جواب دیں آ جائیں میدان میں — مگر طویل خاموشی اور بس!

جواب دیں آ جائیں میدان میں

ہم سب نماز پڑھتے، روزے رکھتے اور وظیفے بھی جی بھر کر پڑھتے ہیں- ماشاء اللہ
سوشل میڈیا پر سیٹیس لگا لگا کر سب لوگوں میں دکھاوے بھی کرتے ہیں، یعنی پاکستانی
قوم اور ” شو ” نا مارے کسیے ہو سکتا یے؟

= پڑھیں = کیا ہم نے پڑھے لکھے بیروزگار بنانے کی ٹھان رکھی ہے؟

مگر ہم عام زندگی میں کسی کو جب کہتے ہیں کے اس کی شکل نورانی یے تو ایسا کیوں
ہے کیونکہ وہ عبادت بہت زیادہ کرتا یا کرتی ہے۔ مگر ہم نے کبھی بھی اس کو سائنٹفیکلی
نہیں لیا۔ روح کو نور محسوس ہوتا یے؟ کیوں نہیں ہوتا مگر ہماری لائف کے پیٹرن ایسے
بنے ہوے ہیں کہ ہم اس شے کو محسوس نہیں کرتے ورنہ آپکو کبھی دم کروانے کسی کے 
پاس نا جانا پڑے۔

نور کے مالیکیول جب ہماری روح کی مالیکول سے ٹکراتے ہیں تو پھر ہمیں وہ کیمکل ری
ایکشن محسوس ہوتا یے جیسے نماز پڑھ کر قرار آ جاتا یے یا جب آپ رو رو کر دعا کرتے
ہیں تو دل کو سکون آ جاتا یے۔

= یہ بھی پڑھیں = سال نو 2022ء مبارک ، مگر —–؟

ہم دل میں جتنے لمبے لمبے منصوبے بناتے ہیں جتنا کام ، زبان سے لوگوں کو دُکھ دیتے
ہیں۔ اتنا ہی ہمارے اندر نور کو محسوس کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ پھر آپ
لمبے لمبے وظیفے پڑھیں گے سیٹس لگائیں گے مگر من کا برتن اُجلا ہو گا نا بَھرے گا۔
( واصف علی واصف کو پڑھنے والے قارئین جلدی سمجھ جائیں گے )

ہمیں ضرورت ہے، محبت کی ، عشق کی

ہمیں اندر دُھونی دینے کی ضرورت ہے، محبت کی ، عشق کی، صِلح رحمی کی، نرم دلی
کی، انصاف پسندی کی، دین آپ کو انصاف پسند بناتا یے، حق نہیں مارنے دیتا، کسی کی
چیز کسی اور کو نہیں دینے دیتا، مگر اچھا رویہ، خوش اخلاقی کا درس ضرور دیتا ہے-

عبادت سے ” میں ” ختم ہوتی ہے

جب آپ دل و جاں سے عبادت کرتے ہیں تو آپ اپنی” میں "، کھونے لگتے ہیں، ” میں "
یعنی ” انا ” ( Ego )۔ جب آپ ایگو ( Ego ) کو چھوڑتے ہیں تو آپ کو رب کی خود پر
دسترس محسوس ہوتی یے۔ خیر وہ تو شہ رگ سے قریب ہے، الگ بات کہ ہم مطلب کے
وقت اللہ کو پکار لیتے ہیں یا شکوے کیلئے شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ محسوس کرتے ہیں
کہ میں پکارتا ہوں تو جواب آتا یے "جی میرے بندے "-

رب کہتا سب کو  یے مگر سُنتا کوئی کوئی یے

وہ رب کہتا سب کو یے مگر یقین مانیں سُنتا کوئی کوئی یے۔ ہم بس دین کیلئے بچے قاری
صاحب کے حوالے کر کے بے فکر ہو جاتے ہیں۔ ایسا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔
کیونکہ دین کی بھی ایک سائنٹفک اپروچ یے-

= ضرور پڑھیں = سفید ریش بابا جی ، جو مجھے رُلا گیا ۔ ۔ ۔

یہ الگ بات ہے کہ بس اتنے بار یہ وظیفہ پڑھو ثو اب کما لو کا ورد کرتے ہیں- ( جن کو
مجھ سے اختلاف ہے ان سے معذرت )۔ کبھی ہم نے دین کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں
کی- یہی وجہ ہے کہ ہم جوان اولاد کے ہاتھوں سے نکل جانے کا رونا روتے ہیں، تو کبھی
ہم کہتے ہیں کہ بچے عیاشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں- ڈرگز لے رہے۔

آپ اپنی فیلڈ کو دین سے جوڑ سکتے ہیں؟

جناب آپ نے دین کو کتنا سمجھا یے؟ آپ اگر فزکس ، کیمسٹری یا بائیو ٹیکنالوجی میں ہیں
تو آپ اپنی فیلڈ کو کس قدر دین سے جوڑ سکتے ہیں؟ جواب دیں آ جائیں میدان میں ؟؟؟ مگر
—– ایک طویل خاموشی —– اور بس

حقوق العباد انتہائی اہم ، ہم یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہیں

دین سمجھنے کی شے ہے، اس کو سمجھیں، پھر اس پر مکمل عمل پیرا رہیں ورنہ آپ جتنی
مرضی عبادات کر لیں، اندر سائیں سائیں کی آوازیں آئیں گی۔ جو بے فائدہ ہی ہونگی، کیونکہ
دین صرف نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ یہ مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں
حقوق العباد کی بے حد اہمیت ہے، مگر ہم انہیں یکسر نظرانداز کئے ہوئے ہیں-

اللہ ہم سب کو ہدایت عطا کرے، جائز خواہشات پوری فرمائے ( الہٰی آمین )

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آراء سے بھی ضرور نوازیں، شکریہ،
جتن انتظامیہ

جواب دیں آ جائیں میدان میں ، جواب دیں آ جائیں میدان میں ، جواب دیں آ جائیں میدان میں

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: