تازہ ترینکالمز،بلاگز، فیچرز

خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ حسین ؑ کے گھر۔۔ رکھی تھی اپنے لیے جو شبیہ پیغمبرْ

Facebooktwitterpinterestlinkedinrssyoutubetumblrinstagramby feather

پشاور( ہدیہ عقیدت عمران رشید خان ) خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ

(جتن انتظامیہ کی جانب سے یوم ولادتِ ہم شکل سرکار دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہزاہ علی اکبر علیہ السلام تمام مومنین کو مبارک)

= پڑھیں = یومِ پیکر وفا، شانِ اہلبیت ؑ، قمر بنی ہاشم غازی عباس علمدارؑ

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں، حسینّ رسول خداْ کی
زندگی میں انہیں بابا کہہ کر پکارتے اور مجھے اباالحسن کہتے۔ جب رسول
خدا ظاہراً اس دنیا کو چھوڑ گئے تو پھر مجھے بابا کہنے لگے“ لیکن فراقِ
جد میں نواسہ رسول بہت مغموم و محزون رہا کرتے تھے کہ خداوند حکیم
نے نواسہ رسول کے گھر شبیہ رسول بھیج کر پھر سے وہ یادیں تازہ فرما
دیں۔ کہکشاں حسینی کا یہ عظیم ستارہ گیارہ (11 ) شعبان المعظم 43 ہجری
کو صحن حسینی میں مدینہ منورہ میں طلوع ہوا۔

شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

خدا نے بھیج دی بعد نبی حسینّ کے گھر
رکھی تھی اپنے لیے جو شبیہ پیغمبرْ
گئے رسولْ اُدھر، اکبرّ اس طرف آئے
غم فراق کا شکوہ رہا اِدھر نہ ُادھر

شہزادہ علی اکبرعلیہ السلام کا حسب و نسب

آپ امام حسین بن علی بن ابی طالب ؑ کے بڑے فرزند اور آپ کی والدہ ماجدہ
کا اسم گرامی لیلیٰ بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے، لیلیٰ کی والدہ میمونہ
بنت ابی سفیان طایفہ بنی امیہ سے تھیں۔ اس طرح شہزادہ علی اکبرّ عرب کے
تین مہم طایفوں کے رشتے سے جڑے ہیں۔ والد کی طرف سے طایفہ بنی ہاشم
سے کہ جس میں پیغمبر اسلام، حضرت فاطمہّ، امیر المومنین علی بن ابیطالبّ
اور امام حسنّ کیساتھ سلسلہ نسب ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے دو طایفوں
سے بنی امیہ اور بنی ثقیف یعنی عروہ بن مسعود ثقفی، ابی سفیان، معاویہ بن
ابی سفیان اور ام حبیبہ ہمسر رسول خدا کیساتھ رشتہ داری ملتی ہے اور اسی
وجہ سے مدینہ کے طایفوں میں سب کی نظر میں آپ ؑ خاصے محترم جانے جاتے۔

شہزادہ علی اکبرّ کے نانا کے حوالے سے رسول اللہ کا فرمان

آپ کے نانا عروہ بن مسعود ثقفی قریش میں عظیم المرتبت شخصیت تھے وہ
قریشِ مکہ کی طرف سے پیغمبر اکرمْ کی خدمت میں صلح نامہ حدیبیہ کی
موافقت کیلئے بھیجے گئے۔ عروہ اہل طائف تھے اور انہوں نے نو ہجری میں
اسلام قبول کیا، پھر اپنی قوم کی ہدایت اور دین اسلام کی تبلیغ کیلئے ان کی
طرف گئے، لیکن اسی قوم کے ہاتھوں نماز سے پہلے اذان کہتے ہوتے تیرِ
ستم سے مرتبہ شہادت پرفائز ہوئے۔ پیغمبر خدا ان کی شہادت پر بہت افسردہ
ہوئے اور شہید کے بارے میں فرمایا عروہ صاحبِ یاسین کی مثل ہیں جو اپنی
قوم کیلئے ہدایت کا فریضہ انجام دیتے تھے اور اسی راہ میں شہید ہوئے۔

شہزادہ علی اکبر ؑ تعلیم و تربیت

شہزادہ حضرت علی اکبرّ نے اپنے دادا امام علی ابن ابیطالب ؑ کے مکتب اور
اپنے والد امام حسین ؑ کے دامن شفقت میں مدینہ و کوفہ میں تربیت حاصل کر
کے رُشد و کمال حاصل کیا۔ امام حسینّ نے ان کی تربیت اور قرآن ، معارف
اسلامی کی تعلیم دینے اور سیاسی اجتماعی اطلاعات سے بھرپور کرنے میں
نہایت کوشش کی جس سے ہر کوئی حتی دشمن بھی ان کی ثنا خوانی کرنے
سے خود کو روک نہ پاتا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شباہت خَلقی

امامّ کے فرمان کے مطابق شہزادہ حبیب خدا سے تین قسم کی شباہتیں رکھتے
تھے۔ خلقی، خلقی اور منطقی۔ شباہت خلقی سے مراد قد و قامت اور صورتاً
مشابہ ہونا۔ جناب علی اکبرّ قد وقامت اور شکل و صورت میں رسولِ خدا کے
ساتھ شباہت رکھتے تھے۔ معروف ہے حضرت ابوالفضل العباسّ اور شہزادہ
علی اکبرّ جب مدینے کی گلیوں میں نکلتے تھے تو لوگ فقط ان کے دیدار کی
خاطرجمع ہو جاتے۔ جناب علی اکبرّاسقدر خوبرو تھے کہ انہیں دیکھ کر زمانے
کو رسول خدا یاد آ جاتے۔

محبوب خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شباہت خُلقی

شہزادہ علی اکبرّ رسول معظم کے اخلاق کی بھی شبیہ تھے، اس عظیم اخلاق
کی جھلک شہزادے میں اسقدر نمایاں تھی کہ شہزادے کے سلام کرنے سے
لوگوں کو پیغمبر کا سلام کرنا یاد آجاتا۔ غرباء و فقراء و مساکین کیساتھ حسن
سلوک سے رفتار نبویْ کی یادیں تازہ ہوجاتیں۔ کتب تاریخ میں موجود ہے کہ
ہم شکل پیغمبر شہزادہ علی اکبرّ نے مدینہ میں غرباء و مساکین کیلئے ایک
بہت بڑا مہمان خانہ بنا رکھا تھا جس میں ہر روز و شب کھانے کھلانے کا
انتظام کیا کرتے اور تمام لوگ شہزادے کے دستر خوان سے مستفید ہوتے۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شباہت مَنطقی

لسانِ عصمت میں منطق علی اکبرّ کو منطق رسول خدا سے تعبیر فرمایا گیا
اور قرآن کریم منطق نبوی کے بارے میں یوں گویا ہے کہ، رسول خدا ہواو
ہوس سے کوئی کلام نہیں کرتے انکا کلام تو صرف وحی ا لٰہی ہوتا ہے، امام
حسینّ کو جب بھی اپنے نانا کی آواز سننے کا شوق ہوتا، تو آ پ شہزادہ علی
اکبرّ سے کہتے بیٹا اذان و اقامت کہو اور پھر راز و نیاز و عبادات و مناجات
میں مشغول ہو جاتے، اسی وجہ سے دس محرم الحرام کی صبح بھی شہزادہ
علی اکبرّ سے اذان دلوائی گئی تا کہ لہجہ رسولْ سن کر شاید ان قسی و شقی
لوگوں کے دلوں پہ اثر پڑے۔

زائر رسول اللہ کا بے ہوش ہونا

شہزادہ علی اکبرّ کے زمانے میں ایک عرب شخص حبیب خدا کی زیارت کا
بہت مشتاق تھا۔ اسی اشتیاق میں گریہ کناں رہتا، اسے بتلایا گیا پریشان ہونے
کی ضرورت نہیں اگرچہ رسولِ خدا اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، لیکن
شہزادہ علی اکبرؑ ہو بہو شکل و صورت میں پیغمبر لگتے ہیں۔ مدینہ جاؤ اور
شہزادے کی زیارت کر لو، رسولِ خدا کی زیارت ہوجائیگی۔ وہ عرب شخص
امام ؑ کی خدمت میں حاضر ہوا، ماجرا عرض کیا۔ مولا امام حسینّ نے شہزادہ
علی اکبرّ کو آواز دی۔ جناب علی اکبرّ تشریف لائے، جب بابا کی خدمت اقدس
میں حاضر ہوئے تو اس عرب شخص نے علی اکبرّ کو دیکھا تو اس کو ایسا
محسوس ہوا وہ رسول معظم ْ کی زیارت کر رہا ہے اورتاب نہ لاتے بیہوش
ہو گیا۔ الغرض کردارورفتارو گفتار میں بھی شہزادہ علی اکبرّ رسول معظمْ
کے اتنے مشابہ تھے کہ ان کو دیکھ کر لوگ رسول اکرمْ کو یاد آ جاتے۔

معاویہ بن سفیان کی زبانی شہزادہ علی اکبرّ کی تعریف وتمجید

ابو الفرج اصفہانی مغیرہ سے روایت کرتا ہے ایک دن معاویہ نے اپنے ہم
درباریوں سے پوچھا، تم لوگوں کے نزدیک اس خلافت کا حقدار کون ہے؟
سب نے کہا! ہمارے نزدیک اس منصب کے لائق صرف تم ہو، معاویہ
کہنے لگالا، اس طرح نہیں جس طرح تم لوگ سوچتے ہو بلکہ اس منصب
کے سب سے زیادہ سزا وار علی بن حسینّ ہیں- جن کے جدِ رسول خدا ہیں
جنہوں نے شجاعت و دلیری بنی ہاشم سے، سخاوت بنی اُمیہ اور زیبائی و
فخر و مباہات ثقیف سے پائی ہے۔

شہزادہ علی اکبرعلیہ السلام کے کمال ایمان و ایقان کا ایک واقعہ

شبیہ رسول اللہ علی اکبرعلیہ السلام کا سینہ معرفت خداوندی سے پُرتھا جس
نے جنت کے سرداروں سے تعلیم و تربیت حاصل کی تو ایسی ہستی کاعلم و
ایقان بھی اوج ثریا پہ ہو گا، آپ کی دینی و سیاسی بصیرت کا علم سفر کربلا
سے عیاں ہوتا ہے جیسا کہ سفر کربلا میں ایک واقعہ ملتا ہے کہ امام حسینّ
کی منزل قصر بنی مقاتل پر آنکھ لگ گئی، جیسے ہی آپ نیند سے بیدار ہوئے
تو فوراً کلمہ استر جاع ” اناللہ واناالیہ راجعون” پڑھا۔ آپ نے تین مرتبہ اس
جملے کو دوہرایا اور خداوند متعال کی حمد کی۔ شہزادہ علی اکبرّ نے آپ سے
کلمہ استرجاع کی وجہ پوچھی تو امام حسینّ نے فرمایا کہ بیٹا! میں نے خواب
میں ایک گھوڑا سوار کو دیکھا جو کہہ رہا تھا یہ قافلہ موت کی جانب رواں
دواں ہے۔ اس پر شہزادے نے پوچھا، بابا کیا ہم حق پر نہیں؟ آپؑ نے فرمایا
کیوں نہیں ہم حق پر ہیں۔ تو شہزادے نے فرمایا پھر ہمیں موت کی کیا پرواہ؟
شہزادے کا یہ مخلصانہ جواب سن کر سید الشہداء نے انکو دعائے خیر دی۔

یوم عاشور میدان میں بھجواتے ہوئے امام حسینّ کا تعارف علی اکبرّ

مقتل کی تمام کتب میں موجود ہے جب حضرت امام حسینّ اپنے فرزند دل
بند کو میدان کی طرف روانہ کرنے لگے تو بارگاہ خدا میں یوں گویا ہوئے،
بارالہٰا! گواہ رہنا اس قوم ستمگر سے جنگ کیلئے ایسا جوان جا رہا ہے جو
خلقت و اطوار، رفتار و گفتار میں تیرے محبوب و رسولْ کی شبیہ ہے، ہمیں
جب بھی تیرے نبی کی زیارت کا اشتیاق ہوتا تو ہم اس جوان کو دیکھ لیتے۔
بزرگ محقق علماء شیخ مفید اور شیخ طوسی وسید ابن طاؤوس ؒ ٰ نے اپنے
اپنے آثار میں حضرت علی اکبرّ کا سن مبارک کربلا میں 18 سال لکھا ہے۔

شجاعت شہزادہ علی اکبر علیہ السلام

جناب علی اکبرّ فرزند علیّ کے پروردہ تھے آپ کو شجاعت اپنے دادا مولا
علی مرتضیٰ شیر خداّ سے ورثے میں ملی۔ علامہ مجلسی نقل فرماتے ہیں،
بروز عاشورہ آپ جس طرف رخ فرماتے لوگوں کو خاک ہلاکت میں ملاتے
جاتے۔ آپ نے اسقدر شجاعت علوی کا مظاہرہ کیا کہ مقتولین کی کثرت پر
لوگ گریہ و شیون کرنے لگے اور روایت میں ہے، علی اکبرّ نے پیاس کی
شدت کے باوجود ایک سو بیس افراد کو تہ تیغ کیا۔ پیاس کی وجہ سے آپ
والد گرامیّ کی طرف گئے پھر دوبارہ میدان میں اترے اور اسقدر جنگ کی
کہ واصل جہنم ہونیوالوں کی تعداد دوسو سے زائد تک پہنچ گئی۔

شہزادہ علی اکبر ؑ کا قوم اشقیاپر حملے سے قبل رجز

تمام کتب مقاتل میں شہزادہ علی اکبرّ کے مبارزطلبی کے اشعار موجود و
محفوظ ہیں۔ شہزادے نے جب پہلی مرتبہ قوم اشقیاء پر حملہ کیا تو انکا رجز
یہ تھا ” میری ضرب، ہاشمی قریشی جوان کی ضرب ہے، شہزادہ علی اکبرّ
اپنی جدہ مظلومہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کیساتھ اس لحاظ سے
شباہت رکھتے ہیں کہ ان دونوں کی عمریں کم تھیں اور دونوں نے ہی اٹھارہ
سال کی عمر مبارک میں شہادت کی سعادت پائی۔ عاشور کے دن بنی ہاشم
کا پہلا شہید بھی حضرت علی اکبرّ ہیں اور زیارت معروفہ شہداء میں بھی
آیا ہے، حضرت علی اکبرّ نے عاشور کے دن دو مرحلوں میں عمر سعد کے
دو سو سپاہیوں کو واصل جہنم کیا اور آخر کار مرّہ بن منقذ عبدی نے سر
مبارک پر ضرب لگا کر آنحضرتّ کو شدید زخمی کیا اور اس کے بعد
دشمن کی فوج نے شہزادے پر ہر طرف سے حملہ کر کے شہید کر دیا۔

شہزادہ علی اکبر ؑ کا زیارت نامہ

آپ ؑ عالم، پرہیزکار، رشید اور شجاع جوان، انسانی کمالات و اخلاقی صفات
کے عظیم درجہ پر فائز تھے۔ آپ ؑ کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے، سلام
ہو آپ پر اے صادق و پرہیز گار، اے پاک و پاکیزہ انسان، اے اللہ کے مقرب
دوست، ۔۔ کتنا عظیم ہے آپّ کا مقام، اور کتنی عظمت سے آپّ اس کی بارگاہ
میں لوٹ آئے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا نے راہ حق میں آپ کی مجاہدت
کی قدر دانی کی اور اجر و پاداش میں اضافہ کیا اور آپ کو بلند مقام عنایت
فرمایا۔ اور بہشت کے اونچے درجات پر فائز فرمایا۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ ، خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ ، خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ
خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ ، خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ ، خدا نے بھیج دی بعدِ نبیْ

About Author

Facebooktwitterpinterestlinkedinrssyoutubetumblrinstagramby feather
Facebooktwitterredditpinterestlinkedintumblrmailby feather

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے