۔۔۔۔۔ بیلی بٹن ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔ بیلی بٹن ۔۔۔۔۔۔

جیمی اپنے باپ کی نظروں میں باغی در باغی ہوتی چلی جا رہی تھی۔ یہ جیمی کی ماں تھی جو اس کا بھرم رکھ لیتی تھی۔

باوجود اس کے ہر روز کالج جانے سے قبل ناشتے کی میز پر باپ بیٹی میں تو تکرار شروع ہو جاتی تھی۔

کئی مرتبہ تو باپ کی ناشتے سے بھرپور پلیٹ مخالف فریق کے منہ یا چھاتی پر جا لگتی تھی۔

کبھی کبھار جیمی اور اکثر و بیشتر اس کی ماں اس عتاب کا نشانہ بنتے تھے۔

ایک مرتبہ تو حد ہو گئی، جیمی کالج کے ٹور پر جانا چاہتی تھی اور اس کا باپ اس پر قطعی راضی نہ تھا۔

جیمی کے لیے اجازت لینا اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ابھی سترہ کی تھی اور امیر باپ ہونے کے سبب اسے خرچہ بھی چاہیے تھا۔

باپ کے تھپیڑے وہ ایسے نہیں برداشت کرتی تھی اسے دال آٹے کا بھاو معلوم تھا۔

پڑھیں : کُتی سینکتا رہا اور دُولتًی دُولتی

باپ نے انکار کر دیا کہ کوئی ضرورت ہی نہیں جانے کی۔

اس دیس میں مسلمانوں کا یہ کلچر نہیں اور نہ اس کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

جیمی نے انکار سن کر باپ سے کہا کہ وہ بتا رہی ہے اجازت کی ضرورت نہیں۔

یہ سننا تھا کہ باپ نے چائے کا کپ ہی اس پر دے مارا۔ کالج کی یونیفارم شرٹ بھیگ گئی۔

شکر تھا کہ چائے کچھ ٹھنڈی تھی اور چیمی کے شاطر باپ کو اندازہ تھا کہ بیٹی کا جسم نہیں جھلسے گا۔

جیمی ۔۔۔ بس یا کچھ اور۔۔۔ کہہ کر اٹھی گھر سے باہر نکلی اور کالج جانے کے لیے بس سٹاپ کی جانب بڑھنے لگی۔

اسی دوران اس نے چلتے چلتے خود پر انڈیلی چائے والی بھیگی شرٹ اتاری

اور اسے فٹ پاتھ کے دوسری جانب گھاس پر پھینکتے ہوئے خوشی خوشی بولی تھینکس ڈیڈ۔

اس نے نیچے شارٹ پہن رکھی تھی۔ جیمی ٹور پر روانہ ہو چکی تھی

اسے معلوم تھا کہ گھر واپسی پر باپ کے ہاتھوں درگت بننا مقدر تھا۔

طلبہ کا یہ گروپ ایک خاص مقصد کے لیے پولینڈ گیا تھا۔ یاران نجد سبھی سترہ سال کے تھے۔

ان کے دیس میں اس عمر میں۔۔ پیرسنگ۔۔۔ ممنوع تھی۔

لڑکوں نے چہرے گردن مہرہ کے سوا جسم کے من پسند حصوں پر اور لڑکیوں نے ناف کے اردگرد پیرسنگ کروانا تھی۔

جیمی کا یہ پرانا خواب تھا جو پورا ہونے جا رہا تھا۔

اس کے باپ کو اس کی سہیلیاں اسی سبب نا پسند تھیں کہ انہوں نے اپنی اپنی زبان چھیدوا رکھی تھی۔

وہ ہر وقت اسی چھیدوانے کو برا بھلا کہتا تھا لیکن اسے کیا معلوم کہ اس کی اپنی جمیلہ خان یہ کام کروانے گی تھی۔

یہ بھی پڑھیں : بھارت میں ٹریفک قوانین توڑنے پر چالان نہیں، پھول ملے گا

ٹور سے واپسی پر گھر پہنچنے سے قبل جیمی نے بیگ کھولا اور شرٹ کے اوپر قمیض زیب تن کی اور بس سے اتر کر گھر کے قریب پہنچی۔

موبایل پر کال کی تو اس کی بہن نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے رسی سیڑھی نیچے لٹکا دی۔

جیمی سیڑھ چڑھ آئی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی چھوٹی بہن اور ماں سے گلے ملی۔

ماں نے بلا رد دعایں دیں اور پھر جیمی نے اپنا شاہکار بہن اور ماں کو دکھایا۔

ماں غش کھا کر بیڈ پر جا گری اگلے روز باپ نے بغیر اجازت جانے اور رقم چرانے پر چمڑے کی بیلٹ سے جیمی کو مارا۔

کمر پر لاسیں پڑ گیں۔ وہ کالج میں دن بھر ہنستے گاتے ہوئے فیلوز کو بیلی بٹن پیرسنگ دکھاتی رہی۔

برس بیت گئے خان صاحب کو معلوم نہ ہو سکا کہ جیمی شرٹ پہنتی تھی اور بیلی بٹن پر پیرسنگ ہو چکی تھی۔

قارئین ===> ہماری کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپ ڈیٹ رہنے کیلئے (== فالو == ) کریں،
مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں،شکریہ
جتن نیوز اردو انتظامیہ

۔۔۔۔۔ بیلی بٹن ۔۔۔۔۔۔ ، ۔۔۔۔۔ بیلی بٹن ۔۔۔۔۔۔ ، ۔۔۔۔۔ بیلی بٹن ۔۔۔۔۔۔

= پڑھیں = ذرا میری بھی سنو عنوان کے تحت مزید اہم اور معلوماتی خبریں

Dr Irfan Shehzad

A.R.Haider

شعبہ صحافت سے عرصہ 25 سال سے وابستہ ہیں، متعدد قومی اخبارات سے مسلک رہے ہیں، اور جرنل ٹیلی نیٹ ورک کی اردو سروس جتن نیوز اردو کی ٹیم کے بھی اہم رکن ہیں۔ جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: