بھرتی کے وقت حقائق چھپانے والے سرکاری ملازم ہمدردی کے حقدار نہیں، لاہور ہائیکورٹ

لاہور(جے ٹی این پی کے) بھرتی کے وقت حقائق چھپانے والے

لاہور ہائیکورٹ نے بھرتی کے وقت حقائق چھپانے کی بنیاد پر نوکری سے فارغ کئے گئے سرکاری بینک کے افسر کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھرتی کے وقت حقائق چھپانے والے سرکاری ملازم کسی بھی ہمدردی کے حقدار نہیں۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد شان گل نے سابق بنک افسر ندیم صادق بھٹی کی درخواست پر 11 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخواست گزار نے نیشنل بنک میں گریڈ 3 کی ملازمت اختیار کرتے وقت قتل کے مقدمہ میں ملوث ہونے کے حقائق چھپائے،

درخواست گزار ندیم نے پولیس تصدیق کا سرٹیفکیٹ بھی بنک کو پیش نہیں کیا،

بنک ملازمت کے بعد دوسرے کیس میں ملوث ہونے سے متعلق بھی بنک حکام سے حقائق چھپائے گئے،

یہ بھی پڑھیں:خاتون اول کی تضحیک پرمریم نواز کی گرفتاری کی درخواست دائر

قتل کے مقدمہ میں راضی نامہ درخواست گزار کے نوکری سے فارغ ہونے کے بعد ہوا۔

فیصلے کے مطابق فوجداری کیسز میں بری ہونے کا موقف اہمیت نہیں رکھتا،

درخواست گزار کا حقائق چھپانا قابل غور ہے، درخواست گزار نے حقائق چھپا کر بنک کے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ،

درخواست نے بنک کو نہ صرف دھوکہ دینے کی کوشش کی بلکہ کسی حد تک کامیاب بھی ہوا،

انکوائری شروع ہونے پر بنک نے از خود درخواست گزار کے خلاف تحقیقات کیں،

درخواست گزار نے 19 فروری 2013 کو نیشنل بنک میں ملازمت اختیار کی تھی،

پولیس تصدیقی سرٹیفکیٹ میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر 20 فروری 2015 کو درخواست گزار کو نوکری سے فارغ کردیا گیا تھا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

 

admin

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہونے والے اہم حالات و واقعات اور دیگر معلومات سے آگاہی کا پلیٹ فارم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

%d bloggers like this: