بیت اللہ میں مولائے کائنات علی ابن ابو طالب ّ کی ولادت کا راز!

لاہور (خصوصی رپورٹ) بیت اللہ میں مولائے کائنات علی

تاریخ عالم بشریت میں 30 عام الفیل کو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو پہلے
کبھی ہوا تھا، نہ آئندہ کبھی ہو گا۔ یہ بینظیر اور بے مثل واقعہ اسوقت ایک
بچے کی خانہ کعبہ ( بیت اللہ ) میں دلادت ہونا تھا۔ یہ شرف حاصل کرنیوالی
عظیم ماں قبیلہ بنوہاشم کی محترم فاطمہ بنت اسدؑ اور پیدا ہونیوالا بچہ جس
کا نام بھی خود اللہ تعالیٰ نے ’’علی‘‘ رکھا سے منسوب ہے۔

علی علیہ السلام ’’ولید الکعبہ‘‘ ہیں

اسی بنا پر مولائے کائنات علی علیہ السلام کو ’’ولید الکعبہ‘‘ بھی کہا جاتا
ہے۔ مولائے کائنات علی علیہ السلام وہ ہیں کہ جن کے والد گرامی، اللہ کے
ولی حضرت ابو طالب علیہ السلام ہیں۔

بیت اللہ میں ولادت مولا علی علیہ السلام کے واقعہ کی روداد

صاحب مفاتیح الجنان مرحوم شیح عباس قمی نے ولادت مولا علی علیہ السلام
کی کیفیت یوں بیان کرتے ہیں ( جو بہت ساری روایتوں سے منسوب ہے ) شیخ
عباس قمی فرماتے ہیں مستند روایت ہے کہ 30 عام الفیل کے ایک دن عباس بن
عبدالمطلب ، یزید بن قعنب ، بنی ہاشم کے کچھ لوگ ، قبیلہ بنی العزی کی ایک
جماعت کے ہمراہ خانہ کعبہ کے برابر میں بیٹھے تھے، اچانک فاطمہ بنت اسد
جو حاملہ تھیں، مسجد کے دروازے سے داخل ہوہیں ، ان کے چہرے سے درد
زایمان نمایاں تھے ۔

فاطمہ بنت اسدّ کا بیت اللہ میں آنا ، واحدانیت کی گواہی دینا

اسی حالت میں خانہ کعبہ کے دروازے کے برابر میں کھڑی ہو گئیں ، آسمان
کی طرف رخ کیا اور کہنے لگیں ، خدایا میں تجھ پر ایمان لا چکی ہوں اور
تمہارے ہر پیغمبر اور رسول پر اور ہر اس کتاب پر جو تمہاری جانب سے
نازل ہوئیں اور اپنے جد ابراہیم خلیل کہ جنہوں نے تیرا یہ گھر ’’خانہ کعبہ‘‘
بنایا ہے، کی باتوں کی تصدیق کرتی ہوں-

مولائے کائنات کی ولادت میں آسانی کیلئے دعا

پس تجھ سے سوال کرتی ہوں اس گھر کے واسطے اور جس نے اس گھر کو
بنایا اس کے واسطے اوراس فرزند کے واسطے جو میرے بطن میں پل رہا ہے
اور میرے ساتھ باتیں کر رہا ہے اور اپنی باتیں کرنے میں میرا مونس بن چکا
ہے اور میرا یقین ہے وہ تمہارے جلال و عظمت کی نشانی ہے، میرے اوپر
اس کی ولادت آسان فرما۔

دیوار خانہ کعبہ میں شگاف ہونا ، بی بی پاک کا اندر جانا

عباس اور یزید بن قعنب نے کہا جب فاطمہ بنت اسدؑ یہ دعا مانگنے سے فارغ
ہوئیں تو ہم نے دیکھا خانہ کعبہ کی پچھلی دیوار میں شکاف پیدا ہوا اور فاطمہ
بنت اسدؑ اس کے اندر چلی گئیں، اور پھر خدا کے حکم سےیہ شکاف آپس میں
مل گیا ، ہم نے جب دروازہ کھولنے کی کوشش کی تو ناکام رہے، کسی بھی
حالت میں دروازہ نہ کھل سکا ، ہم جان گئے کہ یہ کا م خدا کی طرف سے
واقع ہوا ہے اور اس طرح فاطمہ بنت اسد تین روز کعبہ کے اندر رہیں-

چار روز تک مکہ میں واقعہ کا ہر خاص و عام کی زبان پر چرچہ

مکہ کے لوگ کوچوں اور بازاروں میں اس واقعہ کو نقل کرتے تھے اور
عورتیں اس حکایت کو یاد کر کے تعجب کرتی تھیں، یہاں تک کہ چوتھا دن
چڑھ گیا ، وہی شگاف کی جگہ پھر کھل گئی، فاطمہ بنت اسدؑ اپنے بیٹے
اسد اللہ غالب ـ’’علی ابن ابی طالب کو ہاتھوں میں لئے باہر آئیں اور کہا
اے لوگو! حق تعالی نے مجھے اپنی مخلوق میں منفرد فضیلت دی ہے۔

= پڑھیں = سیرت خاتون جنت سیدہ فاطمة الزاہرہؑ

خداوند عالم نے اس نورانی مولود اور ان کی والدہ ماجدہ ؑکی اپنے گھر میں
تین دن تک بہشتی غذائوں سے خوب مہمان نوازی کی اور اس نو مولود کا
نام بھی خود خداوند منان نے تجویز کیا۔

ہاتف غیبی سے آواز بچے کا نام ” علی ” رکھو

ہاتف غیبی کے ذریعہ مجھے ( فاطمہ بنت اسد ؑ) کو رب العزت نے پیغام
بھیجوایا۔ اے فاطمہ اس کا نام "علی ” رکھو کیوں کہ وہ "علی” ہے (بہت
بلند) ہے اور اللہ علی الاعلی کہتا ہے میں نے اس کے نام کو اپنے نام سے
بنایا ہے اور اپنے ادب کے مطابق اس کی پرورش کی ہے اور اس کو اپنے
علم کی پیچیدگیاں سیکھائی ہیں، یہی میرے گھر میں رکھے بتوں کو توڑیگا-

مولا علیّ کی گُھٹی (پہلی خوراک ) لوآب دہن رسول اللہْ

جب جناب فاطمہ بنت اسد ؑباہر آئیں تو ایک شخص نے جلدی سے جا کر جناب
ابوطالب ؑکو مولائے کائنات کی ولادت کی بشارت دی، جناب رسالت مآب حضرت
محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بھی یہ خوشخبری پہنچی اور سب استقبال
کیلئے خانہ کعبہ کی طرف بڑھے۔ حضرت ختمی مرتبت ؐ نے مولا کو اپنی آغوش
مبارک میں لیا، اپنی زبان کو مولا کے دہن مبارک میں دیا اور کان میں اذان اور
اقامت کہی۔

خانہ کعبہ میں رازِ ولادت مولا علی علیہ السلام کیا..؟

جناب مریم جن کی اتنی عظمت ہے کہ قرآن ان کو معصومہ کہتا ہے، جن کے
فرزند اولوالعزم پیغمبرّ ہیں، جب انہیں درد زایمان کا احساس ہوا اور ولادت کا
وقت قریب ہوا تو خداوند عالم نے حکم دیا کہ مسجد سے باہر چلی جائیں کیونکہ
یہ عبادت گاہ ہے، لیکن جب جناب فاطمہ بنت اسد ؑکے یہاں ولادت کا وقت قریب
آیا تو بی بی کو الہام کے ذریعہ حکم ہوا کہ دنیا کی مقدس ترین جگہ، خانہ کعبہ
میں داخل ہوجائیں اور خود خانہ کعبہ نے اپنی دیوار شگافتہ کر کے استقبال کیا-

امت مسملہ کیلئے توجہ دینے کی ضرورت

اگر توجہ کی جائے تو آسانی سے سمجھ میں آجائیگا کہ اس حیرت انگیز کام کے
پیچھے اللہ تبارک و تعالی کی حکمت یہ ہے کہ مولاعلی اور خاندان مولا علی علیہ
السلام کی عظمت کو بتایا جائے۔

اللہ تعالیٰ کا فضیلت اہل بیت کی اہمیت بتانا

اللہ جل جلالہ اور اہلبیت علیہ السلام کے درمیان جو رشتہ ہے اسے سمجھا جائے۔
توحید و ولایت اہلبیت علیہ السلام کے درمیان جو رابطہ ہے اسکا ا دارک کیا جائے۔
توحید کی شرط ولایت اہلبیت علیہ السلام ہے، جس طرح حدیث سلسلۃ الذھب میں
امام رضا علیہ السلام نے بیان فرمایا اور اس کے مشابہ بہت سی دیگر احادیث میں
بھی بیان ہوا ہے، کہ توحید اللہ کا مضبوط قلعہ ضرور ہے لیکن اس کی شرط ولایت
اہل بیت علیہ السلام ہے۔

عشق علیّ ہی مومن اور منافق کی پہچان

تمام عبادتوں کی قبولیت کا دار و مدار بھی اہل بیت علیہ السلام کی ولایت پر ایمان
رکھنا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے تمام مسلمان اس بات پر غور کریں تاکہ صراط مستقیم
کی ہدایت حاصل ہو سکے۔ کیونکہ مولا علی علیہ السلام ہی کی محبت ہی حلالی و
حرامی کی پہچان ہیں، اہل ایمان کی نشانی حُب علی اور مفافق کی پہچان بغض علی
علیہ السلام ہے-

حوالہ جات

1۔بحارالانوار، ج35، ص9، ذیل حدیث 11
2۔بحار، ج35، ص18؛ اعلام الدای، ج2، ص50
3۔سورۃ مریم
4۔سن الدای، ص129
5۔ر.ک: توحید صدوق
—- نوٹ —- جتن نیوز اردو کی جانب سے تمام اُمہ کو جشن ظہور مولائے کائنات مبارک

= یہ بھی پڑھیں = من کنت مولا ہ فہذا علی مولا ہ جس جس کا میں مولا ، اس اس کا علی مولا

بیت اللہ میں مولائے کائنات علی ، بیت اللہ میں مولائے کائنات علی ، بیت اللہ میں مولائے کائنات علی

۔۔۔ نوٹ ۔۔۔ قارئین ہماری کاوش پسند آئے تو ’’ فالو ‘ کریں ، مزید بہتری کیلئے اپنی قیمتی آرا سے بھی ضرور نوازیں، شکریہ،

جتن انتظامیہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: