خدا و رسول سے جنگ جاری رکھنے کا سلسلہ بند کرنے کی سوچ شروع ہو چکی ہے۔

ارادہ کر لیا گیا ہے تو امید ہے کہ عملی جامہ بھی پہنایا جائے گا۔

ریاست سودی نظام ختم کر دے گی تو نجی سطح پر بھی سود کا لین دین ازخود دم توڑ جائے گا،

تاہم ایسا بلا سود نظام بھی نہیں ہونا چاہیے جیسا کہ بینکوں میں چل رہا ہے۔

سود کا لین دین کرنیوالے بینک بھی قبل از وقت بتا دیتے ہیں

کہ ایک ماہ بعد کتنا سود ملے گا اور بلاسود بینکاری کرنیوالے

بھی پہلے سے ہی منافع مقرر دیتے ہیں کہ مقررہ مدت بعد جمع شدہ رقوم پر کتنے روپے ملیں گے؟

صحیح صحیح بلا سود نظام ہونا چاہیے۔ جو لوگ کہتے ہیں

کہ دنیا بھر میں سودی نظام رائج ہے تو پاکستان میں غیر سودی نظام کیسے چل سکتا ہے؟

عرض یہ ہے کہ دنیا کو سود کے بجائے منافع پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

فرق یہ ہے کہ سود مقرر ہوتا ہے اور منافع کی مقدار کاروبار کرنے کے بعد معلوم ہوتی ہے۔

استغفر اللہ، استغفر اللہ اور بس استغفر اللہ

اگر ہم ہی نہ چاہیں تو اور بات ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے

روس و چین سمیت دیگر سوشلسٹ و کمیونسٹ ممالک نے

سرمایا دارانہ نظام کو استحصالی نظام گردانا اور اسکے مقابلے

میں کمیونزم و سوشل ازم متعارف کروایا لیکن سود سے نجات

حاصل نہیں کی جو استحصال کی اصل جڑ ہے، لہذا سود کے بجائے منافع کو مطمع نظر بنایا جائے۔

نفع و نقصان کی بنیاد پر معیشت چلائی جائے گی تو منافع کم و بیش ہو گا،

تاہم سود کی مقدار متعین ہوتی ہے۔ سودی نظام کے حامل بینک بھی تو دیوالیہ ہوتے رہتے ہیں۔

نفع و نقصان کے نظام سے ہی خوف کیوں کھایا جاتا ہے؟

اگر ظلم و جبر پر مبنی نظام چل رہا ہے تو عادلانہ نظام کی ناکامی کیوں یقینی تصور کر لی گئی ہے؟

سودی نظام کے تحت چلنے والے ممالک دیوالیہ ہو جاتے ہیں

تو عادلانہ نظام کے نفاذ کو قبل از وقت کیوں خطرہ سمجھ لیا گیا ہے؟

یورپ کے کئی ممالک میں غیر سودی نظام بھی چلایا جا رہا ہے تو پھر پاکستان میں مسلم حکمران کیوں خوف ذدہ ہیں؟

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

خدا و رسولؐ سے جنگ بند , خدا و رسولؐ سے جنگ بند , خدا و رسولؐ سے جنگ بند , خدا و رسولؐ سے جنگ بند , خدا و رسولؐ سے جنگ بند ,خدا و رسولؐ سے جنگ بند

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز،رپورٹس اور تبصرے ( == پڑھیں == )

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: