حجاب پر پابندی عالمی حقوق کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار

ویب ڈیسک/حجاب پر پابندی عالمی


اقوام متحدہ کمیٹی نے سکول میں حجاب اوڑھنے پر پابندی کے کیس میں فرانس کے خلاف فیصلہ سنا دیا

اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ فرانس نے ایک خاتون پر حجاب پہننے

پر پابندی عائد کرکے بین الاقوامی حقوق کے معاہدے کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔

فرانس میں اس خاتون پر سرپوش
اوڑھنے کی بنا پر ایک تربیتی کورس کے دوران میں سکول میں داخلے

پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

کمیٹی نے فیصلہ 2016 میں ایک فرانسیسی شہری کی دائر شکایت پرجاری کیا


میڈیا رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے کہا کہ اس اقدام سے شہری اور سیاسی حقوق

سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور فرانسیسی سکول نے ایک طرح سے اس معاہدے

کو توڑ دیا،

کمیٹی نے یہ فیصلہ 2016 میں ایک فرانسیسی شہری کی دائر کردہ شکایت پر جاری کیا ہے،

اس خاتون کا وکیل انکا نام شائع نہیں کرنا چاہتا، یہ خاتون 1977میں پیدا ہوئی تھیں

اور وہ 2010 میں بالغوں کے لئے ایک پیشہ ورانہ تربیتی
کورس میں شریک ہونا چاہتی تھیں۔


سکول ہیڈماسٹر کا اقدام مذہبی آزادی کے حق کی بھی خلاف ورزی


خاتون نے اس کورس کےلئے انٹرویو اور داخلہ کاامتحان پاس کیا تھا،لیکن پیرس کے جنوب مشرقی مضافات میں واقع
لانگیوین والن ہائی سکول کے ہیڈماسٹر نے عوامی تعلیمی اداروں میں مذہبی علامات پہننے پرپابندی کے قانون کی وجہ
سے انہیں عمارت میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکارکردیا تھا۔اقوام متحدہ کی کمیٹی نے کہا خاتون کو سرپوش
(ہیڈ اسکارف)پہنتے ہوئے اپنے جاری تعلیمی کورس میں شرکت سے منع کرنامعاہدے کی خلاف ورزی ہے۔اسکے
علاوہ یہ ان کے مذہب کی آزادی کے حق پربھی پابندی ہے۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ جتن نیوز اردو انتظامیہ

= پڑھیں = خواتین سے جڑی مزید اہم اور معلوماتی خبریں

حجاب پر پابندی عالمی

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: