خاتون صحافی صدف نعیم کی موت حادثہ یا قتل۔۔؟

کرائمز نیوز/ خاتون صحافی صدف نعیم

"چینل فائیو "کی رپورٹر صدف منیر لاہور سے ہی کوریج کیلئے عمران خان کے لانگ مارچ کے ساتھ موجود تھیں۔

انہوں نے گزشتہ روز عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ آج جب لانگ مارچ مرید کے میں سادھوکی کے قریب پہنچا تو وہ کنٹینر سے نیچے گر گئیں اور کنٹینر ان کے اوپر سے گزر گیا لیکن! یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ۔۔۔

صحافی صدف نعیم کی موت کے وقت سے بارہا اسے دھکا دینے کا ذکرتو ہوا مگر یہ معلوم نہ ہوسکا

کہ آخر اتنی بھیڑ میں صحافی خاتون ہی گرپڑی دوسری جانب وقوعہ پر شور شرابہ اور مبینہ ہاتھا پائی

کی بھی بات ہوتی رہی جس سے معاملے میں شک و شبہات کی گنجائش پیدا ہوئی تمام تر صورتحال کے

بعد صحافی افضل سیال کی جانب سے انکشاف کیا گیا جس سے مبینہ طور پر حقائق پرسے پردہ اٹھا دیا

خبریں چینل فائیو کی رپورٹر صدف نعیم کی کیسے شہادت ہوئی؟


جی ٹی روڈ سادھوکی عمران خان کے خطاب کے بعد مختلف چینلز کے کل تین رپورٹرز اپنے کیمرہ مینوں

کیساتھ عمران خان کےکنٹینر کےدروازے والی سائیڈ سےساتھ بھاگ رہے تھے تاکہ عمران خان کا ساٹ کیا

کنٹینر کے ساتھ بھاگنے والوں میں دنیا نیوز اخلاق باجوہ انکے کیمرہ مین آصف پرویز ٹوبہ نیو ٹی وی

کے کاشف سلمان اور انکے کیمرہ مین اور پانچویں صدف نعیم تھی جو ساتھ ساتھ بھاگ رہی تھی ، کوئی

دو سے تین کلومیٹر بھاگنے کے بعد جب کنٹینر پر چڑھنے کی اجازت نہیں ملی تو اخلاق باجوہ صاحب

تھک کر سائیڈ پر ہو گئے

ہم تھک گئے یہ کنٹینر پر چڑھنے نہیں دینگے

اور اسکے پیچھے صدف نعیم نے انکی جگہ پر بھاگنا شروع کردیا اخلاق باجوہ نے صدف کو کہا ہے

دفعہ کریں ہم تھک گئے ہیں یہ ہمیں کنٹینر پر نہیں چڑھنے دیں گے اب صدف آگے تھے

کیمرہ مین آصف پرویز پیچھے تھا اور اسکے پیچھے نیو ٹی وی کے کاشف سلمان اور انکا کیمرہ مین

پیچھے تھا

صدف شہید نے دروازے پر ہاتھ ڈالا تو گارڈ نے دھکا دے دیا

اسی اثنا میں صدف نے کنٹینر کے دروازے کو ہاتھ ڈالا عمران خان کے دو سیکورٹی گارڈ جو کنٹینر کے

دروازے پر مامور تھے ان میں سے ایک نے صدف کوُ دھکا دیا اور وہ گر گئی ،

جیسے وہ گری کنٹینر کے ٹائر نے صدف نعیم کا سر کچل دیا اور صدف نعیم موقع پر شہید ہوگئیں
سب سے پہلے دنیا نیوزکے کیمرہ مین آصف پرویز نے جب یہ دیکھا تو اس نےشور کیاجسکے بعد

عمران خان کے گارڈز نے بے شرمی کی انتہا کردی اور ویڈیو بنانے والے کیمرہ مینوں کو کنٹینر

دروازے پر تعینات گارڈز نے ویڈیو بنانے والوں کو زود کوب کیا عمران خان بھی خاموش رہے

کے اوپر سے پانی والی بوتلیں مارنی شروع کردیں اور جو گارڈز کنٹینر کے دروازے پر تعنیات تھے

وہ نیچے اترے اور ویڈیو بنانے والوں کو زد کوب کرنا شروع کردیا اور اونچی آواز میں کہتے رہے

کوئی ویڈیو مت بنائے ، کسی ایک ویڈیو بنانے والے کا موبائل بھی چھنیا گیا ہے اس کے بعد صدف کی

ڈیڈ باڈی کو ریسیکو کیا گیا

عمران خان جب نیچے اترا تو اسکے گارڈ صدف نعیم کو کنٹینر سے دھکا دیکر قتل کرکے ویڈیو بنانے والوں پر تشدد کرنے میں مصروف تھے!

صدف نعیم کی شہادت کی مکمل ذمہ داری عمران خان کے کنٹینر کے دروازےپر معمور گارڈ پرعائد ہوتی ہے

جنکے دھکے کی وجہ سے سنیئر رپورٹر صدف نعیم شہید ہوئیں !
یہ تمام واقعہ موقع پر موجود عینی شائد دوستوں نے بتایا ہے عینی شائد بھی سب جرنلسٹ ہیں

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

= پڑھیں = پاکستان بھر سے مزید اہم اور تازہ ترین خبریں

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: