تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے…

سینئر صحافی و تجزیہ کار/ سید اظہر علی شاہ المعروف بابا گل تاریخ اپنے آپ کو دہرا

امریکہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ ہم نے اسلام کو ” خالص ” کرنے کے لیئے سعودی عرب میں اپنا دفتر قائم کیا ہوا ہے جسے ہم براہ راست وائیٹ ہاؤس سے مانئیٹر کر رہے ہیں ،

اس دفتر کے قیام کا مقصد اسلام میں سے سخت گیری اور (بقول امریکہ کے ) شدت پسندی کے عنصر کو ختم کرکے ایک خالص اسلام کو نافذ کرنا ہے ،

یہ باتیں سابق امریکی صدر کے دور حکومت میں اسوقت کے سیکرٹری سٹیٹ سینیٹر ٹیلرسن نے سینٹ میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتائیں ،

ٹیلرسن کا مزید کہنا ہے کہ ہم نئے سرے سے اسلامی سیلبس تشکیل دے کر کتابیں شائع کرارہے ہیں اور ان کتب کو نہ صرف سعودی عرب بلکہ دنیا کے کئی دیگر مسلم ممالک میں بھیج رہے ہیں ،ہم انکے آئمہ کو تنخواہیں بھی دے رہے ہیں تاکہ وہ اس نئے سیلیبس کو اپنے مدارس میں پڑھائیں اور اسے نافذ کرائیں ،

امریکہ کے اس اعلی عہدیدار کی یہ گفتگو دکھ اور افسوس کا باعث ضرور بن سکتی ہے مگر انکا یہ عمل یا یہ سازش کوئی نئی بات ہر گز نہیں ہے ، اگر یہ کہا جائے تو ہر گز غلط نہ ہوگا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے یعنی کہ اسلامی تعلیمات میں خود ساختہ تبدیلی اور اس تبدیلی کی بنیاد پر کسی نئے فرقے کا قیام عالمی سامراج کا قدیمی ایجنڈا ہے جس پر 97 برس پہلے بھی اسی طرح عمل کرتے ہوئے محمد بن عبد الوہاب کے زریعے سعودی عرب میں اسی فرقے کی بنیاد رکھی گئی تھی جسے آج وہ ایک مرتبہ پھر تبدیل یا ختم کرنے کے لیئے ایک نئی حکمت عملی کے زریعے اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں ،

فرق صرف اتنا ہے کہ 97 برس قبل (1924 میں) سلطنت برطانیہ نے یہ کام ھیمفرے نامی ایک جاسوس کے زریعے کیا تھا جب سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کیا جارہا تھا ، ھیمفرے کو اپنے اس کامیاب مشن کی وجہ سے عالمی شہرت بھی ملی اور برطانیہ کے سب سے بڑے سول اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا جو کہ بوجوہ اس نے قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ،

امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ نے 1980 میں پاکستان کو اپنے ایک نئے تجربہ گاہ کے طور پر استعمال کیا اور جہاد افغانستان کی آڑ میں پاکستان میں فرقہ پرست تنظیموں کی بنیاد رکھی ، عالمی طاقتوں نے اس فرقہ پرست تنظیم کے لیئے خودساختہ اسلامی تعلیمات پر مشتمل سیلبس بنایا ،انکی کتب شائع کرکے انکے مدارس تک پہنچائیں اور سعودی عرب کے زریعے انکے مدارس کو بھاری فنڈنگ کی ، اس طرح سے پاکستان کے اسلام میں اعتدال پسندی کا خاتمہ کرکے شدت پسندی کو فروغ دیا گیا اور قتل غارت گری کا ایک بے رحم سلسلہ شروع کرایا گیا ،

پاکستان میں عالمی طاقتوں کے اس گھناؤنے کھیل میں اسوقت کے خفیہ اداروں نے ڈالروں اور ریال کی لالچ میں بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالا،
ان عالمی طاقتوں نے اسلام میں شدت پسندی کو فروغ دے کر جو مذموم مقاصد حاصل کرنا تھے وہ کر لئے گئے ،

اور اب شدت پسندی کو جدت پسندی میں تبدیل کرنے کے لیئے ایک نیا اسلام متعارف کرانے کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کی ابتداء سعودی عرب سے ہوگئی ہے اور یہ مشن حسب سابق کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ،

اس تمام منظر نامے میں پاکستان میں تشکیل دی گئی وہ تمام شدت پسند جماعتیں پوری طرح خاموش بلکہ سکرین سے پوری طرح غائب ہیں جو مختلف حیلوں بہانوں کے ساتھ آئے روز سڑکوں پر نکل کر پولیس اور عام شہریوں کی قیمتی جانیں چھین کر اور انکی املاک کو آگ لگا کر خود کو سب سے بڑے اسلام پسند اور عاشق ثابت کرنے کی بھونڈی کوشش کرتی رہی ہیں ، ان تمام تنظیموں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو ،

تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے اگر تاریخ کے سیاہ اوراق کا غیر متعصبانہ مطالعہ کیا جائے تو یہ تلخ سچائی تسلیم کرنی پڑتی ہے کہ اسلام کو جب بھی نقصان پہنچا وہ مسلمانوں ہی کے ہاتھوں پہنچا ،اب یہ مسلمان فرضی ہیں یا حقیقی ،اللہ ہی بہتر جانتا ہے _

تاریخ اپنے آپ کو دہرا ، تاریخ اپنے آپ کو دہرا ، تاریخ اپنے آپ کو دہرا

رکی پونٹنگ انگلینڈ کے کپتان جو روٹ پر برس پڑے

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Imran Rasheed

عمران رشید خان صوبہ خیبر پختونخوا کے سینئر صحافی اور سٹوری رائٹر/تجزیہ کار ہیں۔ کرائمز ، تحقیقاتی رپورٹنگ ، افغان امور اور سماجی مسائل پر کافی عبور رکھتے ہیں ، اس وقت جے ٹی این پی کے اردو کیساتھ بحیثیت بیورو چیف خیبر پختونخوا فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ ادارہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: