تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری اقدارکے تقاضے اور سیاسی ہلچل

لاپور (جتن نیوز اردو جائزہ رپورٹ ) تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری

وزیراعظم عمران خان کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرا دی ہے، ساتھ ہی قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ریکوزیشن بھی دی ہے-
بالآخر وہ مرحلہ آ گیا ہے جس کے بارے میں گذشتہ کئی ہفتوں سے ملک میں سیاسی چہ میگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا۔
اب یہ ہمارے جمہوری نظام، پارلیمانی روایات، سیاسی جماعتوں اور حکومت کا امتحان ہے کہ وہ اس مرحلے سے کیسے گذرتی ہیں۔

= پڑھیں = آخر کب تک۔۔۔؟

یہ سب کچھ آئین میں موجود ہے اور تحریک عدم اعتماد بھی ایک آئینی راستہ ہے،
جس کے تحت حکومت کو وقت سے پہلے برخواست کیا جا سکتا ہے۔
آئینی اور جمہوری تقاضا تو یہی ہے کہ اب جتنے بھی مراحل ہیں انہیں خوش اسلوبی اور وقار کے ساتھ طے کیا جائے-
کوئی ایسی بدمزگی یا ابہام پیدا نہ ہو کہ جس سے ہمارے جمہوری نظام پر انگلیاں اٹھیں یا اسے خطرات لاحق ہوں۔
حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے اپنی اپنی اکثریت کا دعویٰ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں،
جب تک آخری مرحلہ طے نہیں ہو جاتا یہی صورتِ حال رہنی ہے-
جس طرح انتخابات میں ہر امیدوار اور ہر سیاسی جماعت کو اپنی جیت کا دعویٰ ہوتا ہے،
اُسی طرح یہ عدم اعتماد کی تحریک بھی ایک طرح کا الیکشن ہی ہوتی ہے-
جس میں اپوزیشن اگر اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب رہے تو وزیراعظم کو منصب چھوڑنا پڑتا ہے-
اگر ناکام رہے تو وزیراعظم برقرار رہتے ہیں اور اُن کیخلاف اگلے چھ ماہ تک پھر دوبارہ تحریک عدم اعتماد نہیں لائی جا سکتی۔

تحریک عدم اعتماد آنے کے بعد سیاسی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے۔

حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی اس کوشش میں ہیں کہ اپنے اپنے پتے بہت سوچ سمجھ کے اور وقت کے مطابق کھیلیں،
مگر اس سارے عمل میں جب الزامات کا عنصر شامل ہو جاتا ہے تو صورتِ حال کشیدہ ہو جاتی ہے۔
حکومت کی طرف سے الزام لگایا جا رہا ہے کہ اپوزیشن قومی اسمبلی کے ممبران کی قیمت لگا رہی ہے،
خود وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ ایک ایک ووٹ کی قیمت 18،18 کروڑ روپے لگ رہی ہے۔
دوسری طرف اپوزیشن اس الزام کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر چکی ہے
اور اس کا کہنا ہے ارکانِ اسمبلی اپنے ضمیر کی آواز پر تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دیں گے۔
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے تو یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ اس
تحریک عدم اعتماد کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ہے اور ڈوریں کہیں اور سے ہل رہی ہیں۔
اس الزام کو بھی اپوزیشن نے بری طرح مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے
عمران خان کیخلاف غیر ملکی قوتوں کو سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے،

= مزید پڑھیں = اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والو سے سوال

جب وہ عدم مقبولیت کی آخری حدوں پر کھڑے ہیں یہ باتیں الزام اور جواب
کی شکل میں اُس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ ہو نہیں جاتا،
تاہم بہتر تو یہی ہو گا کہ جمہوری انداز سے اس مرحلے کو طے کیا جائے۔
سپیکر قومی اسمبلی حکومتی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی
چھپی بات نہیں، تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی
ذمہ داریاں آئین اور قواعد و ضوابط کے مطابق ادا کریں گے۔
ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ عام قانون سازی کے وقت سپیکر کی جانبداری
کیخلاف اپوزیشن واک آﺅٹ کرتی رہی ہے-
یہ الزام بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنے منصب کے تقاضوں سے انصاف نہیں کر رہے۔
عام قانون سازی کی نسبت تحریک عدم اعتماد ایک بہت اہم اور نازک معاملہ ہے۔
اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی کی غیر جانبداری اور شفافیت اشد ضروری ہے۔
امید کی جانی چاہیے اسد قیصر نے اپنی ذمہ داریاں آئین کے مطابق ادا کرنے کی
جو یقین دہانی کرائی ہے، اُس پر وہ من و عن عمل بھی کریں گے۔

مزید تجزیئے ، فیچرز ، کالمز ، بلاگز اور تبصرے ( == پڑھیں == )

سب سے اولین مرحلہ تو وہ ہے کہ جب قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا۔
یہ اجلاس سپیکر کب بلاتے ہیں اس بارے میں بھی آئین کی واضح ہدایت موجود
ہے انہیں ایک مقررہ مدت میں اس تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانی ہے۔
اپوزیشن کا دعویٰ ہے اُس کے پاس 172 سے زائد ارکان کی حمایت موجود ہے
اس لیے وہ چاہتی ہے جلد اس مقصد کے لیے اجلاس بلایا جائے۔
تاہم حکومتی حلقوں کی طرف سے اکثریت حاصل ہونے کا دعویٰ تو کیا جا رہا
ہے البتہ اجلاس بلانے میں عجلت کا مظاہرہ نہیں کیا جا رہا۔
پوری قوم کی نظریں اِس وقت اپنے نمائندوں پر لگی ہوئی ہیں۔
اُن کے ہر عمل پر نظر رکھی جا رہی ہے، کون کس طرف جا رہا ہے،
کس پر کیا الزام لگ رہا ہے، کس نے اپنی وفاداری تبدیل کی ہے،

کون اپنی جگہ پر جم کر کھڑا ہے، عوام سب دیکھ رہے ہیں۔

ایک بات تو طے ہے اگر یہ سب کچھ شفاف طریقے،آئینی و جمہوری
انداز سے پایہ تکمیل کو پہنچا تو عوام کا جمہوریت پر اعتبار مزید راسخ ہو جائے گا،
اگر اس کے برعکس ہوا، جمہوری و آئینی روایات کو پامال کیا گیا تو اس سے
جمہوریت ہی نہیں، بلکہ عوام کے جمہوریت پر اعتبار کو بھی شدید دھچکا لگے گا۔
اس لیے حکومت اور اپوزیشن کو اس اہم موقع پر جمہوری وقار اور آئین کی
بالادستی کو برقرار رکھنا چاہیے، جس طرح تحریک عدم اعتماد آئین کے مطابق پیش کی گئی ہے۔
اُسی طرح اس کے باقی تمام تمام مراحل بھی آئینی حدود میں رہ کر پورے کرنا فریقین کی ذمہ داری ہے۔
خرید و فروخت کے الزامات سے گریز کرنا ہی بہتر ہو گا۔
ہاں اگر کسی کے پاس ثبوت ہوں تو وہ ضرور قوم کے سامنے لائے جائیں۔

اس وقت جوڑ توڑ کا سلسلہ عروج پر ہے۔

وزیراعظم عمران خان بھی اپنے اتحادیوں اور پارٹی کے ارکان کو ساتھ رکھتے کیلئے پوری کوشش کر رہے ہیں-
اپوزیشن بھی اپنی عددی اکثریت بڑھانے کیلئے حکومت اور اُسکے اتحادیوں کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سیاسی ماحول گرم ہے، لیکن اسے کسی انتشار کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
اس عمل سے احسن طور پر گزر کر جو بھی نتیجہ سامنے آئے-
اُسے دونوں فریق کھلے دِل سے تسلیم کریں، تاکہ جمہوریت کا سفر اور
آئین کی بالادستی برقرار رہے اور ہم بغیر کسی نقصان کے ایک اور سنگ ِ میل عبورکر جائیں۔

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ،
جتن انتظامیہ

تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری ، تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری ، تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری
تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری ، تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری ، تحریک عدم اعتماد، آئین و جمہوری

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: