توشہ خانہ میں کس نے کب اور کیا خریدا

اسلام آباد (جے ٹی این پی کے خصوصی رپورٹ) توشہ خانہ میں کس نے کب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے توشہ خانہ کیس میں کارروائی کا عندیہ دے دیا۔نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب توشہ خانہ کیس میں تمام مرکزی کرداروں کے خلاف کارروائی کریگا۔ذرائع نے بتایا کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور فرح گوگی کے خلاف کارروائی کی جائے گی جب کہ شہزاداکبر، ذلفی بخاری اور دیگر کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان میں صدر مملکت، وزیراعظم، وزرا، چیئرمین سینٹ، سپیکر قومی اسمبلی، صوبائی وزرائے اعلی، ججز، سرکاری افسران اور حتٰی کہ سرکاری وفد کے ہمراہ جانے والے عام افراد کو بیرون ملک دورے کے دوران ملنے والے تحائف توشہ خانہ کے ضابطہ کار 2018 کے تحت کابینہ ڈویژن کے نوٹس میں لانا اور یہاں جمع کروانا ضروری ہیں۔


جس کے بعد یا تو انہیں موجودہ قانون کے تحت نصف قیمت پر خریدا جا سکتا ہے یا پھر انہیں سرکاری طور پر نیلام کر دیا جاتا ہے۔ تاہم نصف قیمت پر تحائف خریدنے کا قانون دسمبر 2018 میں وزیراعظم عمران خان نے متعارف کروایا تھا ۔ تاہم اس قانون سے قبل وزیراعظم عمران خان خود بھی دس کروڑ سے زائد کے قیمتی تحائف صرف 20 فیصد سے کم قیمت پر خرید چکے تھے۔

پاکستان کی کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے جانے والی سرکاری دستاویزات کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ نے اگست 2018 سے دسمبر 2021 تک توشہ خانے سے 58 سے زائد تحائف خریدے یا قانون کے مطابق 30 ہزار سے کم مالیت کے تمام تحائف مفت میں رکھ لیے۔

توشہ خانہ کیس،عمران خان نااہل قرار

خریدے جانے والے تحائف کی قیمت سرکاری حکام کی طرف سے 14 کروڑ 20 لاکھ لگائی گئی۔ وزیراعظم نے اس کے عوض تین کروڑ 81 لاکھ ادا کیے۔ انہوں نے آٹھ لاکھ کے مفت تحائف بھی رکھ لیے۔

صدر مملکت عارف علوی اور ان کی اہلیہ کو اسی مدت میں کل 92 تحائف ملے جن کی قیمت 45 لاکھ 47 ہزار لگائی گئی۔ صدر مملکت قومی خزانے میں 14 لاکھ 92 ہزار دے کر وہ تحائف گھر لے گئے۔صدر مملکت نے بھی نو لاکھ روپے کے مفت تحائف لیے ہیں۔


عمران خان نے جو تحائف بلامعاوضہ رکھ لیے ان میں 30 ہزار کا ٹیبل میٹ، 20 ہزارکا ڈیکوریشن پیس، 20 ہزار کا لاکٹ، 25 ہزار کا مکہ کلاک ٹاور کا ماڈل، نو ہزارکا ڈیکوریشن پیس، آٹھ ہزار کی وال ہینگنگ شامل ہیں۔


سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے خریدے گئے مہنگے تحائف میں ایک آٹھ کروڑ 50 لاکھ کی گریف گھڑی شامل ہے جو انہوں نے صرف ایک کروڑ ستر لاکھ روپے خزانے میں جمع کروا کر لے لی۔


اسی طرح انہوں نے گھڑی سمیت چار تحائف لیے جن کی مجموعی قیمت کا سرکاری تخمینہ 10 کروڑ نو لاکھ روپے بنتا ہے تاہم سابق وزیراعظم عمران خان نے اس قیمت کا صرف 20 فیصد یعنی دو کروڑ دو لاکھ روپے دے کر خرید لیا۔


ان تحائف میں 56 لاکھ کے کف لنکس، 15 لاکھ کا ایک پین اور 87 لاکھ 50 ہزار کی انگوٹھی شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے ایک 38 لاکھ کی رولیکس گھڑی سات لاکھ 54 ہزار میں خریدی۔


اگست میں حکومت سنبھالنے کے چھ ماہ کے اندر اندر دسمبر 2018 تک وزیراعظم دس کروڑ سے زائد مالیت کے تحائف 20 فیصد ادائیگی پر خرید چکے تھے۔ اس کے بعد قانون تبدیل کرکے تحفے کی لگائی گئی قیمت کا 50 فیصد ادا کرنا ضروری قرار دے دیا گیا تاہم اس نئے قانون کے بعد وزیراعظم نے صرف چار کروڑ کے تحائف خریدے۔

اس طرح متعدد اور گھڑیوں اور تحائف سمیت کل 14 کروڑ سے زائد مالیت کے تحائف وزیراعظم نے تین کروڑ 81 لاکھ روپے میں خریدے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا دعویٰ ہے کہ بعد میں یہی تحائف دبئی میں بیچ دیے گئے۔

نیب نے عدالت کو بتایاتھا کہ آصف زرداری اور نواز شریف نے اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے غیر قانونی طور پر گاڑیاں حاصل کیں۔

یہ گاڑیاں غیر ملکی سربراہان مملکت یا رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری کو تحفے میں دی گئی تھیں مگر قانون کے تحت یہ گاڑیاں پاکستان کے سرکاری توشہ خانہ یا گفٹ سنٹر میں جمع کروانی ہوتی ہیں۔


نیب کے مطابق سنہ 2008 میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قواعد میں نرمی کرتے ہوئے صرف 15 فیصد رقم کی ادائیگی کرکے یہ گاڑیاں آصف زرداری اور نواز شریف کو دینے کی منظوری دی۔


نیب ذرائع کے مطابق ان نئے ماڈلز کی تین گاڑیوں کی اصل قیمت چھ کروڑ تھی۔

تاہم ابتدائی طور پر صرف نوے لاکھ کی ادئیگی کی گئی جبکہ ایکسائز آفس کے اعتراض

پر مزید رقم جمع کروائی گئی اور یوں تینوں گاڑیاں دو کروڑ کی ادائیگی پر آصف زرداری کے نام کر دی گئیں۔


نیب کا مؤقف تھا کہ آصف زرداری نے تین گاڑیاں توشہ خانہ میں جمع کرانے کے بجائے خود استعمال کیں۔
سابق وزیراعظم کے متعلق نیب نے بتایا کہ نواز شریف 2008 میں کسی بھی عہدے پر نہیں تھے۔

نواز شریف کو 2008 میں بغیر کوئی درخواست دیے توشہ خانے سے گاڑی دی گئی

اور ان گاڑیوں کی ادائیگی عبدالغنی مجید نے جعلی اکاؤنٹس سے کی۔

توشہ خانہ میں کس نے کب

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: